ہوم << میری یادیں – میر افسر امان
600x314

میری یادیں – میر افسر امان

تبصرہ کتاب:میری یادیں
از:محمد نعیم مغل

محمد مغل نعیم میرے شہر دار اور پرانے دوست ہیں۔ ان کا جماعت اسلامی سے تعلق ہے۔ مطالعہ کے شوق کی وجہ سے میں اکثر انہیں اپنی کتابیں تحفتاً پیش کرتا رہتا ہوں۔ وہ میرے فیس بک کے بھی پرانے دوست ہیں۔ فیس بک پر وہ حضرو ہمارے آبائی و پیدائشی شہر اور اس کے پرانے محلے گلی کوچوں کے بارے لکھتے رہتے ہیں، جسے بہت پسند کیا گیا۔

خاص کر حضر و شہر، مین بازار کے اندر ایک ’مہاجرین کی مسجد‘ جامع مسجد، جسے مقامی چھاچھی یا ہند کو زبان میں (مہاجراں نی مسیت) کہتے ہیں کے بارے میں معلوما ت ہیں۔ فیس بک پر معلومات دیکھ کر میں نے محمد نعیم مغل سے درخواست کی کہ اسے کتابی شکل دیں۔ اسی طرح حضرو شہر کی تعلیمی، علمی و ادبی،کئی کتب کے مصنف ڈاکٹرخاور چودھری نے بھی انہیں ایسا ہی کہا۔ اس کتاب کو محمد نعیم مغل کی آپ بیتی کہیں یا ’مہاجراں نی مسیت“کی آپ بیتی کہیں،آپ اس تبصرے کو پڑھ کر رائے قائم کر سکتے ہیں۔محمد نعیم مغل نے مجھے یہ دو عدد کتب دیں، ساتھ ہی ساتھ تبصرے کے لیے بھی کہا۔ اس کتاب کو تحریر میں لانے کے محور، ڈاکٹرخاور چودھری، کتاب کے تعارف بعنوان نصف صدی کاقصہ میں لکھتے ہیں مصنف حضروشہر کی چلتی پھرتی تاریخ ہیں۔ انھیں کہانی سنانے کا فن آتا ہے۔جس کے پیچھے سید مولانا ابوالاعلیٰ موددیؒ کا وہ لیٹریچر ہے، جسے اوائل عمرمیں انھوں نے پڑھنا شروع کیا۔

یہ’مہاجراں نی مسیت‘ سے وابستہ شخصیات کی تاریخ کا احوال ہے لیکن درحقیت یہ نصف صدی پہلے کے حضرو کی معاشی اور معاشرتی تاریخ ہے۔ہندوستانی پنجاب، کشمیراور ہندوستان کے دیگر علاقوں سے آنے والے مہاجرین اپنی ثقافت اور ہنر مندی کے ساتھ جب اس تاریخی شہر حضرو میں وارد ہوئے تو انھیں دہی معاشرت سے واستہ پڑا۔نئے آنے والوں کو ہنددؤں سکھوں کے مکانات دکانیں الاٹ ہوئیں مگرمرکزِ شہر میں مسجد کی کمی محسوس ہوئی۔ایسے میں ’مہاجراں نی مسیت‘کابننا کس قدر فرحت افزا رہا ہوگا۔محمد نعیم مغل حضرو شہر کی تاریخ اور اس مسجد کی تعمیر میں مقامی اور مہاجر حضرات اور دیگر وابستگان کاذکر کیا۔ کتاب کے ابتدائیہ میں محمد نعیم مغل لکھتے ہیں۔کچھ مدت پہلے میں نے مرکزی جامع مسجد کے بارے کچھ تصاویر اپ لوڈ کی تھیں۔پھر دوسروں تک معلومات پہنچانے کے لیے میں مسجد کے بارے کھوج لگانا شروع کیا۔مسجد کی تعمیر میں مہاجرین نے مقامی لوگوں کے ساتھ مل کربہت کوششیں کیں۔اس وجہ سے اس مسجد کا نام’مہاجراں نی مسیت‘ زد عام ہو گیا۔معلومات جمع کرنے میں کافی دوستوں نے میری مدد کی، جو فیس بک پر اپ لوڈ کرتارہا۔

اپنے بارے میں لکھتے ہیں۔ہمارے خاندان کا سلسلہ مغل بادشاہ ظہیرالدین بابر تک جاتا ہے۔۷۵۸۱ء کی جنگ آزادی کے بعدبہادر شاہ پر افتاد پڑی، تو حضرو میں بھی کچھ شہزادے آئے۔ جن میں ایک کا نام’مدھو بیگ‘ تھا جو بعد میں مدو بابا کے نام سے جانے لگے۔ان کی قبرمدو بابا قبرستا ن حضرو کی چوٹی پر واقع ہے۔بزرگوں کے مطابق یہ ہمارے خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔موجودہ خاندان کا سلسلہ ہمارے جد امجدمیاں جلال دین سے شروع ہوتا ہے، ان کے بیٹے حاجی فضل دین ہمارے پرداد تھے۔ان کے بیٹے میاں عبداللہ ہمارے دادا جان تھے۔ان کے بیٹوں میں،ہمارے ابا جی،میاں غلام محمد ہیں۔میں اپنی چار بھائیوں میں دوسرے نمبرپر ہوں۔ہمارے نانا جان کا نام سراج دین تھا۔لکھتے ہیں جب ۷۴۹۱ء میں بھارتی پنجاب،کشمیر اور ہندوستان کے دیگر علاقوں سے مسلمان حضرو تشریف لائے تو یہاں حضرو میں کوئی بڑی جامع مسجد نہیں تھی۔ مہاجروں اور مقامی مسلمانوں نے حاجی مجدد،حاجی عبدالقیوم،حاجی ایوب،حاجی محمود، ابا جی میاں غلام محمد،چاچا جی میاں غلام یوسف،غلام نبی، عبدالرحمان،،مولوی یوسف، بشیرقریشی اور بازار کے چند دکانداروں پر مشتمل ایک مسجدکمیٹی تشکیل دی۔

حضرو شہر کے ’ہری مندر‘ کے سامنے پلاٹ خالی تھا۔ اس پلاٹ کو نیلام میں بولی لگا کر ۰۰۲۲ روپوں میں خریدا گیا۔مسجد کے لیے فنڈ اکٹھا کرنے کے لیے حضرو میونسپل کمیٹی کے چیئر مین سیٹھ داؤدڈار اور نائب چیئرمین بشیرقریشی نے جائیداد کی خرید و فروخت پر مسجد فنڈ کی شرط لگا دی، جس سے کافی فنڈ جمع ہو گیا۔مسجد کے سنگ بنیاد رکھنے کے لیے لاہور سے مولانا محمد لاہوری علیؒ کو بلایا گیا۔اللہ نے جلد ہی مقامی اور مہاجروں کی کوشش سے جامع مسجد مکمل فرمادی۔ جو’مہاجراں نی مسیت‘ کے نام سے مشہور ہو گئی۔لکھتے ہیں اس مسجد کے پہلے امام و خطیب،مدرسہ کے مہتمم مولانا عبدالسلام، جو چھچھ کے موضع ویسہ کے رہنے والے تھے۔اور اب حافظ محمد اویس مسجد اور مدرسہ خوش اسلوبی سے چلا رہے ہیں۔اس مسجد کے پہلے موذن عارف تھے۔اب تک مختلف موذن مسجد کا انتظام چلا رہے ہیں،مسجد کے خطیب قاری سعید الرحمان مسجد کی تعمیر کے وقت سے خطاب فرماتے رہے۔مولانا احتشام الحق تھانویؒ نے بھی تین دفعہ خطاب فرمایا۔

