ہوم << راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا، ایک نصیحت – محمد عدنان
600x314

راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا، ایک نصیحت – محمد عدنان

درس بعد نمازِ ظہر
مقرر: ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب فیصل مسجد اسلام آباد

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
معزز حاضرینِ گرامی!
نبی اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی مبارک تعلیمات ہماری پوری زندگی کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔آپ ﷺ نے عبادات کے ساتھ ساتھ معاشرتی زندگی کے ایسے اصول بھی بیان فرمائے جن پر عمل کر کے ایک پاکیزہ، پُرامن اور خوشگوار معاشرہ وجود میں آ سکتا ہے۔

حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی بہترین نصیحت کی طلب
حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ نبی اکرم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ سے ایسی نصیحت طلب کی جس سے انہیں فائدہ حاصل ہو۔
انہوں نے عرض کیا کہ یا نبی ﷺ! مجھے ایسی بات بتائیے جس سے مجھے فائدہ پہنچے۔نبی کریم ﷺ نے انہیں ایسی بات کی تعلیم دی جو بظاہر بہت معمولی معلوم ہوتی ہے لیکن اس کے اندر ایک عظیم معاشرتی سبق پوشیدہ ہے۔

*آپ ﷺ* نے فرمایا کہ مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دو۔

*حدیثِ مبارکہ*

*عَنْ أَبِي بَرْزَةَ قَالَ: قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ عَلِّمْنِي شَيْئًا أَنْتَفِعْ بِهِ، قَالَ: اعْزِلِ الْأَذَى عَنْ طَرِيقِ الْمُسْلِمِينَ*۔

*ترجمہ:*

*حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ* سے روایت ہے کہ میں نے عرض کیا: *یا نبی ﷺ*! مجھے ایسی چیز سکھائیے جس سے مجھے فائدہ ہو۔ *آپ ﷺ* نے فرمایا: “مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دو۔”

یہ تعلیم ہمیں بتاتی ہے کہ راستے سے کوئی ایسی چیز ہٹا دینا جو لوگوں کے لیے تکلیف یا نقصان کا باعث بن سکتی ہو، معمولی کام نہیں بلکہ صدقہ ہے۔

*راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانا صدقہ ہے*

*رسول اللہ ﷺ* نے فرمایا:

*وَإِمَاطَتُكَ الْأَذَى عَنِ الطَّرِيقِ لَكَ صَدَقَةٌ*

*ترجمہ*:

“تمہارا راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا بھی تمہارے لیے صدقہ ہے۔”

یعنی اگر راستے میں کوئی پتھر، کانٹا، شیشہ، لکڑی یا کوئی اور چیز پڑی ہے جس سے گزرنے والوں کو تکلیف پہنچ سکتی ہے، تو اسے ہٹا دینا بھی *اللہ تعالیٰ* کے ہاں صدقہ ہے۔

گزشتہ دنوں ایمان کی شاخوں کے حوالے سے حدیث بیان کی گئی تھی کہ ایمان کی بہت سی شاخیں ہیں اور ان میں سے ایک راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹا دینا بھی ہے۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلام میں دوسروں کو تکلیف سے بچانے اور ان کے لیے آسانی پیدا کرنے کی کتنی اہمیت ہے۔

*انسانوں کے ساتھ ساتھ حیوانات کا بھی خیال*

اس تعلیم کا تعلق صرف انسانوں کے ساتھ نہیں بلکہ *اللہ تعالیٰ* کی تمام مخلوق کے ساتھ حسنِ سلوک سے ہے۔

اگر کسی راستے میں کوئی ایسی چیز موجود ہو جس سے انسان یا جانور کو نقصان پہنچ سکتا ہو تو اسے ہٹا دینا خیر خواہی کا عمل ہے۔

ایک مسلمان کا مزاج یہ ہونا چاہیے کہ وہ جہاں کسی کے لیے تکلیف دیکھے، اپنی استطاعت کے مطابق اس تکلیف کو دور کرنے کی کوشش کرے۔

*ہماری روزمرہ زندگی میں راستے کے حقوق*

*معزز حاضرین!*

یہ حدیث صرف راستے میں پڑے ہوئے پتھر یا کانٹے تک محدود نہیں بلکہ ہماری روزمرہ زندگی کے بہت سے معاملات کو اپنے اندر شامل کرتی ہے۔

مثلاً بعض لوگ گھر میں گاڑی وغیرہ دھوتے ہیں اور اس کا پانی باہر گلی میں چھوڑ دیتے ہیں۔ پانی گلی میں پھیل جاتا ہے، جس سے گزرنے والوں کو دشواری ہوتی ہے۔

کسی کے کپڑے خراب ہوتے ہیں، کسی کا گزرنا مشکل ہو جاتا ہے اور بعض اوقات پھسلنے کا خطرہ بھی پیدا ہو جاتا ہے۔

ہمیں سوچنا چاہیے کہ ہماری سہولت کی وجہ سے کسی دوسرے انسان کو تکلیف تو نہیں ہو رہی؟

اسلام ہمیں صرف اپنی سہولت دیکھنے کی تعلیم نہیں دیتا بلکہ دوسروں کی سہولت اور حقوق کا خیال رکھنے کی بھی تعلیم دیتا ہے۔

*عوامی راستے کو اپنی سہولت کے لیے تنگ کرنا*

اسی طرح بعض اوقات گھر کے سامنے سیڑھی، چبوترہ یا راستہ بنانے کی نیت سے گلی کے اس حصے کو بھی اپنی تعمیر میں شامل کر لیا جاتا ہے جو ہماری ذاتی ملکیت نہیں ہوتا۔

اپنی سہولت کے لیے عوامی راستے کو تنگ کر دینا اور عام لوگوں کے گزرنے میں دشواری پیدا کرنا مناسب نہیں۔

جس راستے پر عوام کا حق ہے، اس کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ ہمیں اپنی ضرورت اور سہولت کے ساتھ ساتھ دوسروں کے حقِ گزر کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔

*بازاروں میں راستہ روکنے سے اجتناب*

بازاروں میں بھی یہ صورتِ حال نظر آتی ہے کہ دکانوں کے باہر ریڑھی یا ٹھیہ لگا دیا جاتا ہے یا سامان اس طرح رکھ دیا جاتا ہے کہ لوگوں کے گزرنے کا راستہ تنگ ہو جاتا ہے۔

عام آدمی، بزرگ، بچے اور دیگر شہری اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ ایک مسلمان کو اپنے کاروبار اور روزگار کے ساتھ ساتھ لوگوں کے حقوق کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔

ہمیں یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ میرا فائدہ ہو رہا ہے تو معاملہ ختم ہوگیا۔

بلکہ یہ دیکھنا چاہیے کہ کہیں میرے فائدے کی وجہ سے دوسروں کو تکلیف تو نہیں پہنچ رہی۔

*بلاوجہ ٹریفک روکنا بھی تکلیف کا سبب ہے*

اسی طرح بلاوجہ ٹریفک روک دینا، کسی معمولی ذاتی مقصد کے لیے سینکڑوں یا ہزاروں لوگوں کا راستہ بند کر دینا بھی دوسروں کے لیے تکلیف کا باعث بنتا ہے۔

ممکن ہے کسی شخص کو ہسپتال پہنچنا ہو، کسی کو نماز کے لیے جانا ہو، کسی کا امتحان ہو یا کسی کو اپنے روزگار کے سلسلے میں وقت پر پہنچنا ہو۔

اس لیے اپنے معمولی مقصد کے لیے دوسروں کے وقت، ضرورت اور حقِ گزر کو متاثر کرنا ایک ایسی چیز ہے جس سے ہمیں بچنا چاہیے۔

*نبی کریم ﷺ* *کی تعلیمات پر عمل ہی معاشرے کی اصلاح ہے*
*نبی کریم ﷺ* کی تعلیمات زندگی کے ہر شعبے میں ہماری رہنمائی کرتی ہیں۔ہمیں چاہیے کہ ہم احادیثِ مبارکہ صرف سننے اور بیان کرنے تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں اپنی عملی زندگی میں بھی نافذ کریں۔اگر ہم راستے کے حقوق کا خیال رکھیں، دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں، تکلیف دہ چیزوں کو دور کریں اور اپنی سہولت کے لیے دوسروں کو پریشان کرنے سے بچیں تو ہمارے معاشرے میں محبت، ہمدردی اور سکون پیدا ہوگا۔

سبق
حضرت ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ* نے *نبی کریم ﷺ* سے ایسی نصیحت طلب کی جس سے انہیں فائدہ ہو اور *آپ ﷺ* نے مسلمانوں کے راستے سے تکلیف دہ چیز ہٹانے کی تعلیم دی۔

اس میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے
دین صرف عبادت کا نام نہیں دین یہ بھی ہے کہ اللہ کی مخلوق ہماری ذات سے محفوظ رہے اور جہاں ممکن ہو ہم دوسروں کے لیے آسانی پیدا کریں۔لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے گھروں، گلیوں، بازاروں، سڑکوں اور ہر عوامی جگہ پر دوسروں کے حقوق کا خیال رکھیں اور کوئی ایسا کام نہ کریں جس سے عام لوگوں کو بلاوجہ پریشانی یا تکلیف ہو۔اللہ تعالیٰ ہمیں نبی کریم ﷺ کی تعلیمات کو سمجھنے، ان پر عمل کرنے اور اپنی ذات سے دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
آمین یا رب العالمین۔