ہوم << یہ بھی پاکستان ہے - جاوید چوہدری

یہ بھی پاکستان ہے - جاوید چوہدری

یہ تین لوگوں کی تین کہانیاں ہیں‘ میں جب ان تینوں لوگوں سے متعارف ہوا‘ میں نے ان کی داستانیں سنی تو میرا پہلا تاثر تھا کیا یہ بھی پاکستانی ہیں؟ اور اگر یہ پاکستانی ہیں تو پھر ہم کون ہیں؟ آپ کو اس سوال کے جواب سے پہلے یہ تین کہانیاں پڑھنی چاہییں۔

پہلی کہانی کے ہیرو خالد جاوید ہیں‘یہ اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں‘ ان کی عمر 68 سال ہے‘یہ برطانیہ میں جاب کرتے رہے‘ ان کے دوبیٹے اور ایک بیٹی ہے‘ ایک بیٹا ڈاکٹر ہے‘ دوسرا کینیڈا میں جاب کررہا ہے جب کہ بیٹی اسلام آباد میں رہائش پذیر ہے‘یہ درد دل رکھنے والے انسان ہیں‘یہ بھی پاکستان کے حالات سے کڑھتے رہتے تھے۔

آئے دن کے واقعات ان کے دل کو بھی زخمی کرتے تھے‘ انھوں نے اس تکلیف دہ صورت حال سے نکلنے کے لیے ایک دل چسپ اور حیرت انگیز حل تلاش کیا‘ انھوں نے پاکستان کے نام پر ‘ اس کی مٹی کے نام پر اور اپنے خاندان کے نام پر صدقہ کرنے کا فیصلہ کیا‘ ان کا خیال ہے ہمیں پاکستان کے حالات پر کڑھنے کے بجائے ملک میں تعلیم کے ذریعے تبدیلی لانے کی کوشش کرنی چاہیے۔

یہ ریڈ فاؤنڈیشن سے متعارف ہوئے اور یہ2001 سے 2022 تک ریڈ فاؤنڈیشن کے ذریعے 22تعلیمی ادارے بنا چکے ہیں‘ یہ سال میں دو بار ان تعلیمی اداروں کا وزٹ کرتے ہیں‘ اپنے اداروں کے غریب اور یتیم بچوں سے ملتے ہیں ‘یہ بچے اوران اسکولوں کا اسٹاف ان کے لیے انرجی کا ذریعہ ہیں۔

دو سال قبل ان کی بیگم کو کینسر ہو گیا لیکن اس صدقے کی برکت اور بچوں کی دعاؤں نے ان کو شفایاب کر دیا‘خالد جاوید نے اپنے تینوں بچوں ‘بیگم ‘ بھائی اور خاندان کے دیگر افراد کے نام پر یہ تعلیمی ادارے بنائے ہیں اور یہ ادارے ان کے لیے اور پاکستان کے لیے صدقہ جاریہ کا ذریعہ بن رہے ہیں۔

دوسری کہانی خاورمحمود صاحب کی ہے‘ خاورمحمود صاحب سیالکوٹ کے رہائشی ہیں‘انھوں نے پاکستان میں کاروبار کیا‘ ناکام ہوئے ‘ کاروبار ڈوب گیا اور یہ سعودیہ اور پھر دوبئی شفٹ ہوگئے‘ معمولی نوکریاں کیں‘ فاقے کاٹے ‘ کھلے آسمان تلے راتیں گزاریں اور پھر اللہ نے ان پر اپنا فضل کیا اور ان کا کاروبار چل پڑا‘ یہ اب تین کمپنیوں کے مالک ہیں ‘یہ بھی پاکستان کے حوالے سے بہت فکر رکھنے والے انسان ہیں۔

انھوں نے بھی خالد جاوید کی طرح بچوں کی تعلیم کے ذریعے پاکستان اور اس مٹی کا قرض ادا کرنے کا فیصلہ کیا‘یہ میرے ایک کالم کے ذریعے ریڈفاؤنڈیشن سے متعارف ہوئے ‘ پاکستان آئے ‘فاؤنڈیشن کے ہیڈ آفس اور تعلیمی اداروں کا وزٹ کیا اور248 یتیم بچوں کی کفالت کی ذمے داری لے لی‘یہ سال میں ایک بار پاکستان آتے ہیں۔

ان بچوں سے ملتے ہیں ‘ان کے لیے کھلونے اور کھانے کا انتظام کرتے ہیںاورحقیقی خوشی کا ایک احساس دل میں لے کر نئے جذبے سے واپس لوٹ جاتے ہیں‘خاور محمود سے اب جو بھی سوال کرتا ہے آپ کے کتنے بچے ہیں تو یہ جواب دیتے ہیں 248۔

تیسری کہانی ایک 27 سالہ نوجوان محمد یٰسین کی ہے‘ یہ پنجاب سے تعلق رکھتا ہے‘اس کی عمر جب 6سال تھی تو اس کے والد کا انتقال ہو گیا‘والدہ نے اپنے بچوں کو انتہائی مشقت سے پالا‘ محمد یٰسین والدہ کی مشقت دیکھتا تو اس کا دل بیٹھ جاتا لیکن اس نے عزم کیااور اپنے گاؤں کی زمین بیچ کر کراچی میں کاروبار شروع کر دیا۔

یہ ابھی تک کرائے کے گھر میں رہتا ہے اور اس کے پاس اپنی گاڑی بھی نہیں تاہم اس نے ایک اصول طے کر رکھا ہے‘ یہ اپنے منافع کے تین حصے کرتا ہے‘ ایک حصے سے گھر چلاتا ہے‘ ایک حصہ واپس کاروبار میں لگاتا ہے اور ایک حصے سے یتیم بچوں کو تعلیم دیتا ہے۔

یہ بھی میرے کالم کے ذریعے فاؤنڈیشن سے جڑا اور یہ اب تک ریڈ فاؤنڈیشن کے 40یتیم بچوںکوسپانسرکر چکا ہے‘یہ ہرماہ اپنی آمدنی سے ایک لاکھ روپے فاؤنڈیشن کو ارسال کر دیتا ہے‘فاؤنڈیشن اس کو بچوں کی تفصیل‘ تصاویر اور رزلٹ دیتی ہے اوریہ جوانی کی عمر میں پاکستان کے لیے صدقہ کر رہا ہے اور میں اس کی جوانی پر صدقے واری ہوتا رہتا ہوں۔

پاکستان میں صدقہ کرنے والے ایسے لوگ سالانہ 240 ارب روپے صدقہ کرتے ہیں اور آپ کے لیے یہ حیرانی کی بات ہوگی یہ رقم انڈیا سے دگنی ہے یعنی انڈیا کے سوا ارب لوگ پاکستان کے 23کروڑ لوگوں کی نسبت آدھی ڈونیشن دیتے ہیں اور یہ ہمارے کل جی ڈی پی کا ایک فیصد ہے‘ صدقہ کی رقم کے حساب سے پاکستان دنیا کے چار بڑے ممالک میں شامل ہے۔

خالد جاوید‘خاورمحمود اور محمد یٰسین جیسے سیکڑوں پاکستانی اس مٹی کا قرض چکا رہے ہیں‘ اس کے لیے صدقہ کر رہے ہیں اور اس صدقے نے تمام تر خراب حالات کے باوجود پاکستان کو قائم رکھا ہوا ہے‘آپ یقین کریں جس دن ان لوگوں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا اس دن پاکستان کا قائم رہنا مشکل ہو جائے گا‘کیوں؟ کیوں کہ ہم نے اس کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی لہٰذا یہ لوگ اس مٹی کا نمک ہیں‘ ملک میں رنگ و بو کا ذائقہ ان ہی کی بدولت ہے۔

ہماری بہاریں اور خوشیاں ان ہی کی وجہ سے ہیں چناں چہ آپ بھی ان کی صفوں میں شامل ہو کرپاکستان کے لیے صدقہ کر سکتے ہیں‘ ریڈفاؤنڈیشن تعلیم کے میدان میں کمال کررہی ہے‘ یہ کرائے کی عمارتوں میں تعلیمی ادارے قائم کرتی ہے۔

غریب اور یتیم بچوں کو مفت تعلیم دیتی ہے اور مخیر حضرات کے تعاون سے عمارتوں کی تعمیر اور یتیم بچوں کی کفالت کا کام کرتی ہے‘ فاؤنڈیشن کے چارسو سے زائد اسکولز میں سوالاکھ بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں ‘13ہزار یتیم بچے ان اداروں میں زیر تعلیم ہیں اور 20ہزار یتیم بچے تعلیم حاصل کر چکے ہیں۔

آپ ریڈ فاؤنڈیشن کے یتیم بچوں کے پراجیکٹ میںاپنا حصہ ڈالنا چاہتے ہیں توصرف 30 ہزار روپے سالانہ سے ایک یتیم بچہ اپنے نام کر سکتے ہیںاگر اللہ نے آپ کو عطا کر رکھا ہے تو آپ ایک سے زیادہ بچوں کی کفالت کا ذمہ بھی لے سکتے ہیں اور اگر گنجائش کم ہے تو 2500روپے ماہانہ سے ایک بچے یا بچی کی کفالت کا ذمہ لے لیں اور دیکھیں اللہ آپ کی جان اور مال میں کیسے برکت ڈالتا ہے؟ یہ رقم آپ اپنی زکوٰۃ سے بھی اد اکر سکتے ہیں۔

فاؤنڈیشن کے کام کی مکمل تفصیل اور دیگر پراجیکٹس کے لیے نیچے دیے گے نمبرزاور بذریعہ ای میل یا واٹس ایپ رابطہ کر سکتے ہیں۔ فاؤنڈیشن کے اکاؤنٹ نمبر اور رابطے کی تفصیلات نیچے درج ہیں۔

آپ نیچے دیے گئے اکاؤنٹ نمبرزمیں رقم جمع کروا کر دیے گئے فون نمبرز پر تفصیل بھیج دیں۔ فاؤنڈیشن کا نمایندہ آپ کو یتیم بچوں کی مکمل تفصیل اور آپ کی طرف سے جمع کردہ رقم کی رسید ارسال کرے گا۔

اکاؤنٹ نمبرز:

فیصل بینک

اکاؤنٹ ٹائٹل: READ FOUNDATION

اکاؤنٹ نمبر3048308900031361:

انٹرنیشنل بینک اکاؤنٹ

نمبرPK21FAYS3048308900031361:

سوفٹ کوڈ: FAYSPKKA

بینک برانچ: گراؤنڈ فلور ، گرینڈ جور پلازہ، مین کری روڈ ، اسلام آباد

میزان بینک

اکاؤنٹ ٹائٹل: READ FOUNDATION

اکاؤنٹ نمبر:0 3 0 3 0 1 0 0 2 3 5 7 8 8

انٹرنیشنل بینک اکاؤنٹ نمبرPK57MEZN0003030100235788:

سوفٹ کوڈ: MEZNPKKA

بینک برانچ: F-7مرکز، جناح سپر مارکیٹ ، اسلام آباد

آپ اپنیJazz Cash App کے ذریعے بھی ڈونیشن دے سکتے ہیں۔ اپنی جیز کیش ایپ یا کسی دوسرے جیز کیش اکاؤنٹ ہولڈر سے ڈونیشن کے آپشن پر کلک کرنے کے بعد READ Foundationکا انتخاب کریں اور عطیہ کر دیں۔ ٹرانسفر کے بعد رسید فاؤنڈیشن کے نمایندے کوواٹس ایپ کر دیں۔

رابطہ نمبرز:

موبائل نمبر:+92 (0) 314 5025 767

واٹس ایپ : +92 (0) 334 9272 523

یو اے این: +92 (0) 51 111 323 424

ای میل ایڈریس:

sponsor@readfoundation.org

ویب سائٹ: www.readfoundation.org

Comments

Click here to post a comment