مولانا مفتی محمودؒ نے بھی خطاب فرمایا۔شیخ القرآن مولانا غلام اللہ ؒ چھچھ کے مشہور گاؤں دریاشریف نے بھی خطاب فرمایا۔لکھتے ہیں ’مہاجراں نی مسیت‘ کے اردگرد موچی بازار میں کوہاٹی چپل اور طلے والے جوتے، جسے مقامی زبان میں ’کھیڑی‘ کہتے ہیں ملتے ہیں۔عورتیں ان جوتوں کے پنوں اور پچھڑیوں کو طلے سے کڑھائی کرتیں تھیں۔ اس طرح اُس وقت یہ ایک کھریلو صنعت تھی۔تاریخی مقامات میں غوثیہ مسجد،،سرکارموتیاں والی، تکیہ، مسجد گلزار حبیب،دالگراں بازار میں چھوٹاساکوٹھڑی نما کمرہ، اندر چھوٹی سی کھوئی پر نلکا آج بھی موجود ہے۔ سبزی بازار میں لوگ سبزیاں، فروٹ خریدنے آتے تھے۔اُس دور میں ہانڈی کٹوی پکانے کو’چاہڑنا‘ کہتے تھے،جیسے کہ’آج کیا چاہڑاہے‘ یعنی کیا پکایاہے۔ اس کے آگے چاچا فقریاپٹیالہ والے کی پان،بیڑی،سگریٹ کی دکان تھی، جو رات گئے تک کھلی رہتی تھی۔منیاری بازار میں چچا عبدالرؤف نرتوپہ والے کی دکان، ماسٹر غلام رسول درزی ضلع پونچھ والے،جماعت اسلامی کے مقامی امیر حاجی مجدد کی کپڑے کی دوکان جو حال ہی میں وفات پا چکے۔حاجی انور نرتوپہ والے کی منیاری دکان ہے۔

لکھتے ہیں حاجی مجدد، حاجی انور اورحاجی محبت خان تینوں جماعت اسلامی حضرو میں جماعت اسلامی کے بانی ہیں۔ ہماری کپڑے کی دکان حاجی مجدد کے سامنے ہی تھی۔مصنف حاجی مجدد سے مولانا سید ابوالاعلیٰ مودددیؒ کی کتابیں پڑھنے کے لیے لیتا رہا۔مصف نے سید مودودی ؒ سے خط وکتابت بھی کی۔لکھتے ہیں صوبہ سرحد میں ایشیا کی خرید و فروخت کے لیے جو پیمانے استعمال ہوتے اسے ’پکے وٹے‘ کہا جاتا تھا۔یہ الفاظ سودے بازی میں استعمال ہوتا۔ یعنی بھاؤ تول ختم پکی بات۔حلوائی بازار میں حلوایوں اور دزیوں کی دکانیں تھیں۔ماسٹر یونس،جو یونس چاچا، تیتر والے کے نام سے مشہورتھا، کی دکان ایک حجرہ یا بیٹھک نما تھی۔جہاں ہر وقت رونق میلہ لگا رہتا تھا۔ اس زمانے میں ہر کسی کوتیتر پالنے کا شوق تھا۔پٹیالہ اور امرت سر سے آئے ہوئے عبدالطیف،غلام رسول،غلام شبیر اور دیگر کی حلوائی کی دکانیں تھی۔اس سے آگے ایک خوبصورت ماڑی ہے جوپہلے کشمیر ی بینک تھااب بھی موجود ہے۔

ایک طرف ’بھائیاں والی گلی میں کشمیر پونچھ سے آئے لوگ رہتے تھے۔ آگے بڑھیں تو ’سیٹھاں نی گلی‘یہاں بزرگ سیٹھ محمد داؤد ڈار، تین بار بلدیہ حضرو کے چیئر مین کے خاندان کے مکان ہیں۔’مہاجراں نی مسیت‘ بنانے میں ان بڑا کردار رہا۔اس دور میں مدینہ کی طرح انصار اور مہاجرین والامعاملہ تھا۔سردی سے بچنے کے لیے کشمیری اپنی دکانوں پر آتے ہوئے صبح کانگڑی ساتھ لاتے جس میں گرم کوہلے ہوتے۔ والو والا ریڈیوہوتا تھا۔مخصوص اوقات میں خبریں نشر ہوتیں۔(راقم) کو یادہے شام پانچ بجے ریڈیو’تڑال کھل کشمیر‘سے میر صاحب اور اللہ لوکی نام، سے بھارت کے خلاف پروگرام نشرہوتا تھا۔۵۶۹۱ء انوربہزادخبروں میں بتاتے، پاک فضایہ نے جام نگر، آدم پور، ہلواڑہ اورفیروز پورپر حملے کیے۔ایک ٹیڈی پیسہ میں ٹینک:اس دور میں جگہ جگہ دفاعی فنڈ کے ڈبوں پر لکھاہوتا تھا، لوگ ہنسی خوشی سے دفاعی فند میں بڑھ چڑھ کر حصے ڈالتے۔لکھتے ہیں بجاجی بازار میں رنگ برنگ کے کپڑے جن میں دل پیاس،ساٹن،ستارہ ٹیکسٹائل ملز گرم لباس، عورتوں کی چھاچھی رواج والی چھیل دست یاب تھے۔

صرافہ بازار میں شمسیوں کی دکانیں تھی۔آغاخان اسماعیلی برادری سے تعلق تھا۔کچھ مدت بعد یہ سنی العقیدہ ہو گئے۔کوٹلہ بازار کھلا تھا۔ہٹیاں محلہ/ کشن گنج: حضرو شہر سے باہرایک محلہ تھا۔اس محلے کے آس پاس حکومت کے دفاتر تھے۔لکھتے ہیں ان دنوں ہم ڈہری والے پرائمری اسکول میں پڑھتے تھے۔راجہ سلطان نے بتایا سنگ مر مرعمارت سکھوں کی عبادت گاہ تھی۔منشی سبحان چچا امرت سر سے آئے تھے۔ان کا وثیقہ نویسی اور اسٹام فروشی کاپیشہ تھا۔’مہاجراں نی مسیت‘ کی خدمت میں شملہ سے آئے تین بھائی،حاجی عبدالقیوم،حاجی ایوب اورحاجی محمود پیش پیش تھے۔آگے مسجد شہید بابا جس کے قریب شہید بابا کا مزار ہے۔ یہ مسجد عجب خان نے بنائی تھی۔ گلی میں تین منزلہ پتھر سے بنی مارٹی میں شاجہان پور ہندوستان سے آئے تین بھائی سعادت علی،وارث علی اور امتیاز علی رہتے تھے۔ لکھتے ہیں اسی گلی میں میرے پیارے ددست محمد انور بٹ(راقم کے خالہ ذات بھائی) کا گھر تھا۔

لکھتے ہیں ہمارے گھر کے پچھواڑے ایک بلڈنگ میں مرحوم سیٹھ سردار بہادر (راقم کے رشتہ دار)کا نسوار کاکارخانہ تھا۔مسجد قصاباں کے بارے لکھتے ہیں دوسو سال پرانی مسجد ہے۔گورنمنٹ ہائی اسکول حضرو میں ساٹھ کی دھائی میں داخل ہوئے۔علاقہ چھچھ کے چوراسی گاؤں پر مشتمل ایک سکول، مگر کمرے کشادہ کھیل کا گراؤنڈ، ظفر خان پی ٹی ماسٹر،عزیز احمد ہیڈ ماسٹر، اور دیگر اساتذہ کا ذکر کیا۔(راقم نے ۳۶۹۱ء میٹرک اسی اسکول سے کیا)’میلہ اٹک خورد‘ بارے لکھتے ہیں سندھ کنارے معروف بزرگ سید صدرالدین شاہ کی یاد میں لگتا ہے۔ اس میں شریک ہوئے۔کتاب کے آخر میں ’تاریخی شہر پشاور کے متعلق معلومات تفصیل بیان فرمائیں۔تاریخی گھنٹہ گھر،قصہ خوانی بازار،مسجد قاسم خان۔ گھڑیال کی مشینری پر اس کتاب کا اختتام ہوتا ہے۔یہ کتاب پراناتاریخی حضرو شہر کاانساکلوپیڈا لگتی ہے۔چھچھ کے مکینو ں، دیار غیر میں رہنے والے چھاچھی حضرات اور پرانے شہروں سے محبت رکھنے والے حضرات، اس کتاب کا مطالعہ مفید رہے گا۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

میر افسر امان

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment