معلم کا مقام و مرتبہ انسانی معاشرے میں ہمیشہ سب سے بلند، محترم اور قابلِ تکریم رہا ہے۔ استاد وہ عظیم ہستی ہے جو انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر علم و آگہی کی روشنی سے روشناس کراتی ہے۔ وہ صرف کتاب کے اسباق نہیں پڑھاتا بلکہ زندگی کو سمجھنے، اچھے اور برے میں تمیز کرنے اور ایک باکردار انسان بننے کا سلیقہ بھی عطا کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سماج کی تعمیر و ترقی میں معلم کے کردار کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔
تعلیمی اداروں اور مدارس کی رونقیں دراصل اساتذہ کرام کی محنت، اخلاص اور شبانہ روز جدوجہد سے قائم رہتی ہیں۔ ایک استاد اپنی ذات کو پسِ پشت ڈال کر نسلِ نو کے مستقبل کو سنوارنے میں مصروف رہتا ہے۔ وہ اپنے شاگردوں کی کامیابی کو اپنی کامیابی اور ان کی ناکامی کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ یہی جذبۂ خدمت معلم کو معاشرے کی دیگر شخصیات سے ممتاز مقام عطا کرتا ہے۔استاد کے عالمی دن کی مناسبت سے ہمیں اس عظیم ہستی کے مقام و مرتبے کو یاد کرنا چاہیے اور اسے عزت و احترام دینے کا عہد کرنا چاہیے۔ استاد محض ایک ملازم نہیں بلکہ ایک قوم کا معمار، ایک نسل کا مربی اور معاشرے کا رہنما ہوتا ہے۔ اسے عزت دینا دراصل علم، تعلیم اور مستقبل کو عزت دینا ہے۔استاد کو بجا طور پر روحانی باپ کا درجہ دیا جاتا ہے۔ والدین انسان کو دنیا میں لاتے ہیں، جبکہ استاد اسے زندگی گزارنے کا شعور، علم اور آگہی عطا کرتا ہے۔ ایک اچھا استاد اپنے شاگرد کے اندر چھپی صلاحیتوں کو پہچانتا، اسے نکھارتا اور اسے معاشرے کا مفید فرد بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کی محنت کا ثمر کبھی ایک طالب علم کی کامیابی، کبھی ایک خاندان کی خوش حالی اور کبھی پوری قوم کی ترقی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
راقم الحروف کو اپنی زندگی میں بے شمار اساتذہ کرام سے علم حاصل کرنے اور ان کی شفقتوں سے فیض یاب ہونے کا موقع ملا۔ میرے تمام اساتذہ میرے لیے محبتوں اور عقیدتوں کے پھول ہیں۔ جن اساتذہ کرام نے اس دنیا سے رخصت ہو کر ابدی سفر اختیار کیا، ان کے لیے دل کی گہرائیوں سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت ان کی مغفرت فرمائے، درجات بلند فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔ ملازمت کے دوران بھی مجھے بے شمار اساتذہ کرام کے ساتھ تعلیمی خدمات انجام دینے کا شرف حاصل ہوا۔ ان تمام رفقائے کار کی محبتیں، خلوص، محنت اور تعلیمی خدمات میری زندگی کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ میں ان سب کے نام بھی الفت و احترام کے پھول پیش کرتا ہوں جنہوں نے تعلیم کے مقدس شعبے میں میرے ساتھ قدم سے قدم ملا کر نسلِ نو کی تربیت اور تعلیم کے لیے اپنا کردار ادا کیا۔ آج بھی ہمارے سماج میں ہزاروں اساتذہ کرام مدارس، سکولوں، کالجوں اور جامعات میں علم کے چراغ روشن کیے ہوئے ہیں۔ وہ اپنے آرام، وقت اور ذاتی مصروفیات کو قربان کرکے بچوں اور نوجوانوں کے مستقبل کو سنوارنے میں مصروفِ عمل ہیں۔
ان تمام اساتذہ کرام کے لیے بھی میرے دل میں بے پناہ عقیدت و احترام ہے۔ ان کے نام بھی محبتوں اور عقیدت کے پھول پیش کرتا ہوں۔ اسی سلسلے میں محترم حاجی عطاء الحق صاحب، پرنسپل تعلیم القرآن کوکا، ہری پور جیسی عظیم اور قابلِ احترام علمی شخصیت کا ذکر نہ کرنا بھی ناانصافی ہوگی۔ ایسی شخصیات علم، تربیت، اخلاق اور دینی شعور کے فروغ میں اپنا قیمتی کردار ادا کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت، سلامتی، عافیت اور مزید خدمتِ تعلیم و تربیت کی توفیق عطا فرمائے اور ان کی علمی و دینی خدمات کو اپنی بارگاہ میں شرفِ قبولیت بخشے۔ آمین۔ معلم کا احترام صرف ایک دن کی رسم نہیں بلکہ ایک مستقل معاشرتی قدر ہونی چاہیے۔ ہمیں اپنے بچوں کو بھی یہ سکھانا ہوگا کہ استاد کا ادب دراصل علم کا ادب ہے۔ جس معاشرے میں استاد کی عزت ہوتی ہے وہاں علم پروان چڑھتا ہے، اخلاق مضبوط ہوتے ہیں اور قومیں ترقی کی منازل طے کرتی ہیں۔استاد اپنے شاگرد کے ہاتھ میں صرف قلم نہیں دیتا بلکہ اسے مستقبل لکھنے کا ہنر سکھاتا ہے۔ وہ تختی پر لکھے ہوئے چند حروف سے لے کر زندگی کے بڑے فیصلوں تک انسان کی رہنمائی کرتا ہے۔ اس کے الفاظ کبھی نصیحت بن کر دل میں اترتے ہیں اور کبھی زندگی بھر کے لیے چراغِ راہ بن جاتے ہیں۔
ہمیں چاہیے کہ اپنے اساتذہ کرام کو صرف یومِ اساتذہ پر نہیں بلکہ زندگی کے ہر مرحلے پر یاد رکھیں۔ ان کی خدمت، دعا اور احترام کو اپنے لیے سعادت سمجھیں۔ جو استاد دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں، ان کے لیے دعائے مغفرت کریں اور جو حیات ہیں، ان کی قدر و منزلت کو دل سے تسلیم کریں۔ آخر میں یہی عرض ہے کہ: معلم علم کا چراغ، کردار کا معمار اور قوم کے مستقبل کا محافظ ہے۔ اس کا احترام سب سے مقدم ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے تمام اساتذہ کرام کو عزت، صحت، سلامتی اور خوشیاں عطا فرمائے، ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور جو اساتذہ اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں ان کی کامل مغفرت فرمائے۔ آمین یا رب العالمین۔



تبصرہ لکھیے