ہوم << یادوں کا غبار – آمنہ خالق
600x314

یادوں کا غبار – آمنہ خالق

ادب کی دنیا میں کچھ کتابیں محض الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتیں بلکہ وہ مصنف کے خونِ جگر، روح کی سچی گواہی اور زیست کے کٹھن سفر کا ایک ایسادستاویز ہوتی ہیں جو پڑھنے والے کے دل پر انمٹ نقوش چھوڑ جاتی ہیں۔ ”یادوں کا غبار“عرفان علی عزیز کی ایک ایسی ہی آپ بیتی کتاب ہے، جو صرف ایک فرد کی داستان نہیں بلکہ ایک ایسے عہد کا مرقع ہے جو درد و الم، سیاسی تلخیوں، مذہبی وابستگیوں، صحافتی مشقتوں اور محنت و مزدوری کی بھٹی سے کندن بن کر نکلا ہے۔

عرفان علی عزیز کا قلم کسی ایک دائرے کا محتاج نہیں۔ وہ بیک وقت ایک حساس شاعر، گہری بصیرت رکھنے والے مورخ، واقعات کی نبض پہچاننے والے وقائع نگار، اور دلوں کے تار جھنجھوڑنے والے افسانہ و ناول نگار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی یہ آپ بیتی عام سوانح عمریوں کی طرح تاریخ اور سن و سال کا خشک مجموعہ نہیں ہے، بلکہ ادبی چاشنی، فلسفیانہ گہرائی اور زندگی کی تلخ حقیقتوں کا ایک دلکش سنگم ہے۔

زندگی کے نشیب و فراز اور درد کی داستان
یادوں کا غبار کا سب سے طاقتور پہلو اس کا درد اور سچائی ہے۔ انسان جب اپنی زندگی کے ورق پلٹتا ہے تو اکثر خوشگوار یادوں کو سمیٹتا ہے، لیکن عرفان علی عزیز نے اس کتاب میں اپنی زندگی کے ان گہرے زخموں کو بھی بے نقاب کیا ہے جو زمانے کی سنگدل روایات اور حالات کے جبر نے لگائے۔ یہ کتاب دکھوں کی ایک طویل داستان ہے، جہاں قدم قدم پر آزمائشوں کے پہاڑ ٹوٹے، مگر مصنف کے عزم میں لغزش نہیں آئی۔ غریبی، بے بسی، اور اپنوں اور پرایوں کی بے رخی کے جو مناظر اس کتاب میں ملتے ہیں، وہ پڑھنے والے کی آنکھیں نم کرنے کے لیے کافی ہیں۔ یہ دکھ محض ذاتی نہیں ہیں، بلکہ یہ اس معاشرتی المیے کی عکاسی کرتے ہیں جہاں ایک حساس اور فکری انسان کو زندہ رہنے کے لیے کتنی بھاری قیمت چکانی پڑتی ہے۔عرفان علی عزیز کا فکری سفر سیاسی اور مذہبی رجحانات سے بھرپور ہے۔ زندگی کے مختلف موڑپہ انہوں نے سیاست کی مکہ بازی، اس کے تضادات اور مفاد پرست چہروں کو بہت قریب سے دیکھا ہے۔ کتاب میں سیاسی وابستگیوں اور ان کے نتیجے میں ملنے والی تنہائی اور مایوسی کا ذکر بڑے بلیغ انداز میں کیا گیا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ، مذہب اور روحانیت سے ان کا گہرا لگاؤ اس آپ بیتی کا ایک روشن پہلو ہے۔ مذہبی عقیدت، فکری ارتقاء اور شریعت و طریقت کی بابت ان کے مشاہدات نے ان کی شخصیت کو توازن بخشا۔ سیاست کی دھول اور مذہب کی پاکیزگی کے اس امتزاج نے ان کی زندگی کو جس کشمکش سے دوچار کیا، مصنف نے اسے انتہائی دیانت داری کے ساتھ صفحہ قرطاس پر بکھیر دیا ہے۔صحافت کو جمہوریت کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے، مگر اس کے اندرونی کرب سے صرف وہی واقف ہے جس نے قلم کو روٹی کا ذریعہ یا نظریے کی تلوار بنایا ہو۔ عرفان علی عزیز کی زندگی میں صحافت کا باب جدوجہد اور استقامت کی ایک روشن مثال ہے۔ سچ لکھنے کی پاداش میں ملنے والی صعوبتیں، خبر کی تلاش میں سرگردانی، اور صحافتی اصولوں پر کاربند رہنے کی قیمت انہوں نے جس خلوص کے ساتھ چکائی ہے، وہ آج کے دور کے صحافیوں کے لیے ایک درسِ عبرت اور مشعلِ راہ ہے۔ انہوں نے واقعات کو صرف دیکھا نہیں بلکہ ان کی تہہ تک اتر کر تاریخ کے اوراق میں انہیں محفوظ کیا۔

محنت، مزدوری اور پکے ارادے کی داستان
“یادوں کا غبار” کا سب سے زیادہ متاثر کن اور روح فرسا حصہ وہ ہے جو محنت اور مزدوری کی داستان بیان کرتا ہے۔ ایک ایسے ادیب اور قلم کار کے لیے جو الفاظ کے موتی پروتا ہو، جسمانی مزدوری کی بھٹی میں تپنا اور روٹی کی خاطر خون پسینہ ایک کرنا، انتہائی جگر سوز عمل ہے۔ عرفان علی عزیز نے رزقِ حلال کی تلاش میں جن سخت ترین حالات کا سامنا کیا، پسینے کی جو بوندیں بہائیں اور غربت کے باوجود اپنی خودداری کو آنچ نہیں آنے دی، وہ اس کتاب کے سب سے تابناک ابواب ہیں۔ یہ محنت کشی صرف ایک فرد کی کہانی نہیں ہے، بلکہ یہ اس محنت کش طبقے کی آواز ہے جس کے دم سے دنیا کی رنگینیاں قائم ہیں۔بلاشبہ عرفان اس وقت ہمہ گیر شخصیت ہے روپ میں ہے۔ ایک ناول نگار ، افسانہ نگار کالم۔ نگار، شاعر ، مزدور کے سب روپ میں نظر آتا ہے۔اس آپ بیتی کی فنی خوبصورتی یہ ہے کہ اس میں عرفان علی عزیز کی تمام علمی و ادبی جہتیں بیک وقت جلوہ گر ہیں۔ کتاب کے بیانیہ میں جابجا ایک شاعر کی تڑپ، استعاروں کا حسن اور قلبی واردات کی لطافت محسوس ہوتی ہے۔ دکھ کے لمحوں کو بھی شعر کی سی نفاست سے بیان کیا گیا ہے۔

مصنف نے ذاتی حیات کو قومی اور تاریخی پس منظر میں رکھ کر دیکھا ہے۔ ان کا مشاہدہ زمان و مکاں کی وسعتوں کو محیط ہے۔ کتاب کے واقعات میں جو تسلسل، پلاٹ کا کھچاؤ، کردار نگاری اور مکالماتی انداز پایا جاتا ہے، وہ ایک کہنہ مشق فکشن رائٹر کا ہی کام ہو سکتا ہے۔ زندگی کے تلخ حقائق کو افسانوی رنگ اور دلکش نثر میں ڈھالنے کا ہنر اس کتاب کا خاصہ ہے۔یادوں کا غبار عرفان علی عزیز کی حیاتِ مستعار کا نچوڑ اور ان کے فکری سفر کا حاصل ہے۔ یہ کتاب آنے والے دنوں میں نہ صرف ان کی شخصیت کو سمجھنے کے لیے ایک بنیادی حوالہ رہے گی، بلکہ ان تمام لوگوں کے لیے ایک مرہم کا کام کرے گی جو زندگی کی راہوں میں مشکلات، ناکامیوں اور دکھوں کا شکار ہو کر ہمت ہار جاتے ہیں۔ یہ کتاب سکھاتی ہے کہ حالات چاہے کتنے ہی تاریک کیوں نہ ہوں، قلم کی حرمت، محنت کا وقار اور نظریے کی سچائی انسان کو ہمیشہ زندہ رکھتی ہے۔ عرفان علی عزیز نے اپنے آنسوؤں اور پسینے سے جو داستان لکھی ہے، وہ ہمیشہ اردو ادب کے ماتھے کا جھومر رہے گی۔

دیکھ لیں زخم دل پہ میرے
کرو تم شمار کس لیے
بسترِ مرگ پر اٹھا ہوں ابھی
پڑے ہو تم بیمار کس لیے

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment