ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب فیصل مسجد، اسلام آباد
درس بعد نمازِ ظہر
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام على سيد الأنبياء والمرسلين، نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين
نبی کریم ﷺ نے اپنی امت کو صرف عبادات ہی کی تعلیم نہیں دی، بلکہ ایسے جامع اذکار اور دعائیں بھی سکھائیں جو دنیا و آخرت کی ہر قسم کی خیر کو سمیٹ لیتی ہیں اور ہر طرح کی آفات و مصائب سے حفاظت کا ذریعہ بنتی ہیں۔ انہی عظیم دعاؤں میں ایک نہایت جامع دعا یہ بھی ہے:
دعائیہ کلمات
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ، وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ، وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ، وَجَمِيعِ سَخَطِكَ(صحیح مسلم)
ترجمہ: اے اللہ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں تیری نعمت کے زائل ہونے سے، تیری عطا کی ہوئی عافیت کے بدل جانے سے، تیری اچانک آنے والی پکڑ سے، اور تیرے ہر قسم کے غضب سے۔
یہ دعا اللہ تعالیٰ سے ہر قسم کی خیر مانگنے اور ہر قسم کے شر سے بچنے کی بہترین دعا ہے۔ اس میں چار ایسی عظیم چیزوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگی گئی ہے جن کا تعلق انسان کی پوری زندگی سے ہے۔
1۔ زوالِ نعمت (مِنْ زَوَالِ نِعْمَتِكَ)
اللہ تعالیٰ کی نعمتیں بے شمار ہیں۔ ایمان، صحت، امن، اولاد، رزق، عزت، علم اوراللہ کے گھروں میں عبادت کی توفیق سب اسی کی عطا ہیں۔ بندہ دعا کرتا ہے کہ اے اللہ! جو نعمتیں تو نے عطا فرمائی ہیں انہیں ہم سے واپس نہ لے۔ بلکہ انہیں برقرار رکھ اور ان میں برکت عطا فرما۔ کیونکہ جب نعمت کی قدر نہ کی جائے تو وہ چھن بھی سکتی ہے۔
2۔ تحولِ عافیت (وَتَحَوُّلِ عَافِيَتِكَ)
عافیت صرف بیماری سے بچنے کا نام نہیں بلکہ دین، ایمان، جان، مال، اہل و عیال، عزت اور امن و سکون کی سلامتی بھی عافیت ہے۔ انسان ایک لمحہ میں صحت مند سے بیمار، امن سے خوف اور راحت سے پریشانی میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ اس لیے رسول اللہ ﷺ نے ہمیں سکھایا کہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے عافیت مانگو اور اس کے برقرار رہنے کی دعا کرو۔
3۔ اچانک عذاب (وَفُجَاءَةِ نِقْمَتِكَ)
اللہ تعالیٰ کی پکڑ جب اچانک آتی ہے تو انسان کو سنبھلنے کا موقع بھی نہیں ملتا۔ اس لیے مومن ہمیشہ اپنے اعمال کا محاسبہ کرتا ہے توبہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہے کہ ہمیں اپنی اچانک گرفت، آزمائش اور سزا سے محفوظ فرما۔
4۔ اللہ تعالیٰ کے ہر قسم کے غضب سے پناہ (وَجَمِيعِ سَخَطِكَ)
اللہ تعالیٰ کی ناراضی دنیا اور آخرت کی سب سے بڑی محرومی ہے۔ بندہ اللہ تعالیٰ کی رضا کا طالب اور اس کی ناراضی سے ہمیشہ خوف زدہ رہتا ہے۔ اس دعا میں ہم اللہ تعالیٰ سے التجا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں ایسے تمام اعمال سے محفوظ رکھے جو اس کے غضب کا سبب بنتے ہیں اور ہمیں اپنی رضا نصیب فرمائے۔
موجودہ حالات کے تناظر میں
آج کے حالات میں اس دعا کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ جب مسلمانوں کو مختلف آزمائشوں، مشکلات اور پریشانیوں کا سامنا ہو تو انہیں *اللہ تعالیٰ* کی طرف زیادہ رجوع کرنا چاہیے۔کثرت سے استغفار کرنا چاہیے اور ان مسنون دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ اپنے تمام گھروں کو آباد رکھے وہاں ذکرِ الٰہی، نماز، تلاوتِ قرآن اور دینی تعلیم کا سلسلہ ہمیشہ جاری و ساری رکھے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی نعمتوں کی قدر کرنے، عافیت پر شکر ادا کرنے اپنی اچانک پکڑ سے محفوظ رہنے اور اپنی رضا حاصل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
دعا
اے اللہ!
ہمیں اپنی بے شمار نعمتوں کی قدر کرنے کی توفیق عطا فرما۔ ہماری عافیت کو ہمیشہ قائم رکھ، ہمیں اپنی اچانک گرفت اور ہر قسم کے عذاب سے محفوظ فرما۔اپنے غضب سے ہماری حفاظت فرما ہمارے گناہوں کو معاف فرما۔ اپنے گھروں کو ہمیشہ آباد و شاداب رکھ، وہاں نماز، ذکر اور تلاوت کا نور ہمیشہ قائم رکھ، امتِ مسلمہ کی تمام مشکلات آسان فرما۔ ہمیں دین پر ثابت قدم رکھ، اور دنیا و آخرت کی ہر بھلائی عطا فرما۔
وَصَلَّى اللهُ تَعَالَى عَلَى خَيْرِ خَلْقِهِ مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ أَجْمَعِينَ، بِرَحْمَتِكَ يَا أَرْحَمَ الرَّاحِمِينَ۔ آمین۔



تبصرہ لکھیے