ہوم << جوائے لینڈ"پرتنقید کیوں-ظفر رامے

جوائے لینڈ"پرتنقید کیوں-ظفر رامے

"ایک فلم سے ان کا اسلام خطرے میں پڑجاتا ہے؟" جی ہاں!پڑجاتا ہے۔۔۔
کیونکہ
جو میڈیاکنٹرول کرتا ہے وہی(عوام کا) ذہن کنٹرول کرتا ہے۔معروف امریکی ماہرنفسیات گورڈن ایلپورٹ کامانناہے"فلم اور ڈراموں کےکرداروں سے "تصوراتی تعلق"انسانی فکرمیں بڑی تبدیلی کی وجہ بنتاہے"۔لیکن عوام کے ذہن میں کوئی بھی نئی فکرڈالنےکیلئے اشارےکنائے سےکھلےالفاظ تک کاطویل سفرکرناپڑتاہے۔فلم اور ٹی وی میڈیاکابنیادی ٹول ہیں۔میڈیا کی100سالہ تاریخ میں ہم جنس پرستی کی فکری تشہیر بھی انہیں مراحل سے گزری۔ ہالی وڈ میں ابتدائی 30سال تک براہ راست ہم جنس پرست کردار دکھانے پرپابندی رہی۔پہلے پہل ان فلموں میں صرف مزاح کی حد تک یعنی جملے بازی کیلئےہم جنس کردارمتعارف کرائےگئے۔امریکامیں 50 برس بعد 70کی دہائی میں "راکی ہارر پکچر شو "کےنام سےایک پروگرام شروع ہواجس میں ہم جنس پرستی کی حمایت میں کھل کربات کی گئی۔
اورآج سوسال بعدامریکااورمغرب انہیں تدریجی مراحل سےگزرکرہم جنس پرست معاشرےبن چکے۔جہاں مرد کی مرد اورعورت کی عورت سے"شادی"نارمل رویہ ہے اورعیسائیت میں گناہ ہونے کےباوجود ہم جنس پرستی کوقانونی تحفظ مل چکا
پاکستان سمیت اسلامی ممالک میں بھی یہی کیاجارہاہے۔ٹرانسجینڈر ایکٹ اورہم جنس پرستی پر"جوائے لینڈ"جیسی فلموں سےذہن سازی کی جارہی ہے۔اس فلم میں بھی ہم جنس پرست "ہیرو"دکھایاگیا ہےجو شادی شدہ ہےلیکن اسےایک مرد ڈانسرسے "پیار"ہوجاتاہے۔ جذباتی مکالموں سےدونوں کےاحساسات کو "گلوری فائی"کیاگیا ہے۔ انہیں انتہائی مجبوراورمظلوم دکھاکرہمدردی کا مستحق دکھایاگیاہے۔
ایسی فلمیں اچانک نہیں بنتیں بلکہ مربوط نظام کی پیداوارہیں ۔ان کے پیچھے وہ بااثرلابیز ہوتی ہیں جو ہم جنس پرستی جیسےنظریات کیلئےکام کرتی ہیں۔ملالہ یوسفزئی جیسی شخصیات ہوتی ہیں جوخود اس فلم کی ایگزیکٹو پروڈیوسر ہے۔
یہی وجہ ہے کہ شدید تنقید کےباوجودوفاقی حکومت نے"جوائے لینڈ"دکھانےکی اجازت دیدی اور18نومبر کو سینماوں میں لگا دی گئی۔
یہ اس ملک میں ہو رہا ہےجو لاالہ اللہ کےنام پربناتھا
لبرل اورسیکیولرلوگ کہتے ہیں
"صرف ایک فلم سے ان کااسلام خطرے میں پڑجاتا ہے؟"
جی ہاں !پڑ جاتاہے..
کیونکہ یہ فلمیں ہماری نسلوں کیساتھ وہی کریں گی جیسا 70 سال کے تدریجی عمل نےیورپ میں کیا
اور ہم جنس پرستی کے ذلت آمیز رویے کو عام انسانی رویہ بنادیا

Comments

Click here to post a comment