ہوم << کلاس روم سے مستقبل تک – انوشہ افتخار
600x314

کلاس روم سے مستقبل تک – انوشہ افتخار

ایک طالب علم کی زندگی میں کبھی کبھی ایک استاد کا صرف ایک جملہ برسوں تک ساتھ رہتا ہے۔ کبھی وہ جملہ حوصلہ دیتا ہے، کبھی کسی غلطی کا احساس دلاتا ہے اور کبھی یہ یقین پیدا کرتا ہے کہ شاید وہ طالب علم اپنی سوچ سے کہیں زیادہ بہتر کر سکتا ہے۔ یہی استاد کی اصل طاقت ہے۔

پانچ اکتوبر کو دنیا بھر میں یومِ اساتذہ منایا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی اس دن طلبہ اپنے اساتذہ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں، تقریبات منعقد ہوتی ہیں اور سوشل میڈیا پر شکریے کے پیغامات نظر آتے ہیں۔ لیکن ہمارے لیے یہ دن صرف پھول دینے یا ایک خوبصورت پیغام لکھنے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ یہ سوچنے کا موقع بھی ہے کہ ہم اپنے اساتذہ کو وہ مقام اور سہولیات دے رہے ہیں یا نہیں جن کے وہ حق دار ہیں۔پاکستان کا تعلیمی نظام پہلے ہی کئی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ سرکاری اسکولوں میں محدود وسائل، بڑے کلاس رومز، اساتذہ کی کمی، مختلف علاقوں میں تعلیمی سہولیات کا فرق اور بچوں کے اسکول سے باہر ہونے جیسے مسائل آج بھی موجود ہیں۔ ایسے ماحول میں ایک استاد کے لیے صرف نصاب مکمل کرنا ہی کافی نہیں ہوتا۔ اسے محدود وسائل میں بچوں کی توجہ حاصل کرنی ہوتی ہے، ان کی مشکلات سمجھنی ہوتی ہیں اور کئی مرتبہ ان کے لیے حوصلے کا ذریعہ بھی بننا پڑتا ہے۔

خاص طور پر سرکاری اسکولوں کے وہ اساتذہ جو ایسے علاقوں میں پڑھاتے ہیں جہاں بچوں کے گھریلو حالات تعلیم پر براہِ راست اثر انداز ہوتے ہیں، ان کی ذمہ داری صرف کلاس روم تک محدود نہیں رہتی۔ بعض طلبہ کے لیے اسکول صرف پڑھنے کی جگہ نہیں، بلکہ وہ جگہ بھی ہوتی ہے جہاں انہیں حوصلہ، رہنمائی اور اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنے کا موقع ملتا ہے۔یہاں ایک اور سوال بھی اہم ہے: آج جب موبائل فون اور انٹرنیٹ نے معلومات تک رسائی آسان بنا دی ہے، تو کیا استاد کی اہمیت کم ہوگئی ہے؟

شاید اس کا جواب اس فرق میں ہے جو معلومات اور تعلیم کے درمیان موجود ہے۔ایک طالب علم انٹرنیٹ سے کسی بھی موضوع کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتا ہے، لیکن اسے یہ سمجھنے کے لیے رہنمائی چاہیے کہ کون سی معلومات درست ہیں، انہیں کیسے سمجھنا ہے اور ان کا ذمہ دارانہ استعمال کیسے کرنا ہے۔ مصنوعی ذہانت بھی سوالوں کے جواب دے سکتی ہے، لیکن ایک استاد طالب علم کی صلاحیت، کمزوری اور حالات کو دیکھ کر اس کی رہنمائی کر سکتا ہے۔پاکستان میں یہ کردار اس لیے بھی اہم ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف امتحان پاس کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ ہمیں ایسے نوجوانوں کی ضرورت ہے جو سوال کر سکیں، اختلافِ رائے کو سمجھ سکیں، تنقیدی انداز میں سوچ سکیں اور اپنے معاشرے کے مسائل کو محسوس کر سکیں۔ ان صلاحیتوں کی بنیاد صرف کتابوں سے نہیں بنتی؛ ایک اچھا استاد انہیں پروان چڑھاتا ہے۔

تاہم، اگر ہم اساتذہ سے قوم کا مستقبل سنوارنے کی توقع رکھتے ہیں تو ہمیں ان کے مسائل کو بھی سنجیدگی سے دیکھنا ہوگا۔ استاد سے بہتر نتائج کی توقع کے ساتھ اسے مناسب تربیت، جدید تدریسی وسائل، بہتر کام کا ماحول اور پیشہ ورانہ ترقی کے مواقع بھی فراہم کرنا ضروری ہیں۔ صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ استاد قوم کا معمار ہے؛ اس معمار کو کام کرنے کے لیے ضروری وسائل بھی دینا ہوں گے۔اسی طرح طلبہ کا رویہ بھی اہم ہے۔ استاد کا احترام صرف یومِ اساتذہ پر ایک پیغام بھیجنے سے ثابت نہیں ہوتا۔ کلاس میں توجہ دینا، سوال کرنا، اختلاف کی صورت میں شائستگی اختیار کرنا اور استاد کی محنت کو سمجھنا بھی احترام کی شکلیں ہیں۔ہر استاد مشہور نہیں ہوتا، ہر استاد کو ایوارڈ نہیں ملتا اور ہر استاد کا نام اخبارات میں نہیں آتا۔ لیکن بہت سے اساتذہ روزانہ خاموشی سے اپنا کام کرتے رہتے ہیں۔ وہ ایسے طالب علم کو دوبارہ کوشش کرنے کا حوصلہ دیتے ہیں جو ناکام ہو چکا ہو، ایسے بچے کو بولنے کا موقع دیتے ہیں جو خود اعتمادی سے محروم ہو اور کسی ایسے نوجوان کو سمت دکھاتے ہیں جو اپنے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی کا شکار ہو۔

شاید اسی لیے استاد کا اصل اثر اکثر امتحانی نتیجے میں نہیں، بلکہ طالب علم کے رویے، سوچ اور مستقبل میں نظر آتا ہے۔یومِ اساتذہ ہمیں اپنے اساتذہ کو یاد کرنے کا موقع ضرور دیتا ہے، لیکن اصل خراجِ تحسین یہ ہوگا کہ ہم تعلیم کو صرف ڈگری حاصل کرنے کا ذریعہ نہ سمجھیں اور استاد کو صرف نصاب مکمل کرنے والا فرد نہ سمجھیں۔کیونکہ ایک ملک کا مستقبل صرف اس کے اسکولوں کی عمارتوں سے نہیں بنتا۔وہ ان کلاس رومز میں بنتا ہے جہاں ایک استاد کسی طالب علم سے کہتا ہے:
“تم یہ کر سکتے ہو، دوبارہ کوشش کرو۔”
اور کبھی کبھی یہی ایک جملہ پوری زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

ویب ڈیسک

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment