یہ تو ہم جانتے ہی ہیں کہ پیسے سے لاتعلق کرنے والی ایک اہم چیز، پیسے کے ساتھ نیگیٹو تعلق ہے۔ مگر اس کی کیا کیا صورتیں ہوتی ہیں، اسے جاننا بہت ضروری ہے۔ آج کی مجلس میں ہم اس کی ایک صورت کو مزید بیان کرتے ہیں۔ پیسہ ہو یا کوئی اور نعمت، ان کے ساتھ انسان کے دو طرح کے تعلق بنتے ہیں۔ ایک تو ان نعمتوں کی انسان کو ایسی ضرورت ہوتی ہے جس میں انسان مجبور اور ضرورت مند ہوتا ہے۔ البتہ، اس کے ساتھ ساتھ ان نعمتوں سے ایک اور تعلق بھی اہم ہے۔
ایک ایسا تعلق زندہ رکھنا ضروری ہے جس میں اس نعمت کی قدر دانی ہو، اس کی ورتھ، مقام و مرتبے یا حسن و جمال کے بقدر اس سے ایک ایسا تعلق ہو کہ جہاں اسے بغیر لالچ اور ضرورت کے دیکھا جائے۔ ان دونوں پہلوؤں میں بیلنس رکھنا ضروری ہے۔پیسے سے پہلے ہم ایک بیٹے یا بیٹی کی مثال لیتے ہیں۔ والدین کو اپنے بچوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہ ان کے ساتھ، ان کی توجہ، کمائی اور تحفظ کے محتاج ہوتے ہیں۔ یہ تعلق کی ایک صورت ہے، بلکہ آدھی صورت ہے۔اس سے بھی بڑی چیز یہ ہے کہ ہمارے بچوں میں حسن و جمال ہوتا ہے، علم و عمل، اخلاق و کردار، شکل و صورت۔۔۔ الغرض، بطور انسان ان میں بیوٹی پائی جاتی ہے، جس کا اعتراف کرنا، جسے اون کرنا، اس انسان سے تعلق میں بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔اب اگر کوئی باپ یا ماں اپنے بچے سے یہ انسانی، فطری، جمالیاتی اور اخلاقی تعلق قائم نہیں کرتے اور محض اس کے ساتھ ضرورت کے تعلق پر فوکس رکھنے لگیں گے، ہر وقت اس سے توجہ اور خدمت چاہیں گے، تو یہ آہستہ آہستہ اپنی موت کی طرف بڑھے گا۔ یہ بوجھ بننے لگے گا، نبھانا مشکل ہوتا جائے گا اور ڈپریشن بڑھنے لگے گا۔
یہی معاملہ پیسے کا ہے۔پیسے کمانے کی ضرورت اپنی جگہ، مگر پیسے کی اٹ سیلف ایک ورتھ ہے، اس کا ایک مقام ہے۔ اسے اپنی سیلف رسپیکٹ کو قائم رکھتے ہوئے حاصل کرنا ہی اصل میں اس نعمت سے درست تعلق قائم کرنا ہے۔اس بات کو ایک حدیث میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
“دنیا (کے مال) کے حصول میں میانہ روی اختیار کرو، کیونکہ جس کو جس چیز کے لیے پیدا کیا گیا ہے، وہ اس کے لیے آسان کر دی گئی ہے۔”
[سلسلہ احادیث صحیحہ، البیوع والکسب والزہد، حدیث: 1088]
جیسے کسی انسان سے حد سے زیادہ توقعات لگانا، اس پر بوجھ ڈالتے جانا، اسے محض مشکل میں یاد کرنا، اس کے سامنے مسائل کے رونے رونا، اسے پکڑے رہنا، اس پر مسلط ہو جانا۔۔۔ یہ سب اس انسان کو آپ سے دور کر دیتا ہے اور اس کے ساتھ تعلق کے حسن کو مار دیتا ہے۔بالکل اسی طرح پیسے سے نیگیٹو تعلق انسان کو اس نعمت سے محروم کر دیتا ہے۔ اس کے لیے اپنے مزاج میں بڑا پن پیدا کرنے کی ضرورت ہے؛ صبر کرنا، برداشت رکھنا، اپنی خواہشات پر کنٹرول رکھنا، اپنے آپ پر نظر رکھنا، دیکھتے رہنا کہ میں کس موڈ اور کن جذبات میں ہوں۔ ہر برائی اور تکلیف کی ذمہ داری پیسے کا نہ ہونا قرار دینے کی بجائے اپنے ڈپریشن اور مسائل کا حل فطرت سے تعلق، خدا سے تعلق، ایکسرسائز، ہیلتھی گیدرنگ اور فرینڈز سرکل میں تلاش کرنا۔۔۔ یہ سب پیسے کی نعمت کی آپ سے دوستی کرا دے گا۔پیسہ اور بچہ ایک ہی طرح کی چیز ہیں۔ یہ خوش رہنے والے لوگوں کے پاس خوشی سے آتے ہیں اور ہمیشہ ساتھ رہتے ہیں، کیونکہ انہیں وہاں خوشی ملتی ہے۔ یہ پریشان، دکھی اور مسائل کا شکار انسانوں کے پاس نہیں آتے۔
تو اگر آپ اچھا کمانا چاہتے ہیں، تو اچھا جینا شروع کریں!



تبصرہ لکھیے