ہوم << پنجاب کی نئی کابینہ،نظر انداز ہونے والوں کی ناکامی اعتراف- محمد اکرم چوہدری

پنجاب کی نئی کابینہ،نظر انداز ہونے والوں کی ناکامی اعتراف- محمد اکرم چوہدری

پنجاب میں حمزہ شہباز کی وزارت اعلیٰ ختم ہونے اور پرویز الٰہی کے وزیرِ اعلیٰ بننے کے بعد ملک کے سب سے بڑے صوبے کی نئی کابینہ سامنے آئی ہے۔ نئے وزیر اعلیٰ کی نئی کابینہ کے بعد کئی سوالات بھی پیدا ہوئے ہیں۔ چونکہ عثمان بزدار کے ساتھ کام کرنے والے کئی وزراءبلکہ بڑی تعداد میں ان افراد کو نظر انداز کیا گیا ہے یا پھر انہیں کابینہ میں شامل نہیں گیا۔ اس فیصلے کا ایک پہلو یہ بھی ہے عثمان بزدار کے دور میں وزارتیں سنبھالنے والوں کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے۔

پنجاب کی نئی کابینہ میں عثمان بزدار کے دور میں کام کرنے والے سولہ وزراءشامل نہیں کئے گئے۔ ان میں فیاض الحسن چوہان، یاور بخاری، چوہدری ظہیرالدین اور تیمور بھٹی کو کوئی وزارت نہیں ملی۔اختر ملک، چوہدری اخلاق، سید الحسن شاہ، راجہ راشد حفیظ بھی نئی کابینہ میں شامل نہیں کئے گئے۔ ہاشم جواں بخت، صمصام بخاری، جہانزیب کھچی اور آشفہ ریاض فتیانہ بھی کپتان کا اعتماد حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ باو¿ رضوان ، حافظ عمار یاسر، کرنل (ر) انوار اور شوکت لالیکا بھی دوبارہ وزیر نہیں بن سکے۔ نئی کابینہ میں جن لوگوں کو شامل کیا گیا ہے ان میں محسن لغاری کو وزارت خزانہ دی گئی ہے۔ یہ ایک اچھا فیصلہ ہے۔ محسن لغاری ایک سمجھدار، ایماندار اور ملک کی خدمت کا جذبہ رکھتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو اہم وزارتیں دی جائیں تو عام آدمی کے مسائل حل ہونے کی امید رکھی جا سکتی ہے۔ محسن لغاری سیاست کو خدمت سمجھتے ہوئے وقت گذارتے ہیں وہ وزارت سے کسی ذاتی فائدے کے بجائے عام آدمی کی زندگی میں بہتری کےلئے کام کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں.

ایسے لوگوں کی موجودگی ساتھ کام کرنے والوں پر بھی اچھا اثر چھوڑتی ہے۔ راجہ بشارت کو جس وزارت میں رکھا گیا ہے اس سے نہ تو حکومت کو فائدہ ہو گا اور نہ ہی راجہ بشارت جیسے باصلاحیت سیاست دان کی موجودگی سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں حکومتی بنچوں پر بیٹھنے والوں میں راجہ بشارت جیسے تجربہ کار اور معاملہ فہم افراد کم ہیں سو ایسے لوگوں کو ان وزارتوں میں رکھنا چاہیے جہاں عوامی مسائل حل کرنے کےلئے کام کیا جا سکے۔ اگر دوسری مرتبہ حکومت ملنے کے بعد بھی پاکستان تحریکِ انصاف نے اچھے لوگوں کو دیوار سے لگانا ہے تو اس کا سب سے زیادہ نقصان پی ٹی آئی کو ہو گا۔ لطیف نذیر کو بھی وزارت ملی ہے انہوں نے بہت محنت کی تھی۔ جہاں تک تعلق اس نئی کابینہ کا ہے جس میں نئے لوگوں کو شامل کرنے کی کوشش ہوئی ہے اگر دیکھا جائے تو جو پرانے وزراءنظر آ رہے ہیں ان کی شمولیت بھی میرٹ نہیں بلکہ نظریہ ضرورت کے تحت ہوئی ہے کیونکہ کچھ ایسے ہیں جو پارٹی عہدے بھی رکھتے ہیں اور عثمان بزدار کی وزارت اعلیٰ کے دور میں بھی وہ ناکام ہو چکے ہیں لیکن پارٹی میں عہدے رکھنے کی وجہ سے انہیں دوبارہ شامل کیا گیا ہے۔

نئی کابینہ کو دیکھتے ہوئے یہ سوال بھی پیدا ہو رہا ہے کہ کیا پی ٹی آئی نے اپنی بدانتظامی کو تسلیم کیا ہے۔ اگر پہلے وزراءٹھیک کام کر رہے تھے تو پھر انہیں دوبارہ واپس لانا چاہیے تھا اور اگر انہیں ناکامی کی وجہ سے دوبارہ اس قابل نہیں سمجھا گیا تو اس کا یہ مطلب ہے کہ چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے ناکامی تسلیم کی ہے لیکن پنجاب میں حکومت ختم ہونے سے پہلے تک تو ان سب لوگوں کی تعریفیں کی جاتی تھیں اور جو لوگ بدانتظامی کی نشاندہی کرتے تھے انہیں دشمن سمجھا جاتا تھا اب اس کابینہ کے بعد یہ فیصلہ بھی ہونا چاہیے کہ عوام کا اصل دشمن کون تھا وہ جو چند ماہ پہلے تک وزارتوں میں تباہی مچا رہے تھے یا وہ جو اس تباہی کی نشاندہی کر رہے تھے۔ درحقیقت یہ نئی کابینہ بھی عمران خان کی ہی کابینہ ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا چودھری پرویز الٰہی بھی عثمان بزدار ثابت ہوتے ہیں یا کچھ مختلف راستہ اپناتے ہیں۔

ویسے وہ عثمان بزدار کی طرح اتنے آسان نہیں ہوں گے کہ ہر اشارے اور حکم پر سر جھکاتے رہیں۔ چند دن پہلے بھی ایسی خبریں سامنے آئیں کہ پرویز الٰہی نے کہیں ردعمل کا اظہار کیا ہے وہ مستقبل میں بھی ایسا کر سکتے ہیں۔ پنجاب حکومت کچھ کرتی ہے یا نہیں، عوامی مسائل کی طرف توجہ رہتی ہے یا نہیں چونکہ سیاسی حالات ایسے ہیں کہ کسی بڑے فیصلے کی توقع ذرا کم ہے۔ اس لیے اگر حکومت صرف امن و امان کو برقرار رکھنے پر بھی توجہ دے تو یہ بہت بڑا کارنامہ ہو گا۔ بالخصوص محرم الحرام کے دوران امن و امان قائم رکھنا بہت بڑا چیلنج ہے۔ حکومت اس حوالے سے بہترین اقدامات اٹھائے اور محرم الحرام گذرنے کے بعد بھی امن و امان پر پوری توجہ رکھے۔

ہیلی کاپٹر حادثے کے شہداء کے جنازوں میں صدر پاکستان کی عدم شرکت اہم مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے اب تک سامنے آنے والی خبریں افسوسناک ہیں۔ صدر مملکت عارف علوی کی کسی وجہ سے عدم شرکت افسوسناک ہے۔ ہم اتنے بدقسمت ہیں کہ اپنے شہداء کےلئے بھی اکٹھے نہیں ہو سکتے اب صدر مملکت کا موقف بھی سامنے آ رہا ہے۔ ہم نہ غم کے موقع پر ایک ہو سکتے ہیں اور نہ ہی خوشی کے موقع پر اتحاد نظر آتا ہے۔ ہیلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے ہمارے محافظ تھے۔ انہوں نے اس ملک کے لیے اپنی قیمتی جانوں کی قربانی دی ہے اور جو ہم کر رہے ہیں وہ اتنی اچھی بات نہیں ہے۔ ہمیں اپنے شہداءکی قدر کرنی چاہیے اور اپنے دفاعی اداروں کے حوالے سے نامناسب گفتگو سے گریز کرنا چاہیے۔

سپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے چار اراکین کو ایوان سے مسلسل غیر حاضر قرار دینے کے معاملے پر تحریک انصاف کے رکن محمد میاں سومرو نے سپیکر قومی اسمبلی سے معذرت کرتے ہوئے خط بھجوایا ہے۔ خط میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ اپنے حلقے میں بلدیاتی انتخابات کی وجہ سے ایوان میں حاضر نہیں ہو سکا۔ استعفوں کے پس منظر اور سپیکر قومی اسمبلی کی کارروائی کے بعد یہ ایک دلچسپ پیشرفت ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ آنے والے دنوں میں استعفوں والا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

Comments

Click here to post a comment