ہوم << خدمتِ خلق - مفتی منیب الرحمٰن

خدمتِ خلق - مفتی منیب الرحمٰن

حضرت عبداللہ بن عمر بیان کرتے ہیں: ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اورعرض کی: یارسول اللہ! وہ کون شخص ہے جو اللہ کو سب سے زیادہ محبوب ہے اور کون سا عمل ہے جو اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: لوگوں میں سے اللہ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ محبوب وہ ہے ،جس کی ذات انسانیت کے لیے سب سے زیادہ نفع بخش ہو اور اللہ تعالیٰ کو وہ عمل سب سے زیادہ محبوب ہے جو کسی مسلمان کو خوشی عطا کرے یا کسی مصیبت زدہ سے مصیبت کو دور کرے یا اُس کا قرض ادا کرے یا اُسے بھوک سے نَجات دے، میں کسی بھائی کی حاجت روائی کے لیے اُس کے ساتھ پیدل چلوں ، یہ مسجدِ نبوی میں ایک مہینے کے اعتکاف سے زیادہ مجھے محبوب ہے اور جو اپنے غصے پر قابو پائے گا، اللہ تعالیٰ اُس کی( کمزوریوں )پرپردہ ڈالے گااور جو غصے کو ضبط کرلے گا،اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُس کے دل کو امن سے بھردے گااور جو اپنے بھائی کے ساتھ چل کر اس کی حاجت پوری کردے توجب پلِ صراط پر سب کے قدم ڈگمگا رہے ہوں گے، اللہ تعالیٰ اُسے ثابت قدم رکھے گا،(المعجم الاوسط للطبرانی:6026)‘‘، علامہ اقبال نے اسی مفہومِ حدیث کو اپنے شعر میں بیان کیا ہے:

خدا کے بندے تو ہیں ہزاروں، بنوں میں پھرتے ہیں مارے مارے

میں اس کا بندہ بنوں گا، جس کو خدا کے بندوں سے پیار ہوگا

اللہ تعالیٰ نے فرمایا: (۱)’’پس وہ (دشوار) گھاٹی میں کیوں نہ داخل ہوا اور تو کیا جانے کہ وہ گھاٹی کیا ہے؟، وہ (قرض یا غلامی سے ) گردن چھڑانا یا بھوک کے دن کھانا کھلانا ہے، ایسے یتیم کوجو رشتے دار بھی ہو یا کسی خاک نشین مسکین کو ،(البلد:11-16)‘‘، (۲)’’بات یہ ہے کہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے ہو اور ایک دوسرے کو کھانے کھلانے کی طرف راغب نہیں کرتے ہواور وراثت کا سارے کا سارا مال ہڑپ کرجاتے ہو اور مال سے ٹوٹ کر محبت کرتے ہو،(الفجر:17-20)‘‘۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: (۱)مسلمان ،مسلمان کا بھائی ہے،نہ اُس پر خود ظلم کرتا ہے اور نہ (مصیبت میں) اُسے بے یارومددگار چھوڑتا ہے، جو اپنے بھائی کی حاجت روائی کرے گا، اللہ تعالیٰ اُس کی حاجت روائی فرمائے گا اور جو کسی مسلمان سے تکلیف کو دور کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اُس کی تکلیفوں کودور فرمائے گااور جو کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا، (بخاری:2442)‘‘،

(۲) ’’اﷲ تعالیٰ قیامت کے دن فرمائے گا: اے بنی آدم!میں بیمار تھا،تونے میری عیادت نہ کی،(بندہ) عرض کرے گا: اے پَرْوَردْگار! میں تیری عیادت کیسے کرتا، تو ربُّ العالمین ہے(اور ان حاجات سے پاک ہے)، اﷲتعالیٰ فرمائے گا:کیا تو نہیں جانتاکہ میرا فلاں بندہ(تیرے سامنے) بیمار ہوا، تو نے اس کی عیادت نہ کی،تجھے نہیں معلوم کہ اگر تو اس کی عیادت کرتا تو مجھے اس کے پاس پاتا،(اﷲتعالیٰ پھر فرمائے گا:)اے بنی آدم! میں نے تجھ سے کھانا مانگا ،تو نے مجھے نہ کھلایا، (بندہ) عرض کرے گا: پَرْوَردْگار!میں تجھے کیسے کھلاتا، تو رب العالمین ہے (جبکہ بھوک وپیاس بندوں کی حاجات ہیں) ، اﷲ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تو نہیں جانتا کہ میرے فلاں بندے نے تجھ سے کھانا مانگاتھا، تو نے اسے نہ کھلایا، کیا تو نہیں جانتا کہ اگر تو اس محتاج بندے کو کھلاتا، تواُس کو میرے پاس پاتا ، (اللہ تعالیٰ پھر فرمائے گا:) اے بنی آدم ! میں نے تجھ سے پانی مانگا، تو نے مجھے نہ پلایا، بندہ عرض کرے گا :پَرْوَردْگار! میں تجھے کیسے پانی پلاتا ، تو ربُّ العالمین ہے ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : تجھ سے میرے فلاں پیاسے بندے نے پانی مانگاتھا، تو نے اسے نہ پلایا ، اگر تو نے اسے پانی پلایا ہوتا، تواس کو میرے پاس پاتا،(مسلم:2569)‘‘۔بندوں کے لیے غور وفکر کا مقام ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محتاج بندے کی بیماری کو اپنی بیماری ، اس کی بھوک کو اپنی بھوک اور اس کی پیاس کو اپنی پیاس سے تعبیر فرمایا، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی ہستی ان تمام حاجات سے پاک ، بے عیب اور بالاتر ہے، یہ در اصل ان اعمالِ صالحہ کی بے انتہا فضیلت کا بیان ہے۔

محدّثینِ کرام نے اس حدیث کی شرح میں فرمایا: اس حدیثِ قدسی کا منشایہ ہے کہ بیمار کی عیادت، بھوکے کو کھلانا اور پیاسے کوپانی پلانا، یہ بالواسطہ اﷲکی عبادت اور اس کے حبیبِ مکرم ﷺ کی سُنَّتِ جلیلہ ہے۔ حدیث پاک کی ترتیب سے یہ بھی معلوم ہوا کہ بیمار کی عیادت اور تیمار داری کا ثواب بھوکے کو کھانا کھلانے اور پیاسے کو پانی پلانے سے بھی زیادہ ہے۔ اﷲتعالیٰ کا یہ ارشاد : ’’اے بنی آدم ! اگر تو بیمارکی عیادت کرتا ، بھوکے کو کھانا کھلاتا اور پیاسے کو پانی پلاتا تو، مجھے اپنے قریب ہی پاتا‘‘۔ یعنی ان کاموں سے اﷲتعالیٰ کی رِضا اور اس کا قُرب حاصل ہوتاہے، بندہ اللہ کے قریب ہوجاتاہے اور اللہ کی رحمت بندے پر سایہ فگن ہوجاتی ہے ، اللہ تعالیٰ اپنے دکھی بندوں کے دکھوں کا مداوا کرنے والوں کو اپنا قُرب عطا کرتاہے ۔ حدیثِ قدسی میں ہے: اﷲتعالیٰ فرماتا ہے:’’میں اپنے ان بندوں کے قریب ہوتاہوں ، جو خشیتِ الٰہی سے لرز اٹھتے ہیں اور بے بسی وبے کسی کے عالم میں شکستہ دل ہوکر مجھے پکارتے ہیں،(مرقاۃ المفاتیح)‘‘۔

عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ زلزلے اور سیلاب کے موقع پر لوگ پرانے کپڑے اور ناکارہ چیزیں لے جاکر کسی اسٹال پر جمع کرادیتے ہیں، یہ درست نہیں ہے ، بعض صورتوں میں ان کا کرایہ ان کی قیمت سے زیادہ ہوتا ہے اور پھر یہ ڈَمپ کردی جاتی ہیں، جو بھی تعاون کیا جائے ، اشیائے خوراک ہوں یا کمبل ، رضائیاں ، گدے اورکپڑے وغیرہ،سب عمدہ ہونے چاہییں، اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ’’اے ایمان والو! تم اپنی کمائی اور اُس پیداوار میں سے جو ہم نے تمہارے لیے زمین سے پیدا کی ہے، پاکیزہ چیزوں کو (اللہ کی راہ میں) خرچ کرو اور (خبردار!)ناپاک (اور ناکارہ) چیزوں کو خرچ کرنے کا سوچنا بھی نہیں، (اگر کوئی تمہیں ناکارہ چیز دے)تو تم کبھی (خوش دلی سے) نہیں لیتے،سوائے اس کے کہ تم چشم پوشی کرواور جان لو!یقینااللہ تعالیٰ بے نیاز ہے اور تمام تعریفیں اُسی کو سزاوار ہیں، شیطان تمھیں فقر سے ڈراتا ہے اور تمھیں بے حیائی کا حکم دیتا ہے اور اللہ تم سے مغفرت اور فضل واحسان کا وعدہ فرماتا ہے اور اللہ بڑی وسعت والااور خوب جاننے والا ہے،(البقرہ:267-268)‘‘،(۲)’’تم ہرگز نیکی (کے مرتبۂ کمال )کونہیں پائو گے حتیٰ کہ تم (اللہ کی راہ میں) اپنا پسندیدہ مال خرچ کرواور تم جو چیز بھی خرچ کرو گے، بے شک اللہ اُسے خوب جاننے والا ہے، (آل عمران:92)‘‘۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:(۱)’’ تم میں سے کوئی (کامل) مومن نہیں ہوسکتاحتیٰ کہ وہ اپنے بھائی کے لیے وہی چیز پسند کرے جو اپنے لیے کرتا ہے، (صحیح البخاری:13)‘‘،(۲)’’اللہ تعالیٰ کی ایسی مخلوق ہے جسے اُس نے اپنے بندوں کی حاجت روائی کے لیے پیدا فرمایا ، لوگ اپنی حاجت روائی کے لیے اُن سے رجوع کرتے ہیں ، یہی وہ لوگ ہیں جو (آخرت میں) اللہ کے عذاب سے محفوظ رہیں گے، (المعجم الکبیر للطبرانی:13334)‘‘، (۳)’’بندہ جب تک اپنے بھائی کی حاجت روائی میں مشغول رہے ، اللہ تعالیٰ اُس کی حاجت روائی فرماتا ہے، (المعجم الکبیر للطبرانی:4802)‘‘،(۴)’’ (پچھلی امتوں میں )ایک شخص راستے پر پیدل جارہا تھا، اس کو شدید پیاس لگی ،اس نے ایک کنواں دیکھا ، وہ اس میں اترا اور پانی پی کر باہرنکل آیا۔پھر اس نے ایک کتا دیکھا جو پیاس کی شدت سے ہلکان ہورہا تھا اور گیلی مٹی کوچوس رہا تھا، اس شخص نے سوچا: اس کتے کو بھی اتنی ہی شدیدپیاس لگی ہے جتنی (کچھ دیر پہلے) مجھے لگی ہوئی تھی، وہ پھر کنویں میں اترااور اپنے موزے میں پانی بھرا، پھر اس موزے کو اپنے منہ سے پکڑا اورکنویں سے باہر آکر اس کتے کو پانی پلایا، اللہ تعالیٰ نے اس کے اس فعل کی قدر افزائی فرمائی اور اس کو بخش دیا، صحابہ نے عرض کی: یارسول اللہ! کیا ہمارے لیے ان جانوروں میں بھی اجر ہے، آپ ﷺ نے فرمایا: ہاں! ہرذی حیات کو راحت پہنچانے میں اجر ہے، (بخاری:6009)‘‘۔

(۵)’’تم مسلمانوں کو ایک دوسرے پر رحم کرنے ، ایک دوسرے سے محبت کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ شفقت سے پیش آنے میں ایک جسم کی طرح دیکھو گے کہ جب ایک عضو کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اس کی خاطر سارا جسم بیداری اور بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے، (بخاری:6011)‘‘،(۶)’’ہرمسلمان پر صدقہ واجب ہے، ان میں سے ایک آپ نے یہ بیان فرمایا: مصیبت زدہ کی مدد کرے ،(بخاری:1445)‘‘،خواجہ میر دردنے کہا ہے:

درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کَرُّو بیاں

اہلِ کراچی خود بھی بارشوں سے متاثر ہوئے ، لیکن یہ ایک حوصلہ افزا علامت ہے کہ وہ اپنے سیلاب زدہ بھائیوں کی دل کھول کر اعانت کر رہے ہیں ، دینی اور رفاہی تنظیموں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں ، اسی سے کھرے اور کھوٹے کی پہچان ہوجاتی ہے، الحمد للہ! اہلِ پاکستان کا مجموعی کردار اس حوالے سے نہایت حوصلہ افزا ہے۔رمضان مبارک میں ٹیلی ویژن چینلوں پر میلے ٹھیلے سجانے والے ، تشہیر کے لیے کاریں ،موٹر سائیکلیں اور سونے کے سکے بانٹنے والے اور طرح طرح کے قیمتی تحائف دینے والے خدمتِ خلق کے میدان میں نظر نہیں آرہے۔

ہمارا مشورہ ہے کہ امدادی سامان کو ٹرکوں پہ سجاکر سڑکوں پر تقسیم نہ کیا جائے ، اس سے لوٹ مار کے جو مظاہر سامنے آتے ہیں ، اس سے قومی اخلاقیات کی کوئی اچھی تصویر سامنے نہیں آتی ، نیز جو تندرست وتوانا اور ہٹے کٹے ہیں ، وہ تو چھین جھپٹ کر لے لیتے ہیں ، لیکن جو ضعیف مرد ، عورتیں اور بچے ہیں ،وہ محروم رہ جاتے ہیں ۔ہمارے نزدیک بہتر صورت یہ ہے کہ سروے کیا جائے اور حقیقی مستحقین کا تعیّن کر کے کسی چہاردیواری کے اندر باوقار انداز میں تقسیم کیا جائے، اصل متاثرین سیلاب پانی اترنے کے بعد اپنے ٹھکانوں کی تلاش میں جائیں گے، سڑکوں پر جمع ہونے والے ضروری نہیں کہ سب متاثرین ہوں، پس یہ امدادی سامان بھی امانت ہے اور بشری استطاعت کی حد تک دینی ورفاہی اداروں اوردیگر تنظیمات کی ذمے داری ہے کہ امانت اُس کے اصل حق داروں تک پہنچائی جائے، دفاعی افواج چونکہ ایک منظّم ادارہ ہے، اس لیے اُن کے کام میں نظم نظر آتا ہے، لیکن ظاہر ہے دوسرے اداروں کو یہ سہولت حاصل نہیں ہے۔

Comments

Click here to post a comment