ہوم << اجودھن: اپنے ہونے کی بازیافت کا بیانیہ .مسرور احمد
600x314

اجودھن: اپنے ہونے کی بازیافت کا بیانیہ .مسرور احمد

میرا تعلق شہرِ فرید، پاکپتن سے ہے، اور جب بھی اس دھرتی سے
وابستہ کسی ادبی شخصیت سے تعارف ہوتا ہے تو دل فخر اور مسرت سے بھر اٹھتا ہے۔ پاکپتن سے تعلق رکھنے والے ممتاز ادیب جناب یاسر رضا آصف کے ناول “اجودھن” کو پڑھنا محض ایک ادبی تجربہ نہیں بلکہ ایک ایسے باطنی سفر میں داخل ہونا ہے جہاں قاری اپنے ہی وجود کی پرتیں کھولتا چلا جاتا ہے۔ یہ ناول روایت کے سیدھے راستے پر چلنے کے بجائے ایک ایسے بیانیہ اسلوب کو اختیار کرتا ہے جو قاری کو سہولت نہیں دیتا بلکہ اسے سوچنے، رکنے، پلٹنے اور دوبارہ پڑھنے پر مجبور کرتا ہے اور یہی اس کی سب سے بڑی طاقت ہے۔

“اجودھن” اپنے عنوان ہی سے ایک تہذیبی گہرائی کا اعلان کرتا ہے۔ پاکپتن کا قدیم نام محض ایک جغرافیائی حوالہ نہیں بلکہ ایک روحانی اور تاریخی استعارہ بن کر سامنے آتا ہے۔ یہ شہر ناول میں پس منظر نہیں بلکہ ایک زندہ کردار کی طرح موجود ہے، سانس لیتا ہوا، یادوں کو محفوظ کرتا ہوا، اور کرداروں کے باطن میں اترتا ہوا۔ یاسر رضا آصف نے جس مہارت سے اس شہر کی روح کو متن میں جذب کیا ہے، وہ ان کی اپنے خطے، اپنی تہذیب اور اپنی شناخت سے گہری وابستگی کا ثبوت ہے۔

ناول کا بیانیہ کسی روایتی پلاٹ کے تابع نہیں۔ یہاں کہانی کسی سیدھی لکیر پر نہیں چلتی بلکہ ایک دائرے کی مانند گھومتی ہے۔ ماضی، حال اور خواب ایک دوسرے میں اس طرح مدغم ہو جاتے ہیں کہ قاری کو حقیقت اور تخیل کے درمیان حد فاصل دھندلی محسوس ہونے لگتی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں یاسر رضا آصف کا طرزِ تحریر اپنی انفرادیت منواتا ہے۔ وہ قاری کو کہانی “سناتے” نہیں بلکہ اسے کہانی کے اندر “چھوڑ” دیتے ہیں۔

“اجودھن” کا مرکزی حوالہ دراصل انسان کی اپنی ذات سے بیگانگی اور اس کی بازیافت ہے۔ ناول کا کردار جب اجودھن کی سرزمین میں داخل ہوتا ہے تو یہ سفر باہر سے زیادہ اندر کا ہوتا ہے۔ یہ تلاش کسی کھوئی ہوئی شے کی نہیں بلکہ اس شناخت کی ہے جو وقت، معاشرتی دباؤ اور جدید زندگی کی بے سمتی میں دھندلا گئی ہے۔ اس اعتبار سے ناول ایک گہرا وجودی متن بن جاتا ہے، ایسا متن جو قاری سے سوال کرتا ہے، جواب نہیں دیتا۔

یاسر رضا آصف وزیر المطالعہ ہیں اور ان کی سب سے نمایاں خوبی ان کا اسلوب ہے۔ ان کی نثر میں شعریت ہے مگر وہ شاعرانہ نہیں لگتی، اس میں فلسفہ ہے مگر وہ بوجھل نہیں ہوتا۔ جملے بظاہر سادہ ہیں لیکن ان کے اندر معنی کی کئی پرتیں پوشیدہ ہیں۔ وہ علامتوں کا استعمال اس طرح کرتے ہیں کہ قاری کو ان کی معنویت خود دریافت کرنی پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ “اجودھن” ایک ایسا ناول ہے جسے ایک بار پڑھنا کافی نہیں، یہ ہر قرأت میں ایک نیا مفہوم دیتا ہے۔

ناول میں خواب ایک اہم فنی وسیلہ ہیں۔ مگر یہ خواب محض تخیلاتی مناظر نہیں بلکہ کردار کی داخلی کیفیتوں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ہر خواب ایک اشارہ ہے، ایک علامت ہے، ایک ایسا دروازہ ہے جو قاری کو مزید گہرائی میں لے جاتا ہے۔ یہاں خواب اور حقیقت کی سرحدیں اس قدر مدغم ہو جاتی ہیں کہ قاری خود فیصلہ نہیں کر پاتا کہ وہ کہاں کھڑا ہے اور شاید یہی مصنف کا مقصد بھی ہے۔

ایک اور قابلِ ذکر پہلو ناول کی ساخت ہے۔ یاسر رضا آصف نے بیانیہ کو روایتی ابواب کے بجائے ایک فکری ترتیب میں پیش کیا ہے۔ ہر حصہ ایک الگ کیفیت، ایک الگ سطح اور ایک الگ سوال کو سامنے لاتا ہے۔ اس سے ناول ایک مسلسل بہاؤ کی بجائے ایک شعوری تجربہ بن جاتا ہے، جہاں ہر مقام پر قاری کو رک کر سوچنا پڑتا ہے۔

تاہم، یہ بھی حقیقت ہے کہ “اجودھن” ہر قاری کے لیے آسان نہیں۔ یہ ناول ان لوگوں کے لیے نہیں جو سیدھی، تیز رفتار اور واقعاتی کہانی چاہتے ہیں۔ اس میں پیچیدگی ہے، ابہام ہے، اور بعض مقامات پر شعوری الجھاؤ بھی محسوس ہوتا ہے۔ مگر یہی عناصر اسے ایک سنجیدہ اور معیاری ادبی تخلیق بناتے ہیں۔ اگر مصنف کچھ مقامات پر بیانیہ کو قدرے مربوط رکھتے تو شاید عام قاری کے لیے رسائی آسان ہو جاتی، مگر اس صورت میں ممکن ہے کہ ناول اپنی فکری گہرائی کھو دیتا۔

ناول کا سب سے متاثر کن پہلو اس کا تہذیبی شعور ہے۔ یاسر رضا آصف نے یہ باور کرایا ہے کہ انسان اپنی جڑوں سے کٹ کر مکمل نہیں ہو سکتا۔ اجودھن کی سرزمین، بابا فرید کی نسبت، اور ماضی کی بازگشت، یہ سب مل کر ایک ایسا ماحول تشکیل دیتے ہیں جہاں قاری اپنے ہی وجود کے ساتھ مکالمہ کرنے لگتا ہے۔ یہ ناول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ترقی اور جدیدیت کے اس دور میں بھی ہماری اصل پہچان ہماری تہذیبی بنیادوں میں ہی پوشیدہ ہے۔

یاسر رضا آصف کا تعلق پاکپتن سے ہے اور وہ تدریس کے شعبے سے وابستہ ہیں، مگر ان کی تحریر میں محض علمی رنگ نہیں بلکہ ایک زندہ تجربہ موجود ہے۔ وہ اپنے قاری کو متاثر کرنے کی کوشش نہیں کرتے بلکہ اسے شریکِ سفر بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ “اجودھن” پڑھتے ہوئے قاری خود کو ایک اجنبی دنیا میں نہیں بلکہ اپنے ہی اندر کی کسی بھولی ہوئی گلی میں محسوس کرتا ہے۔

بطور پہلا ناول، “اجودھن” ایک حیران کن حد تک پختہ اور متوازن تخلیق ہے۔ اس میں وہ فنی اعتماد موجود ہے جو عام طور پر تجربہ کار ناول نگاروں میں دیکھا جاتا ہے۔ یاسر رضا آصف نے نہ صرف ایک کہانی لکھی ہے بلکہ ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا ہے جو اردو ناول کی معاصر روایت میں ایک نمایاں اضافہ ہے۔

مجموعی طور پر “اجودھن” ایک ایسا ناول ہے جو قاری کو محظوظ کرنے سے زیادہ اسے بیدار کرتا ہے۔ یہ ایک فکری چیلنج ہے، ایک روحانی سفر ہے، اور ایک تہذیبی آئینہ ہے۔ یہ ناول ہمیں مجبور کرتا ہے کہ ہم رک کر اپنے ماضی، اپنی شناخت اور اپنی ذات پر غور کریں۔

اگر اردو ادب میں ایسے ناول سامنے آتے رہے تو یقیناً یہ روایت مزید مضبوط اور معنی خیز ہوتی جائے گی۔ یاسر رضا آصف نے “اجودھن” کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ محض ایک اچھے لکھاری نہیں بلکہ ایک صاحبِ طرز ادیب ہیں اور یہی وہ وصف ہے جو کسی بھی تخلیق کار کو زمانے میں زندہ رکھتا ہے۔

سب سے خوش آئند امر یہ ہے کہ اہلِ پاکپتن نے ادب کے اس شہزادے کو نہایت وقار اور محبت کے ساتھ سراہا اور عزت بخشی۔ یہ دیکھ کر دل خوش ہوتا ہے کہ اس شہر کے لوگ مسعود خالد، ڈاکٹر ایوب چشتی اور دیگر اہلِ علم و دانش کی قدر کرتے ہیں اور علم و شعور رکھنے والوں کو حقیقی احترام دیتے ہیں۔ میں پاکپتن کے معروف ڈرامہ نگار اور قلم کار اپنے پیارے دوست محترم رضا اختر کا بھی تہہِ دل سے ممنون ہوں جنہوں نے آصف رضا جیسے نایاب ہیرے سے میرا تعارف کروایا۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ!

مصنف کے بارے میں

admin

تبصرہ لکھیے

Click here to post a comment