ہوم << نماز ، ایمان کی پہچان اور روح کی پاکیزگی – محمد عدنان
600x314

نماز ، ایمان کی پہچان اور روح کی پاکیزگی – محمد عدنان

درس بعد نمازِ ظہر
مقرر: ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب
امام و خطیب فیصل مسجد، اسلام آباد

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
نماز اسلام کے بنیادی فرائض میں سے ایک عظیم فریضہ ہے۔ یہ ایسا فریضہ ہے جو کسی خاص عمر، موسم یا حالات کے ساتھ مخصوص نہیں، بلکہ مسلمان کی زندگی کے ہر مرحلے میں اس کے ساتھ رہتا ہے۔نماز کی فرضیت قرآن و سنت سے ثابت ہے اور اس کی ادائیگی کسی صورت میں ساقط نہیں ہوتی، البتہ شریعت نے مختلف حالات کے مطابق اس کی ادائیگی میں آسانیاں عطا فرمائی ہیں۔

ڈاکٹر قاری محمد ضیاء الرحمٰن صاحب نے درسِ ظہر میں نماز کی اہمیت بیان کرتے ہوئے نبی کریم ﷺ کے ان سخت اور مؤثر فرامین کا ذکر فرمایا جن میں نماز کی پابندی کی نہایت تاکید کی گئی ہے۔

نماز چھوڑنا انتہائی سنگین معاملہ ہے
نبی مکرم ﷺ نے نماز کے بارے میں انتہائی سخت وعید بیان فرمائی۔ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
الْعَهْدُ الَّذِي بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمُ الصَّلَاةُ، فَمَنْ تَرَكَهَا فَقَدْ كَفَرَ
ترجمہ:”ہمارے اور ان کے درمیان عہد نماز ہے، پس جس نے اسے چھوڑ دیا اس نے کفر کیا۔”(سنن ترمذی، سنن ابن ماجہ)

یہ فرمانِ نبوی ﷺ نماز کی عظمت اور اس کے انتہائی اہم مقام کو واضح کرتا ہے۔ نماز کو جان بوجھ کر ترک کرنا معمولی کوتاہی نہیں، بلکہ ایسا سنگین معاملہ ہے جس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے سخت ترین الفاظ استعمال فرمائے۔لہٰذا ایک مسلمان کو چاہیے کہ نماز کے معاملے میں غفلت کو اپنی عادت نہ بنائے۔ اگر کبھی کسی سے نماز رہ جائے تو وہ فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے، توبہ کرے اور آئندہ نماز کی پابندی کا عزم کرے۔

نماز اور کفر کے درمیان انتہائی خطرناک حد
اسی مضمون کو ایک دوسری حدیث میں بھی نہایت واضح انداز میں بیان کیا گیا ہے۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّ بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكَ الصَّلَاةِ
ترجمہ:”آدمی اور شرک و کفر کے درمیان فرق نماز چھوڑ دینا ہے۔”(صحیح مسلم، سنن ترمذی)

اس حدیث میں نماز کی اہمیت اس انداز سے بیان ہوئی ہے کہ نماز مسلمان کی شناخت اور اس کے ایمان کے ساتھ گہرا تعلق رکھتی ہے۔اس لیے نماز کو صرف ایک معمول کی عبادت سمجھنا درست نہیں۔ یہ بندے کا اپنے رب سے تعلق ہے، اس کے ایمان کی علامت ہے اور اس کی زندگی میں اللہ تعالیٰ کی اطاعت کا سب سے نمایاں اظہار ہے۔

نماز سے غفلت کے بارے میں ایک اور سخت تنبیہ
حضرت عبداللہ بن شقیق رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
كَانَ أَصْحَابُ مُحَمَّدٍ ﷺ لَا يَرَوْنَ شَيْئًا مِنَ الْأَعْمَالِ تَرْكُهُ كُفْرٌ غَيْرَ الصَّلَاةِ
ترجمہ:”محمد ﷺ کے صحابہ رضی اللہ عنہم اعمال میں سے نماز کے علاوہ کسی عمل کے چھوڑنے کو کفر نہیں سمجھتے تھے۔”(سنن ترمذی)

یہ اثر نماز کے مقام کو سمجھنے کے لیے نہایت اہم ہے۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نماز کو دین میں کس قدر بنیادی حیثیت دیتے تھے، اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ وہ نماز کے ترک کو معمولی گناہ نہیں سمجھتے تھے۔یہاں ہر مسلمان کو اپنے دل سے ایک سوال کرنا چاہیے:اگر نماز واقعی ہمارے ایمان کا اتنا اہم حصہ ہے تو کیا ہم اسے اپنی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت دے رہے ہیں؟

جسم کی پاکیزگی کے ساتھ روح کی پاکیزگی بھی ضروری ہے
ڈاکٹر صاحب نے نہایت خوبصورت انداز میں سمجھایا کہ انسان صرف جسم کا نام نہیں، بلکہ اس کے اندر ایک روح بھی ہے۔ جس طرح جسم کو پاک رکھنا ضروری ہے، اسی طرح روح کو پاک رکھنا بھی ضروری ہے۔اگر جسم پر گندگی لگ جائے تو انسان اسے دھوتا ہے، صفائی کرتا ہے اور وضو کے ذریعے اپنے آپ کو پاک کرتا ہے۔ اسلام نے ظاہری پاکیزگی کی بھی تعلیم دی ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ روح کی پاکیزگی کیسے حاصل ہوگی؟
روح کی پاکیزگی اللہ تعالیٰ کی عبادت سے ہوتی ہے۔ نماز، روزہ، ذکر، تلاوتِ قرآن اور دیگر عبادات انسان کے باطن کو پاک کرتی ہیں۔جس طرح جسم کی صفائی کو ہم نظر انداز نہیں کرتے، اسی طرح روح کی صفائی کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔بلکہ روح کی پاکیزگی تو جسم کی پاکیزگی سے کہیں زیادہ اہم ہے، کیونکہ جسم دنیا میں ہمارے ساتھ ہے، جبکہ روح کی کامیابی کا تعلق آخرت کی نجات سے ہے۔

نماز روح کی پاکیزگی کا ذریعہ ہے
نماز بندے کو دن میں بار بار اپنے رب کے سامنے کھڑا کرتی ہے۔ انسان دنیا کے کاموں میں مصروف ہو جاتا ہے، اس کا دل مختلف مشاغل میں الجھ جاتا ہے، لیکن اذان اسے دوبارہ اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتی ہے۔
اللہ اکبر!یعنی اللہ سب سے بڑا ہے۔ دنیا کے مسائل، کاروبار، ملازمت، تجارت، مال، گھر اور دیگر مصروفیات اپنی جگہ، لیکن اللہ تعالیٰ سب سے بڑا ہے۔ نماز ہمیں ہر روز کئی مرتبہ یہی حقیقت یاد دلاتی ہے۔اس لیے نماز صرف چند حرکات و سکنات کا نام نہیں، بلکہ یہ انسان کے دل کو اللہ تعالیٰ سے جوڑنے کا ذریعہ ہے۔

اسلام کے دیگر فرائض اور پاکیزگی
اسلام نے انسان کی مکمل اصلاح اور پاکیزگی کے لیے مختلف عبادات فرض فرمائی ہیں۔روزہ بھی روح کی تربیت، تقویٰ اور پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔ روزہ انسان کو خواہشات پر قابو پانا سکھاتا ہے۔زکوٰۃ مال کی پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔ انسان اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق زکوٰۃ ادا کرتا ہے تو اس کا مال بھی پاک ہوتا ہے اور دل بھی بخل سے پاک ہوتا ہے۔حج انسان کی پوری زندگی کے لیے ایک عظیم روحانی تربیت اور پاکیزگی کا ذریعہ ہے۔ انسان اللہ تعالیٰ کے گھر کی حاضری دے کر اپنی زندگی کو نئے عزم کے ساتھ اللہ کی اطاعت میں گزارنے کا ارادہ کرتا ہے۔یوں اسلام انسان کے جسم، روح، مال، کردار اور پوری زندگی کی اصلاح چاہتا ہے۔

بے نمازی بھائیوں کے لیے ایک درد بھری دعوت
جو بھائی نماز میں سستی کرتے ہیں، ان سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ ذرا رک کر سوچیں!
ہم دنیا کے کاموں کے لیے وقت نکالتے ہیں، کھانے پینے کے لیے وقت نکالتے ہیں، کاروبار اور ملازمت کے لیے وقت نکالتے ہیں، دوستوں اور رشتہ داروں کے لیے وقت نکالتے ہیں؛تو کیا اس اللہ کے لیے چند منٹ نہیں نکال سکتے جس نے ہمیں زندگی، صحت، رزق، گھر، اولاد اور بے شمار نعمتیں عطا فرمائی ہیں؟نماز اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی بوجھ نہیں، بلکہ بندے کے لیے رحمت ہے۔ یہ وہ موقع ہے جب انسان اپنے رب کے سامنے کھڑا ہو کر اپنی پریشانیاں رکھتا ہے، اس سے مدد مانگتا ہے، اس کی حمد بیان کرتا ہے اور اس کے سامنے جھک جاتا ہے۔اگر آج تک نماز میں کوتاہی ہوئی ہے تو مایوس ہونے کی ضرورت نہیں۔

آج ہی سے آغاز کریں۔وضو کریں، اللہ کے سامنے کھڑے ہوں، گزشتہ کوتاہیوں پر توبہ کریں اور عہد کریں کہ آئندہ نماز کو اپنی زندگی کا سب سے اہم معمول بنائیں گے۔اپنے اہل و عیال کو بھی نماز کا پابند بنائیںہماری ذمہ داری صرف اپنی نماز تک محدود نہیں۔ ہمیں اپنے گھر والوں کی بھی فکر کرنی چاہیے۔اپنے بچوں کو نماز کی محبت سکھائیں، انہیں نماز کی اہمیت بتائیں، انہیں مسجد سے جوڑیں، خود ان کے لیے عملی نمونہ بنیں اور گھر میں ایسا ماحول پیدا کریں کہ نماز بوجھ نہیں، بلکہ خوشی اور سکون کا ذریعہ محسوس ہو۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

وَأْمُرْ أَهْلَكَ بِالصَّلَاةِ وَاصْطَبِرْ عَلَيْهَا۔
ترجمہ:”اور اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو اور خود بھی اس پر ثابت قدم رہو۔”(سورۃ طٰہٰ: 132)

ہم سب کے لیے آج کا سبق
نماز کے بارے میں نبی کریم ﷺ کے یہ سخت فرامین ہمیں جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہیں۔ہمیں چاہیے کہ:

* اپنی پانچوں نمازوں کی پابندی کریں۔
* نماز کو وقت پر ادا کرنے کی کوشش کریں۔
* نماز میں خشوع و خضوع پیدا کریں۔
* اپنے بچوں کو نماز کی تعلیم دیں۔
* اپنے اہل و عیال کو نماز کی طرف متوجہ کریں۔
* جو دوست نماز میں سستی کرتے ہیں، انہیں محبت اور حکمت کے ساتھ نماز کی دعوت دیں۔
* نماز کی اہمیت خود سمجھیں اور دوسروں تک بھی پہنچائیں۔

یاد رکھیے! دنیا کی کامیابی چند سال کی ہے، لیکن آخرت کی کامیابی ہمیشہ کی ہے۔ہم اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے بہت فکر کرتے ہیں، ان کی تعلیم، روزگار، کاروبار اور دنیاوی کامیابی کے لیے کوشش کرتے ہیں۔ لیکن سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ ہمارے بچے اور ہمارے گھر والے نماز والے بن جائیں۔

آئیے آج اپنے دل میں پکا عہد کریں کہ:
نماز چھوڑیں گے نہیں، نماز میں سستی کریں گے نہیں، اور اپنے گھر والوں کو بھی نماز سے جوڑیں گےاللہ تعالیٰ ہمیں نماز کی حقیقی قدر و منزلت سمجھنے، پانچوں نمازوں کی پابندی کرنے، اپنے اہل و عیال کو نماز کا پابند بنانے اور دوسروں تک نماز کی دعوت پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ ہمارے ظاہر و باطن کو پاک فرمائے، ہماری روحوں کو اپنی عبادت کے نور سے منور فرمائے اور نماز کو ہماری زندگی، ہمارے سکون اور ہماری آخرت کی نجات کا ذریعہ بنائے۔آمین یا رب العالمین۔

نماز صرف ایک فرض نہیں، یہ بندے کا اپنے رب سے تعلق ہے۔اس تعلق کو مضبوط کیجیے، نماز کو اپنی زندگی کا حصہ نہیں بلکہ اپنی زندگی کی بنیاد بنائیے۔

مصنف کے بارے میں

Avatar photo

محمد عدنان

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment