ہوم << داستانِ حج 1440 ھ قسط (24) - شاہ فیصل ناصرؔ

داستانِ حج 1440 ھ قسط (24) - شاہ فیصل ناصرؔ

منگل 4 محرم الحرام ١٤٤١ ھ۔ بمطابق 3 ستمبر 2019ء

دیار حبیب ﷺ میں پہلی رات گزارنے کے بعد ہم نے علی الصباح نمازفجر کیلئے تیاری کی اور مسجد النبویﷺ گئے۔ ادائیگی نماز کے بعد ہم فورا ہوٹل واپس ہوئے۔ کیونکہ رات بھر سفر اور تھکاوٹ کی وجہ سے نیند کی شدید ضرورت محسوس کر رہے تھے۔ ہوٹل پہنچتے ہی ناشتہ تیار تھا۔ تھکاوٹ اور بھوک کی حالت میں بروقت ناشتہ ملنا خصوصی انعام الٰہی تھا۔ ناشتہ کے بعد کافی آرام کیا اور تازہ دم ہوکر نماز ظہر کیلئے تیاری کی۔

نماز کے بعد روضۂ رسولﷺ پر سلام پیش کیا۔ نماز عصر کی بعد مدینہ طیبہ کی مشہور مقبرہ ”بقیع الغرقد” گئے۔ بقیع قبرستان مسجد نبوی کی ساتھ بائیں جانب شمال مغرب کی طرف واقع ہے ۔ یہ مدینہ کی شرعی زیارات میں سے ایک ہے۔ یعنی یہاں جانا مسنون اور شرعی عمل ہے ۔ اس قبرستان میں دس ہزار کے قریب صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین مدفون ہیں۔ جنمیں امہات المؤمنين، آپﷺ کی بیٹیاں اور عثمان ؓ بن عفان بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ہزاروں تابعین، تبع تابعین، محدثین، علماء کرام اور امت کے بہترین لوگوں کو اس مبارک مقام نے اپنے پیٹ میں جگہ دی ہے۔

اب بھی روزانہ بہت سے خوش نصیب اس کے مہمان بنتے ہیں۔ اللہ تعالی مدینہ کو ہمارا مسکن اور بقیع کو ہماری آرام گاہ بنائے۔
آپﷺ نے اہل بقیع کیلئے خصوصی دعائیں کی ہیں اور قیامت میں ان کیلئے سفارش بھی فرمائیں گے۔ شام کے قریب حرم نبوی ﷺ واپس ہوئے۔ مسجد النبوی ﷺ میں شروع دن سے درس و تدریس اور تعلیم و تعلم کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ جاری ہے اور جاری رہے گا۔(ان شاء اللہ)

رئاست عامہ برائے امور مسجدالحرام و مسجد النبویﷺ کے تحت درس و تدریس کے حلقے قائم کئے گئے ہیں۔ نماز فجر اور مغرب کے بعد مختلف زبانوں میں علماء کرام قرآن و حدیث کا درس دیتے ہیں اور لوگوں کے سوالات کے مطمئن و مدلل جوابات دیتے ہیں ۔ نماز عصر کے بعد بچوں کی حفظ کلاسیں لگتی ہیں۔ عام اوقات میں بھی زائرین کی نمازوں کی درستگی کیلئے قرآء حضرات موجود رہتے ہیں۔ لیکن بہت افسوس کی بات ہے کہ عام لوگ ان علمی مجالس سے صحیح فائدہ نہیں اٹھاتے ہیں بلکہ وہ زیادہ تر وقت غیر ضروری خریداری اور بازاروں میں گزارتے ہیں۔ نماز مغرب کے بعد ہم نے گیٹ 22 کے قریب ایک عالم کے حلقہ درس میں شرکت کی۔ نماز عشاء کے بعد ہوٹل واپس ہوئے اور کھانا کھاکر سو گئے ۔

بدھ ٥ محرم الحرام ١٤٤١ ھ۔ بمطابق 4 ستمبر 2019ء

نمازفجر سے قبل حرم نبویﷺ گئے۔ تہجد کے بعد نماز باجماعت ادا کی اور پھر سلام کیلئے روضۂ مبارکہ گئے۔ باب السلام کے ساتھ ایک عالم پشتو زبان میں لوگوں کے ایک مجمع سے مخاطب تھے۔ ہم بھی ان کے حلقہ درس میں شامل ہوئے۔ درس کی بعد ان سے تعارف ہوئی، شیخ عبدالحئ محمدجان گزشتہ پندرہ سال سے ادهر مدینةالنبیﷺ میں مقیم ہیں، رہائشی تعلق پشاور سے ہے۔ جامعہ اسلامیہ مدینہ سے پی ایچ ڈی کی ہے، بہترین داعی اور واعظ ہے۔ نمازفجر سے 10 بجے تک باب السلام کے ساتھ وہ حجاج اور زائرین کی رہنمائی کیلئے موجود رہتے ہیں۔ ان کے ساتھ طویل بیٹھک کے بعد ہم نے ریاض الجنة جانے کا ارادہ کیا۔

ریاض الجنّة : مسجد نبوی ﷺ میں ایک قطعہ ارضی کو آپﷺ نے جنت کا باغیچہ ”ریاض الجنة ” کہا ہے۔ یہ حصہ جنت سے لایا گیا ہے، یا قیامت کے روز یہ جگہ جنت لی جائے جائیگی یا یہاں عبادت کرنا جنت کے دخول کا سبب ہوگا۔ اسلئے یہاں بہت زیادہ رش ہوتا ہے۔ یہاں پہنچنے کیلئے آپ کو گھنٹہ دو گھنٹے انتظار کرنا پڑے گا۔ اگر آپ کو موقع مل جائے تو وہاں دو چار رکعت نوافل پڑھ لے اور دعا کرکے دوسرے مسلمان بھائی کیلئے جگہ چھوڑ دیں۔ بعض لوگ ایک دفعہ ریاض الجنت کو داخل ہوکر دس بیس رکعات نوافل پڑھتے ہیں اور گھنٹے گزارتے ہیں۔ ایسا نہیں کرنا چاہیے ۔

جمعرات ٦ محرم الحرام ١٤٤١ ھ۔ بمطابق 5 ستمبر 2019ء

آثار النبیﷺ

رسول اللهﷺ نے مدینہ منورہ ہجرت کرنے کے بعد اپنی عمر کے بقیہ دس سال یہی گزارے اسلئے پورے مدینہ میں آپﷺ اور آپ کے جان نثار صحابہ کرام رضوان الله علیھم اجمعین، کے آثار موجود ہیں جن میں بعض کی شرعی حیثیت ہے اور بعض تاریخی حیثیت کی حامل ہیں۔ آج ہم نے ان میں سے بعض مقامات کی زیارت کا ارادہ کیا۔ اس مقصد کیلئے ہم (9ساتھیوں) نے ایک عرب ڈرائیور ابوالفیصل کی خدمات حاصل کی وہ بہت ہی مرنجان مرنج شخصیت تھا۔ راستے میں مزے مزے کی باتیں بھی کرتے اور مقامات کے بارے میں معلومات بھی بتاتے۔ ہم نے بالترتیب درجہ ذیل مقامات کی زیارت کی سعادت حاصل کی۔

اُحد کا پہاڑ اور میدان (غزوہ احد کا مقام): اُحد مدینہ منورہ کا مشہور پہاڑ ہے، جو مسجد نبویﷺ سے ساڑھے پانچ کلومیٹر (3میل)، مدینہ کی شمالی جانب واقع ہے۔ اس کی لمبائی تقریبا چھ کلومیٹر ہے۔ اس پہاڑ کے بارے میں آپﷺ نے فرمایا: ’’ هَذَا جَبَلٌ يُحِبُّنَا وَنُحِبُّهُ ” اُحد ایسا پہاڑ ہے جو ہم سے محبت کرتا ہے اور ہم اس سے محبت کرتے ہیں‘‘(بخاری.2889)۔ کئی احادیث میں اُحد کا ذکر آیا ہے۔ اگر یوں کہا جائے کہ مدینہ اور اُحد لازم ملزوم ہے تو غلط نہ ہوگا کیونکہ جہاں مدینے کا ذکر آتا ہے وہاں اُحد کا ذکر بھی آتا ہے۔

یہاں اُحد کے قریب سن 3 هجری میں اسلامی تاریخ کی ایک مشہور جنگ لڑی گئی ہے، جسمیں 70 صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین شہید ہوئے تھے۔شہداء میں آپﷺ کا محبوب چچا سیدالشھداء حمزہ ؓبن عبدالمطلب بھی شامل تھے۔ ان تمام شہداء کے مقبرہ یہاں ہے۔ آپﷺ اپنی وفات سے چند روز قبل شہداء اُحد کی زیارت کیلئے گئے اور ان کیلئے دعائیں کی۔ اسلئے شہداء اُحد کی زیارت شرعی حیثیت رکھتی ہے۔

ہم پہلے اس چھوٹے پہاڑ ”جبل رماة” پر چڑھ گئے جہاں آپﷺ نے عبداللہ بن جبیرؓ کی قیادت میں پچاس تیر انداز بٹھائے تھے۔
میں نے ساتھیوں کو غزوہ اُحد کا پس منظر و پیش منظر مختصر بیان کیا۔ اس کے بعد شہداء اُحد کے مقبرہ کو آگئے اور مسنون دعا کرکے یہاں سے رخصت ہوئے۔

مسجدقبلتین:نبی کریم ﷺ ہجرت کے بعد سولہ یا سترہ مہینے بیت المقدس کی طرف نماز پڑھتے رہے۔ رجب یا شعبان سن 2 ہجری میں تحویل قبلہ کا حکم نازل ہوا ۔ نبی کریم ﷺ قباء میں بشر ؓ بن براء بن معرور کے ہاں دعوت پر گئے ہوئے تھے۔ نماز ظہر دو رکعت بیت المقدس کی طرف پڑھنے کی بعد قبلہ کی تبدیلی کا حکم نازل ہوا تو آپﷺ دوران نماز کعبہ کے رخ پھیر گئے۔ موجود صحابہ کرام نے بھی آپﷺ کا اتباع کرکے اپنا رخ بیت المقدس سے بیت اللہ کی طرف پھیر لیاتھا۔

دونوں قبلے بالکل مخالف سمت میں تھے۔ بیت المقدس شمال کی طرف ہے جبکہ مکہ بیت اللہ الحرام جنوب کی طرف واقع ہے۔
اس مسجد کو ”مسجد قبلتین” اسلئے کہا جاتا ہے، کہ اس میں ایک نماز دو قبلوں کی طرف پڑھی گئی تھی۔ یہ مسجد بنی سلمہ کے محلے میں واقع ہے۔ (جاری)

Comments

Click here to post a comment