ہوم << حقوق العباد کی اہمیت و ضرورت – مولانا قاری محمد سلمان عثمانی
600x314

حقوق العباد کی اہمیت و ضرورت – مولانا قاری محمد سلمان عثمانی

اسلام میں حقوق العباد کو نہایت اہمیت حاصل ہے۔ وہ اس طرح کہ بندے کے بندے پر کیا حقوق ہیں، حقوق العباد کو پورا کرنے کے لیے اسلام میں انتہائی شدت سے زور دیا گیا ہے اور اہمیت کو بیان کیا گیا ہے۔

جب تک بندہ بندے کو معاف نہیں کرے گا، اللہ تعالیٰ بھی اس وقت تک معاف نہیں کرے گا۔ اللہ جل شانہٗ فرماتے ہیں کہ میں اپنے حقوق تو معاف کر دوں گا، لیکن جو معاملات انسان کے انسان کے ساتھ ہیں، جب تک وہ معاف نہیں کرے گا، میں بھی معاف نہیں کروں گا۔ اس قدر حقوق العباد کی باریکی سے اہمیت کو بیان کیا گیا ہے۔جب آدمی دنیا میں آتا ہے تو چاہے مرد ہو یا عورت، اسے دوسرے انسانوں کے ساتھ مل کر رہنا پڑتا ہے اور شریعت کا حکم ہے کہ سب کے حقوق کا دھیان کرو جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ نے بتائے ہیں۔ ایک دوسرے کی حق تلفی کرنے سے، آگے یا پیچھے بے آبرو کرنے سے یا کسی کا پیسہ رکھ لینے سے قیامت میں بڑی مصیبت کا سامنا ہوگا۔

حضور ﷺ نے فرمایا کہ جس نے اپنے کسی بھائی پر ظلم کر رکھا ہو، خواہ اس کی بے آبروئی کی ہو یا کسی اور قسم کی حق تلفی کی ہو، تو آج ہی اس روز سے پہلے، جب کہ نہ اشرفی پاس ہوگی نہ روپیہ پاس ہوگا، حق ادا کر کے یا معافی مانگ کر اس سے اپنی جان چھڑا لے۔ یہاں صفائی نہ کی تو اگر نیک عمل ہوں گے تو قیامت کے روز ظلم کے برابر اسے دے دیے جائیں گے جس کی حق تلفی کی ہے۔ اس کی نیکیاں نہ ہوں گی تو جس پر ظلم ہوا ہے، اس کی برائیاں لے کر ظالم پر ڈال دی جائیں گی۔

اس حدیث شریف سے معلوم ہو رہا ہے کہ صرف روپیہ پیسہ رکھ لینا ہی ظلم نہیں، بلکہ گالی دینا، تہمت لگانا، غیبت کرنا، بے جا مارنا، بے آبروئی کرنا بھی ظلم اور حق تلفی ہے۔ بہت سے لوگ اپنے آپ کو بڑا سمجھتے ہیں، مگر ان چیزوں سے ذرا نہیں بچتے۔یہ یاد رکھو! کہ اللہ تعالیٰ اپنے حق کو توبہ اور استغفار کرنے سے معاف فرما دیتے ہیں، مگر بندوں کی جو حق تلفی کی ہے اور بندوں پر ظلم کیا ہے، اس کی معافی جب ہوگی جبکہ حق ادا کر دے یا اسی دنیا میں معافی مانگ لے۔حضرت سفیان ثوری رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اگر انسان خدا کی ستر نافرمانیاں کر کے قیامت میں پہنچے تو یہ جرم اس سے بہت ہلکا ہے کہ کسی بندہ کا ایک حق لے کر میدان حشر میں جائے، اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ بے نیاز ہے اور معاف کر سکتے ہیں، مگر یہ بندے عاجز اور بیچارے ہیں۔ قیامت میں بہت بے بس ہوں گے اور ذرا ذرا سا سہارا تلاش کرتے ہوں گے۔

لہٰذا حقوق العباد کا دھیان رکھنا اور ان سے پاک صاف ہو کر رہنا ضروری ہے۔نبی کریم ﷺ نے صحابہ کرامؓ سے پوچھا: کیا تم جانتے ہو مفلس، یعنی غریب اور تنگ دست، کون ہے؟ انہوں نے عرض کیا: ہم تو اسے غریب سمجھتے ہیں جس کے پاس روپیہ پیسہ اور مال نہ ہو۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ یقین جانو، اصلی غریب میری امت میں وہ ہے جو قیامت کے دن نماز، روزہ اور زکوٰۃ کی پونچی لے کر آئے گا اور اس حال میں بھی آئے گا کہ دنیا میں کسی کو گالی دی ہوگی اور کسی پر تہمت لگائی ہوگی اور کسی کا مال کھایا ہوگا، کسی کا خون بہایا ہوگا اور کسی کو ناحق مارا ہوگا۔ لہٰذا اس کی نیکیوں میں سے کچھ اس کو دلا دی جائیں گی اور کچھ اس کو دلا دی جائیں گی۔ اگر حق ادا نہ ہونے سے پہلے اس کی نیکیاں ختم ہو جائیں گی تو حق داروں کے گناہ لے کر حق تلفی کرنے والے کے سر ڈال دیے جائیں گے، پھر اس کو دوزخ میں ڈال دیا جائے گا۔

حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: تجھ پر مسلمانوں کے چار حق ہیں: ان کے نیک کی امداد کر، برے کے لیے مغفرت طلب کر، جو مر جائے اس کے لیے دعا مانگ اور توبہ کرنے والے کے ساتھ محبت رکھ۔ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’وہ آپس میں رحم کرنے والے ہیں۔‘‘ اس کی تفسیر میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ان کے نیک بروں کے لیے اور برے نیکوں کے لیے دعا کرتے ہیں۔

جب کوئی گناہ گار شخص حضور ﷺ کی امت کے نیک مرد کو دیکھتا ہے تو کہتا ہے: اے اللہ، تو نے اسے جو بھلائی عطا کی ہے، اس میں برکت دے، اسے ثابت قدم رکھ اور ہمیں اس کی برکتیں عطا فرما۔اور جب کوئی نیک شخص کسی گناہ گار کو دیکھتا ہے تو کہتا ہے: اے اللہ، اسے ہدایت دے، اس کی توبہ قبول فرما اور اس کی غلطیوں کو معاف فرما۔

حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ایک دوسرے سے محبت کرنے اور باہم مشقت کرنے میں مسلمانوں کی مثال ایک جسم جیسی ہے۔ جب جسم کا کوئی عضو تکلیف میں ہوتا ہے تو سارا جسم اس کے احساس اور بخار میں مبتلا ہو جاتا ہے۔
حضرت ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مسلمان، مسلمان کے لیے دیوار کی طرح ہے جس کا ایک حصہ دوسرے کو تقویت دیتا ہے۔یہ بھی مسلمانوں کے حقوق میں شامل ہے کہ کوئی مسلمان اپنی زبان یا کسی فعل سے دوسرے مسلمان کو دکھ نہ پہنچائے۔

حضور نبی کریم ﷺ نے لوگوں کو اچھی عادات اپنانے کے متعلق حکم فرمایا۔ حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: اگر تم یہ نہیں کر سکتے ہو تو لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ رکھو، یہ تمہارے لیے صدقہ ہے جو تم نے اپنی ذات کے لیے دیا ہے۔
حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: افضل مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے مسلمان محفوظ رہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے حضور نبی کریم ﷺ سے عرض کی: یا رسول اللہ ﷺ! مجھے ایسا عمل بتائیں جس سے مجھے نفع حاصل ہو۔ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: مسلمانوں کے راستہ سے تکلیف دینے والی چیز کو ہٹا دیا کرو۔

حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص مسلمانوں کے راستے سے کسی ایسی چیز کو دور کر دیتا ہے جس سے انہیں تکلیف ہوتی ہو تو اللہ تعالیٰ اس کے بدلے میں اس کی نیکی لکھ دیتا ہے، اور جس کے لیے نیکی لکھ دیتا، اس کے لیے جنت کو واجب کر دیتا ہے۔

حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کی طرف اس طرح کا اشارہ کرے جسے وہ پسند نہ کرتا ہو۔

آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: کسی مسلمان بھائی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی مسلمان کو خوف زدہ کرے۔

حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ مومن کی تکلیف کو ناپسند فرماتا ہے۔

حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے مجھے وحی نازل فرمائی کہ تم تواضع کرو اور ایک دوسرے پر فخر و تکبر نہ کرو۔

اگر کوئی دوسرا تم سے تکبر سے پیش آئے تو برداشت کرو۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کریم ﷺ سے ارشاد فرمایا: ’’درگزر اپنائیے، نیکی کا حکم دیجیے اور جاہلوں سے منہ پھیر لیجیے۔‘‘ (سورۃ الاعراف)

حضرت ابن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، حضور ﷺ ہر مسلمان سے تواضع سے پیش آتے اور بیوہ اور مسکین کے ساتھ چل کر ان کی حاجت روائی کرنے میں عار محسوس نہ فرماتے اور نہ ہی تکبر سے کام لیتے۔یہ بھی حقوق العباد میں شامل ہے کہ لوگوں کی باتیں ایک دوسرے کو نہ بتلائے اور کسی کی بات کسی دوسرے کو نہ بتائے۔حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: چغل خور جنت میں نہیں جائے گا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ حضور نبی کریم ﷺ نے اپنی ذات کے لیے کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیا، لیکن جب بات حدود اللہ کی ہوتی تو آپ اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے بدلہ لیا کرتے تھے۔حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: صدقہ سے مال کم نہیں ہوتا، عفو و درگزر کرنے سے اللہ تعالیٰ انسان کی عزت بڑھاتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے تواضع اختیار کرتا ہے، اللہ تعالیٰ اسے بلند مرتبہ عطا فرماتا ہے۔

الغرض، بندوں کے حقوق کا معاملہ بڑا سخت ہے۔ بندوں کی حق تلفی سے، یعنی کسی کی بے آبروئی کرنے، غیبت اور بہتان باندھنے، بے اجازت کوئی چیز لینے، مقدمہ لڑ کر زمین جائیداد دبا لینے، یا رشوت یا سود لینے، یا قرض لے کر رکھ لینے، یا امانت میں خیانت کرنے، یا یتیم کا مال کھانے اور ہر طرح کے ظلم و حق تلفی سے بچو اور سب کو بچاؤ۔اللہ ہم کو ان میں سے نہ کرے اور اللہ تعالیٰ ہمیں حقوق العباد مکمل طور پر ادا کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

مولانا قاری محمد سلمان عثمانی

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment