ہوم << عظیم قربانی کی روح کو سمجھنے اور عمل کی ضرورت- محمد اکرام چودھری

عظیم قربانی کی روح کو سمجھنے اور عمل کی ضرورت- محمد اکرام چودھری

تاجدارِ انبیاء خاتم النبین حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم نے ایامِ تشریق میں منیٰ کے مقام پر خطبہ حج الوداع کے موقع پر ارشاد فرمایا لوگو! زمانہ گھوم پھر کر آج پھر اسی نقطہ پر آ گیا ہے جیسا کہ اس دن تھا جب کہ اللہ نے زمین و آسمان کی تخلیق فرمائی تھی۔

سن لو، سال میں بارہ مہینے ہیں جن میں چار حرمت والے ہیں، وہ ہیں: ’’ذوالقعدہ، ذوالحجہ ، محرم اور رجب۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلّم کا فرمان عالیشان ہے کہ افضل ترین روزے رمضان کے بعد ماہ محرم کے ہیں اور فرض کے بعد افضل ترین نماز رات کی نماز ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا روزہ کے سلسلے میں کسی بھی دن کو کسی دن پر فضیلت حاصل نہیں، مگر رمضان المبارک کو اور یوم عاشورہ کو۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کسی شخص نے سوال کیا کہ رمضان المبارک کے بعد کس مہینے میں روزے رکھوں؟ تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جواب دیا کہ یہی سوال ایک دفعہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم سے بھی کیا تھا، اور میں آپ کے پاس بیٹھا تھا، تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے جواب دیا ماہ رمضان کے بعد اگر تم کو روزہ رکھنا ہے تو ماہِ محرم میں رکھو؛ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ (کی خاص رحمت) کا مہینہ ہے، اس میں ایک ایسا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول فرمائی اور آئندہ بھی ایک قوم کی توبہ اس دن قبول فرمائے گا۔

دس محرم الحرام کے روزے کی بڑی فضیلت ہے۔رمضان المبارک کے علاوہ باقی گیارہ مہینوں کے روزوں میں دس محرم کے روزے کا ثواب سب سے زیادہ ہے۔ اس کے ساتھ نویں یا گیارہویں تاریخ کا روزہ رکھنا بھی مستحب ہے، اور یومِ عاشورہ کے علاوہ اس پورے مہینے میں بھی روزے رکھنے کی فضیلت احادیث میں وارد ہوئی ہے۔ آپ صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم نے ماہِ محرم میں روزہ رکھنے کی ترغیب دی ہے۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم نے فرمایا جو شخص یومِ عرفہ کا روزہ رکھے گا تو اس کے دو سال کے (صغیرہ) گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا اور جو شخص محرم کے مہینہ میں ایک روزہ رکھے گا، اس کو ہر روزہ کے بدلہ میں تیس روزوں کا ثواب ملے گا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا یعنی جو شخص عاشورا کے دن اپنے اہل وعیال پر کھانے پینے کے سلسلے میں فراخی اور وسعت کرے گا تو اللہ تعالیٰ پورے سال اس کے رزق میں وسعت عطا فرمائیں گے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار و مشرکین کی مشابہت اور یہود ونصاریٰ کی بود وباش اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے اس حکم کے تحت صرف دس محرم کا روزہ رکھنا یہودیوں کے ساتھ اشتراک اور تشابہ تھا دوسری طرف اس کو چھوڑ دینا اس کی برکات سے محرومی کا سبب تھا اس لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کا فرمان ہے کہ یوم عاشورا کے ساتھ ایک دن کا روزہ اور ملا لو بہتر تو یہ ہے کہ نویں اور دسویں تاریخ کا روزہ کھو اور اگر کسی وجہ سے نویں کا روزہ نہ رکھ سکو تو پھر دسویں کے ساتھ گیارہویں کا روزہ رکھ لو تاکہ یہود کی مخالفت ہو جائے اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کی مشابہت نہ رہے۔

محرم الحرام عظمت والا مہینہ ہے۔ مسلمان دنیا بھر میں تاجدارِ انبیاء خاتم النبیین حضرت محمد صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم کے پیارے نواسے حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھیوں کی شہادت کو یاد کر رہے ہیں۔ مسلمان حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اس عظیم قربانی کا ذکر کر رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ نبی کریم صلی اللّہ علیہ وآلہ وسلّم کے نواسے پر ہونے والے ظلم کو یاد کرتے ہوئے آنسو بہاتے ہیں۔ کربلا نواسہ رسول اللہ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلّم پر ظلم کرنے والوں سے قیامت تک نفرت کی جاتی رہے گی، قیامت تک یزید اور اس کے ساتھیوں پر لعنت و ملامت ہوتی رہے گی۔ صدیاں گذر گئیں لیکن آج بھی امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بہادری، شجاعت، ہمت، استقامت اور حق پر قائم رہنا لوگوں کے لیے ایک مثال ہے۔ کربلا میں اسلام کا جھنڈا تھامنے والوں نے حق، سچ، وفا، شجاعت اور ایمان پر قائم رہنے کا سبق دیا ہے۔

ہم بدقسمت ہیں کہ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ان کے ساتھیوں کے حقیقی پیغام کو سمجھ نہیں سکے، ہم اس عظیم قربانی کے فلسفے اور اس کی حقیقی روح پر بات تو کرتے ہیں، افسردہ ہوتے اور آنسو بہاتے ہیں لیکن ہم اس پیغام پر عمل کرنے اور اسے معاشرے میں عام کرنے سے قاصر ہیں۔ آج ہمیں بے پناہ مسائل کا سامنا ہے، ہم کیوں خود سے سوال نہیں کرتے کہ کیوں ہم سارا سال اس عظیم قربانی کے فلسفے کو زندہ رکھتے ہوئے روز مرہ کے کاموں کا حصہ نہیں بناتے۔ آج ہمیں خود سے یہ سوال بھی کرنا ہے کہ ہم ایک دوسرے کو یزید کہہ کر کسے دھوکے دے رہے ہیں، کیا سال میں ایک مرتبہ اس قربانی کو یاد کرنا بہت ہے یا ہمیں اس سے آگے بڑھنا چاہیے۔

محرم الحرام ہمیں قربانی اور صبر،شجاعت و بہادری، وفا، باطل قوتوں کے سامنے ڈٹ جانے، حق پر قائم رہنے اور حق کے لیے جان تک قربان کرنے کا پیغام دیتا ہے، یہ حرمت والا مہینہ ہے۔ اللہ ہمارے دلوں کو بدل دے اور ہمیں سارا سال اس عظیم قربانی کے فلسفے کو یاد رکھ ذندگی گذارنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ٍ (آمین)

Comments

Click here to post a comment