ہوم << محمود غزنوی، ایک عظیم بادشاہ یا غاصب لٹیرا؟ - فہد کیہر

محمود غزنوی، ایک عظیم بادشاہ یا غاصب لٹیرا؟ - فہد کیہر

آج دنیا بہت بدل چکی ہے، جدید انسان ایک ہزار سال پہلے ہونے والے واقعات کو بالکل مختلف نظر سے دیکھتا ہے۔ پھر ہندوتوا کے عروج کے دور میں تو ہندوستان میں محمود غزنوی سے بڑھ کر ظالم اور لٹیرا کون کہلائے گا؟ مذہبی شدت پسندی اور اس پر پاپولزم کا تڑکا بھی، اب تو ہزار سال پرانے معاملات پر بھی سیاست کی جاتی ہے اور محمود غزنوی آج کی سیاست میں بھی "اِن" نظر آتا ہے۔

محمود کے قدم ہندوستان میں

درحقیقت ہندوستان ہزاروں سالوں سے ایسا ہی تھا۔ حملہ آور آتے تھے، مختلف مقاصد اور اہداف لیے۔ سکندر اعظم سے لے کر انگریزوں تک، سبھی نے اس سرزمین کو روندا۔ یہ علاقہ لٹتا بھی رہا، پھلتا پھولتا بھی رہا۔ کیونکہ یہ اپنے زمانے کی land of opportunities یعنی وسائل کی سرزمین تھی۔ جس کے وسائل سمیٹنے کے لیے جسے جب موقع ملتا، ضرور حاصل کرتا۔ پھر محمود کو تو ہندوستان سے اپنی بقا کا خطرہ لاحق تھا۔

غزنویوں کی ابتدائی تمام فتوحات مشرق اور شمال کی سمت تھیں یعنی وسطِ ایشیا اور ایران میں۔ اس نے پہلے بلخ، ہرات اور مرو اور بعد میں سیستان فتح کیا۔ اس سے قبل بھی غزنویوں کا رخ زیادہ تر انہی علاقوں کی طرف رہتا تھا لیکن یہ ہندو شاہی حکومت کا بادشاہ جے پال تھا جس نے سبک تگین کے دور میں غزنوی علاقوں پر حملہ کیا اور یوں انہیں ہندوستان کا راستہ دکھا دیا۔ سن 1001ء میں سلطان محمود غزنوی نے راجا جے پال کو فیصلہ کن شکست دی، وہ پکڑا گیا اور اس ہار کا صدمہ برداشت نہ کرتے ہوئے خود کشی کر لی۔ اس کے ساتھ ہی وسط ایشیا کے مختلف فاتحین کی شمال سے ہندوستان آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

محمود غزنوی کا قصور

محمود غزنوی کے مقبرے کا دروازہ، مشہور کیا گیا کہ یہ سومنات کے مندر سے نکالا گيا تھا۔ یہ دعویٰ بعد میں غلط ثابت ہوا

یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ لاکھوں غلاموں پر مشتمل فوج کو چلانے کے لیے جتنے وسائل کی ضرورت تھی، ان کے لیے ہندوستان میں مداخلت کرنا ضروری تھا۔ بہرحال، اگر کسی بات کو محمود غزنوی کو قصوروار کہا جا سکتا ہے تو وہ یہ ہے کہ اس نے ہندوستان کے کئی علاقوں پر باضابطہ حکومت قائم کرنے کے بجائے محض خراج لینے پر ہی اکتفا کیا۔ کچھ مقامات پر تو محض وسائل لوٹ کر ہی واپسی کی راہ لی اور دوبارہ کبھی پھر وہاں کا رخ نہیں کیا۔

یہی وجہ ہے کہ اس طرح کی فوجی حکومتوں کا اسلام کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ پہنچا۔ ایسی حکومتوں کی وجہ سے اسلام کی اصل دعوت، اصل پیغام کہیں پیچھے رہ گیا۔ خطے کی تہذیبی و ثقافتی روایات کا لحاظ بھی نہیں کیا گیا۔

پھر بھی قدیم تواریخ دیکھیں تو اُن میں نہ مسلمانوں نے محمود کے حملوں کو اتنا بڑھا چڑھا کر بیان کیا ہے کہ جیسے "غزوۂ ہند" ہو رہا ہو، اور نہ ہی ہندو مؤرخین نے کچھ ایسا لکھا ہے کہ ان حملوں کے ہندوؤں کی اجتماعی نفسیات پر گہرے اثرات مرتب ہوئے اور انہیں اسلام سے نفرت ہو گئی۔ ہاں! ایسا اگر کہیں ملتا ہے تو وہ انگریزی تواریخ ہیں۔ وہ تو ان باتوں سے بھری پڑی ہیں کہ کس طرح محمود غزنوی کے حملوں سے اس خطے کے عوام کے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی اور ان کی زندگیاں غیر محفوظ ہو گئیں۔

کتنی حیرت کی بات ہے نا یہ ساری باتیں لکھ کون رہا ہے؟ وہ جنہوں نے خود موقع ملتے ہی ہندوستان کو اتنا لوٹا، اتنا لوٹا کہ 75 سال بعد بھی یہ خطہ غربت کے چنگل سے نہیں نکل پا رہا اور انگریزوں کی دولت ہے کہ ختم ہی نہیں ہو رہی۔ خیر، یہ ذکر پھر کسی وقت کے لیے۔

ہندوستان کا نیا مستقبل

محمود غزنوی کے منفرد طرزِ حکومت نے وسطِ ایشیا میں ایک نئے کل کی بنیاد رکھی جو بالکل مختلف تھا۔ اسی کے طریقوں کی پیروی بعد ازاں غوری، تیموری اور پھر مغل حکمرانوں نے کی۔ تیرہویں صدی میں منگول حملوں کے بعد جب وسطِ ایشیا تباہ و برباد ہو گیا تو پھر اس خطے کے ہر حکمران کا رخ شمال مغرب کی جانب نہیں بلکہ جنوب مشرق کی طرف ہوتا، یعنی ہندوستان کی طرف۔ یوں یہ خطہ مسلسل کشمکش کا مرکز بن گیا لیکن انہی کے ادوار میں عظمت کی ان بلندیوں تک بھی پہنچا کہ دنیا اسے 'سونے کی چڑیا' کہتی تھی۔

علم و فن کا دلدادہ محمود

فردوسی محمود غزنوی کے دربار میں شاہنامہ سناتے ہوئے، ایک مصور کا تخیّل

محمود نے جہاں اِس خطے میں جنگ و جدل کی ایک فضا قائم کی، وہیں وہ علم و فن کا بھی بڑا دلدادہ تھا۔ سائنس اور ادب کی تاریخ کے دو بڑے نام اُسی کے دربار سے وابستہ تھے: ایک عظیم سائنس دان ابو ریحان محمد البیرونی اور دوسرے عظیم شاعر ابو القاسم فردوسی۔

غزنوی دور میں غزنی فارسی ادب کا عالمی مرکز تھا اور اس نے زبردست عروج حاصل کیا، خاص طور پر فردوسی کے 'شاہنامہ' کی وجہ سے۔ کہا جاتا ہے کہ محمود نے فردوسی سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ہر شعر کے عوض اسے ایک دینار یعنی اشرفی دے گا۔ فردوسی نے 60 ہزار اشعار لکھ ڈالے لیکن اسے 60 ہزار دینار نہیں بلکہ درہم پکڑا دیے گئے، یعنی سونے کے بجائے چاندی کے سکّے۔ شاید اس لیے کیونکہ فردوسی کی تمام تر شاعری قبل از اسلام کے بادشاہوں کی جھوٹی سچی کہانیوں پر مشتمل تھی، اس لیے محمود بالکل متاثر نہیں ہوا۔

اردو کے مشہور مزاح نگار ابن انشاء نے اس پورے معاملے کو انتہائی لطیف انداز میں بیان کی ہے۔ ازراہِ تفنن پڑھتے جائیں:

محمود پر الزام لگایا جاتا ہے کہ اس نے فردوسی سے شاہنامہ لکھوایا اور اس کی ساٹھ ہزار اشرفیاں نہ دیں بلکہ ساٹھ ہزار روپے دے کر ٹالنا چاہا۔ یہ الزام بے جا ہے، بیشک وعدہ ایک اشرفی فی شعر ہی کیا گیا تھا لیکن اس وقت گمان نہ تھا کہ فردوسی واقعی یہ کتاب لکھنے بیٹھ جائے گا اور اس کو اتنا لمبا کر دے گا۔ یہ کتاب جناب حفیظ جالندھری کے شاہنامہ اسلام کی طرز پر لکھی گئی ہے۔ فردوسی چاہتا تو بہت تھوڑے صفحوں پر ایران کی تاریخ بیان کر سکتا تھا کہ فلاں بادشاہ نے فلاں بادشاہ کو مارا وغیرہ۔ لیکن وہ اس میں پہلوانوں اور اژدہوں وغیرہ کے قصے ڈال کر لمبا کرتا گیا۔ بھلا ایک کتاب کی ساٹھ ہزار اشرفیاں دی جا سکتی ہیں؟ بجٹ بھی تو دیکھنا پڑتا ہے۔ محمود کی ہم تعریف کریں گے کہ پھر بھی ساٹھ ہزار کی رقم فردوسی کو بھجوائی خواہ اس کے مرنے کے بعد ہی بھجوائی۔ آج کل کے پبلشر اور قدردان تو مرنے کے بعد بھی مصنف کو کچھ نہیں دیتے۔ ساٹھ ہزار روپے تو بڑی چیز ہے۔ ان سے ساٹھ روپے ہی وصول ہو جائیں تو مصنف اپنے کو خوش قسمت سمجھتا ہے۔

پھر ابو ریحان البیرونی بھی غزنوی دربار ہی سے وابستہ تھے۔ ان کا تعلق وسطِ ایشیا کے علاقے خوارزم سے تھا۔ مشہور کتابوں میں "تاریخ الہند" بہت نمایاں ہے۔ اس میں ہندوؤں کی تاریخ، خطے کے جغرافیے، مقامی مذاہب اور دیگر حوالوں سے بہت تفصیل بیان کی گئی تھی۔ یہ اس زمانے میں کسی غیر ہندو کی ہندوؤں کے بارے میں لکھی سب سے شاندار کتاب تھی، جسے لکھنے کے لیے البیرونی کئی سال ہندوستان میں رہے اور سنسکرت بھی سیکھی۔ البیرونی ایک عظیم ریاضی دان، طبیعیات دان اور فلکیات دان بھی تھے۔

پاکستان میں اسلام

محمود غزنوی کے دور میں غزنوی سلطنت۔ اس کی فتوحات بھی نمایاں ہیں

محمود غزنوی کے دور میں موجودہ پاکستان کا بیشتر علاقہ پہلی بار مکمل طور پر کسی مسلم حکومت کے اقتدار میں آیا۔ سن 1021ء میں اس نے لاہور میں اپنے مشہور غلام ملک ایاز کو لاہور کا صوبیدار مقرر کیا۔ ایاز نے لاہور ہی میں وفات پائی اور اسے دفنایا بھی یہیں گیا۔ سکھ راج کے دنوں میں اس مقبرے کو تباہ کر دیا گیا تھا جسے تقسیمِ ہند کے بعد حکومتِ پاکستان نے دوبارہ تعمیر کیا۔

محمود اور ایاز کے کئی واقعات اور کہانیاں تاریخ میں موجود ہیں بلکہ ان دونوں کی دوستی تو ضرب المثل سمجھی جاتی ہے۔ علامہ اقبال کو بھی جب اپنی مشہور نظم 'شکوہ' میں مسلمانوں کے باہمی اتحاد کا اظہار کرنا پڑا تو یہی کہا:

ایک ہی صف میں کھڑے ہو گئے محمود و ایاز

نہ کوئی بندہ رہو نہ کوئی بندہ نواز

لاہور نے تاریخ میں پہلی بار شہرت غزنویوں کی وجہ سے ہی پائی۔ یہ زوال کے دور میں ان کا دارالحکومت بھی بنا۔

لاہور میں ایاز کے مزار کا کتبہ

غزنوی سلطنت کا زوال

درحقیقت محمود غزنوی کے فوراً بعد ہی اس سلطنت کا زوال شروع ہو گیا تھا۔ اس کی اولاد کو وسطِ ایشیا میں ایک ابھرتی ہوئی نئی طاقت کا سامنا کرنا پڑا، ایک ایسی طاقت کا جس نے بعد ازاں پوری مسلم دنیا کو ہلا کر رکھ دیا، یہ تھے عظیم سلجوق!

البتہ غزنوی خاندان کسی نہ کسی صورت میں تقریباً ڈیڑھ سو سال تک ضرور موجود رہا۔ سلطنت کا مغربی حصہ ضرور سلجوقیوں کے پاس چلا گیا اور مشرق میں غوری خاندان کا قبضہ ہو گیا۔ 1187ء میں غزنوی خاندان کا آخری فرد انتہائی کسمپرسی کی حالت میں مرا۔

غوری سلطنت کے ایک بادشاہ نے محمود کے ہندوستانی مقبوضات پر قبضہ کیا اور بالآخر غزنی بھی حاصل کر لیا۔ یہ شہر جو کبھی 'عروس البلاد' کہلاتا تھا، کو آگ لگا دی گئی۔ شہر میں چند ہی عمارتیں بچیں، باقی سب راکھ کا ڈھیر بن گیا۔ یہی نہیں بلکہ اُس نے بوست (موجودہ لشکرگاہ) کو بھی تباہ و برباد کر دیا۔ اس غوری حکمران کو آج دنیا علا الدین جہان سوز کہتی ہے، یعنی دنیا کو جلانے والا۔

Comments

فہد کیہر

فہد کیہر تاریخ کے ایک طالب علم ہیں۔ اردو ویکی پیڈیا پر منتظم کی حیثیت سے تاریخ کے موضوع پر سینکڑوں مضامین لکھ چکے ہیں۔ ترک تاریخ میں خاص دلچسپی رکھتے ہیں۔ ٹوئٹر: @fkehar

Click here to post a comment