ہوم << داستانِ حج 1440 ھ قسط (16) - شاہ فیصل ناصرؔ

داستانِ حج 1440 ھ قسط (16) - شاہ فیصل ناصرؔ

اتوار 10 ذى الحج 1440ھ بمطابق 11 اگست 2019ء ۔ یوم النحر، عیدالاضحٰی کا دن

منٰی روانگی اور رمی جمرات: مزدلفہ میں کھلے آسمان تلے پُرسکون رات گزار کر صبح سویرے ہم بیدار ہوئے۔ قریبی وضو خانے میں وضو بناکر ایک عرب خاندان کیساتھ نمازفجر باجماعت ادا کی۔ مسنون اذکار پڑھنے کے بعد اپنا سامان باندھ لیا۔ مزدلفہ میں سورج نکلنے سے تھوڑی دیر قبل وقوف اور دعا کرنا واجب اور مناسک حج میں سے ہے۔ اس وقوف کیلئے ہم نے تھوڑا انتظار کیا۔ اور پھر منٰی کی طرف روانہ ہوئے۔ یہاں بس ملنا مشکل تھا، کیونکہ مختلف مکاتب کے لوگ جمع تھے۔

ہم نے پیدل چلنے کا فیصلہ کیا اور بسم اللہ کرکے پیدل چلنے والے قافلوں میں شامل ہوئے۔ حجاج کرام مسلسل تلبیہ اور تکبیرات بیک وقت بلند آواز سے کہہ کر فضا کو مسحور کن بنا رہے تھے۔ منٰی کی حدود میں داخل ہوتے ہی سورج نکل آیا۔ موسم خوشگوار اور گرمی قابل برداشت تھی۔ راستے پر جگہ جگہ پولیس ہاتھوں میں پانی کی بوتل لیکر لوگوں پر چھڑکتے تھے۔مزدلفہ اور منٰی کی درمیانی جگہ وادی محسر ہے، وہ جگہ جہاں اصحاب الفیل (ابرہہ اور ساتھیوں) پر پرندوں کے ذریعے سنگ باری کرکے عذاب نازل ہواتھا۔ رسول اللہﷺ یہاں سے تیز گزرے تھے، ہم نے بھی اس سنت پر عمل کیا۔

ہمارا خیال تھا کہ ہم پہلے اپنے خیمے میں جاکر سامان رکھیں گے، ناشتہ کرکے آرام کریں گے اور پھر رمی کیلئے جمرات جائیں گے، لیکن ہمیں پتہ بھی نہ چلا اور جمرات کمپلیکس پہنچ گئے۔ پولیسں رش کو کم کرنے اور ہجوم کو منظم کرنے کیلئے حجاج کرام کو مختلف راستوں میں تقسیم کرتے۔ ہم فسٹ فلور کی راستے سے جمرات پہنچ گئے۔آج صرف جمرہ کبریٰ (بڑے جمرے) کو کنکریاں مارنی ہے۔ منٰی سے آتے ہوئے پہلا جمرہ اولٰی (چھوٹا شیطان) پھر درمیانی (جمرہ وسطٰی) اور آخر میں مکہ کی طرف جمرہ عقبہ (کبریٰ) آتے ہیں۔ رش کے باوجود ہمارے گروپ نے اکٹھے ہوکر سہولت کی ساتھ رمی کی اور جلدی (تقریبا پونے دس بج رہے تھے۔) فارغ ہوئے۔ لیکن ہمارے دو ساتھی حاجی نوازخان اور عبدالجبار بچھڑ گئے۔

خوشی کے بعد ایک تکلیف کا سامنا: حج کے تمام اعمال میں ہمیں رمی مشکل معلوم ہو رہی تھی، اسلئے جلدی اور سہولت سے فارغ ہوکر بہت خوشی ہوئی۔ لیکن حج میں کہیں نہ کہیں تکلیف ضرور آتی ہے۔ ہمیں یہ تکلیف واپسی میں اٹھانا پڑی جب رمی کے بعد ہم نے اپنے مکتب کو واپس جانا چاہا۔ واپسی کیلئے ہم نے بائیں جانب پرانی مسجد عقبہ کا راستہ اختیار کیا۔ ہمارا خیال تھا کہ چند منٹ میں ہم اپنے مکتب پہنچیں گے، لیکن پولیس نے واپسی کیلئے تمام قریبی راستے بند کئے تھے، صرف پہاڑ کی جانب سرنگوں والا راستہ کھلا تھا جسمیں واپس مڑنے کیلئے کوئی یوٹرن نہیں تھا۔ جوں جوں ہم آگے بڑھتے، اپنے کیمپ سے جدا ہوتے جاتے۔ اس طرف کوئی بھی پاکستانی معاون حج نظر نہیں آیا جن سے راستے کی متعلق صحیح معلومات حاصل ہوسکیں۔

پولیس والوں سے جب پوچھتے تو وہ آگے کی طرف جانے کا اشارہ کرتے۔ جہاں قربان گاہ (مجازر المعیصم) کی طرف جانے والے راستے کے بورڈز لگے ہوئے تھے۔ احرام میں ہوتے ہوئے گرمی، تھکاوٹ اور اتنا زیادہ پیدل چلنے سے ہماری حالت خراب ہو رہی تھی۔ کئی کلومیٹر چلنے اور کئی ٹنل پار کرنے کے بعد ایک جگہ دوراہا آیا۔ یہاں انڈونیشیا اور ملائشیا وغیرہ حجاج کے مکاتب تھے۔ ایک چھوٹا سا بازار بھی تھا جسمیں بہت چہل پہل تھی۔ پولیس سے اجازت لیکر ہم راستے کی ایک طرف آرام کرنے بیٹھ گئے۔

قربان گاہ تک آنے جانے میں تکلیف: یہاں ہم نے مشورہ کیا کہ کچھ ساتھی قربانی کرنے کیلئے قربان گاہ جائے اور باقی اپنی خیمے کو۔ قربانی کرنے کیلئے مجھے، صوبیدار مستقیم خان اور دین بوبرائی منتخب ہوئے۔ باقی ساتھی یہی سے مکتب واپس ہوئے اور ہم منٰی کی آخری طرف واقع المعیصم قربان گاہ روانہ ہوئے۔ اب بھی کافی فاصلہ تھا۔ تقریبا تین ٹنل پاس کرنے کے بعد ہم منٰی سے باہر المعیصم علاقہ میں داخل ہوئے۔ یہاں کا ماحول منٰی سے بالکل مختلف تھا۔ حج کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے، ایسا لگتا کہ ہم کسی دوسرے ملک میں داخل ہوئے۔ کہیں اکادکا حاجی احرام میں ملبوس نظر آتا، جو ہماری طرح خود اپنے ہاتھ سے قربانی کرنے کیلئے آئے تھے۔ یہاں کئی ایکڑ زمین پر محیط تین چار قربان گاہیں تھے۔

ہر قربان گاہ کے سامنے کمپیوٹرائزڈ رجسٹریشن ریسپشن تھا، جہاں مطلوبہ رقم وصول کرکے ٹوکن دیا جاتا۔ ہم روڈ کی اُس سائیڈ پر واقع قربان گاہ گئے۔ جہاں دنبے کی قیمت 490 ریال تھی۔ ہم نے سات ٹوکن لئے اور اندر داخل ہوئے۔ یہاں کئے مذبح خانے تھے، اور ہر ایک کے اندر مسلسل صبح سے ذبح جاری تھا۔ ایک ہی قسم اور رنگ کے دنبے دروازے سے نکال دئے جاتے اور وہاں تیار کھڑے قصاب سیکنڈوں کے اندر ذبح کرتے۔ ہم ایک ذبح خانے میں داخل ہوئے اور دروازے میں کھڑے شخص کو ٹوکن دئے۔ اس نے سات دنبے نکال دئیے۔ میں ایک ایک پر ہاتھ رکھ کر اپنے ساتھی کا نام لیتا اور قصاب بسم اللہ اللہ اکبر کہہ کر ذبح کرتا۔ یوں اپنی موجودگی میں قربانی کرکے ہم مطمئن اور خوش ہوئے۔ بارہ بج رہے تھے۔

ہم نے خیمہ میں موجود اپنے ساتھیوں کو قربانی کی اطلاع اور سر مونڈوانے کیلئے کال کیا۔ اب ہم دوبارہ اپنے مکتب کو واپسی کیلئے ایک لمبے سفر پر روانہ ہوئے۔ واپسی آسان تھی لیکن راستوں کی بندش نے ہمارا فاصلہ دگنا کیا۔ اس طرف کوئی پاکستانی معاون حج نہیں تھا۔ پولیس والوں کو بھی مکتب تین جانے والا صحیح راستہ معلوم نہ تھا۔ اسلئے ہمیں بہت تکلیف اور تھکاوٹ اٹھانی پڑی۔
ہم سٹریٹ نمبر 655 پر یورپین کیمپ کے ساتھ جنوب کی طرف روانہ ہوئے اور الوادی ہسپتال کیساتھ فلائی اور کی ذریعے مغرب کی طرف کنگ فہد روڈ پہ آگئے۔ آگے جاکر پولیس نے راستہ بند کیاتھا اور ایرانی حجاج کو کڑی نگرانی میں رمی کیلئے روانہ کیا تھا۔ ان کے درمیان سے نکل کر بالآخر ہم سوق العرب روڈ نمبر 62 پہ آگئے۔ لیکن اب بھی اپنے خیمہ سے کافی دور تھے۔ ہمارا خیمہ پول نمبر 2/62 کیساتھ تھا، اور اب ہم 92/62 پول کے قریب تھے۔

تھکاوٹ کا یہ عالم تھا کہ ایک جگہ صوبیدار مستقیم خان نڈھال ہوکر بیٹھ گیا۔ آخر خدا خدا کرکے تقریبا 2 بجے اپنے مکتب پہنچ گئے۔ صبح 8 بجے سے اب تک ہم نے تقریبا پچیس، تیس کلومیٹر پیدل سفر کیا۔ خیمہ پہنچ کر تھوڑا آرام کیا اور پھر نمازوطعام کی بعد سر مونڈوا کر غسل کرکے کپڑے پہن لیا ۔ اب ہمیں حج کے فرائض و مناسک میں طواف زیارت اور سعی کرنا رہ گیا۔ لیکن یہ ایام تشریق (10، 11، 12 ذی الحجہ) کو کسی بھی وقت ادا کیا جاسکتا ہے ۔ اگر چہ سنت اور بہتر آج یعنی 10 ذی الحج عید کے دن کو ادا کرنا ہے۔ لیکن شدید تھکاوٹ کی وجہ سے ہماری لئے آج طواف کرنا ممکن نہ تھا۔ ویسے بھی آج پہلے دن شدید رش کی وجہ سے مشکل زیادہ ہوتی ہے اسلئے ہم نے اسے کل تک مؤخر کیا اور سوگئے۔

اس تھوڑی سی نیند نے ہماری تھکاوٹ کو دور کرکے بشاشت بحال کی۔ نماز عصر کے بعد جمرات کی طرف چکر لگایا۔ وہاں شیخ ضیاالرحمان بن شیخ جمیل الرحمن شہید سے ملاقات ہوئی جو مدینہ میں مقیم تھا اور حج کے دوران اسلامی کتب کی مفت تقسیم پروگرام میں ڈیوٹی ادا کر رہا تھا۔ تعارف کے بعد اس نے ہمیں کتابیں دئے، ساتھ ہی ہمارے سابقہ امام اور استاد شیخ خوشحال خان حلیم کا رابطہ نمبر بھی دیا۔ جن سے رابطہ کرنے پر بہت خوشی ہوئی ۔ نمازمغرب کیلئے خیمہ واپس ہوئے۔ کھانا کھانے اور نماز عشاء کی بعد سو گئے۔

Comments

Click here to post a comment