ہوم << اردگان کے خلاف بغاوت کیوں ناکام ہوئی؟ احسان الہی ظہیر

اردگان کے خلاف بغاوت کیوں ناکام ہوئی؟ احسان الہی ظہیر

احسان الہی ظہیر ترکی میں بغاوت ہوئی اور یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں تھا بلکہ اس سے پہلے 1960 ، 1971، 1980 میں بھی بغاوت ہوئی اور کامیاب رہی، جبکہ موجودہ حکومت کے خلاف تین مرتبہ بغاوت ہوئی اور تینوں مرتبہ ناکام رہی. سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس سے پہلے ہونے والی بغاوتیں کیوں کامیاب ہوتی رہیں اور اردگاان کے خلاف ہونے والی ہر بغاوت ناکام کیوں رہی؟ ہمارے جمہوریت پرست دوست ہمیشہ کی طرح اسے جمہوریت کی کامیابی قرار دے رہے ہیں
تری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو میرے نامۂ سیاہ میں تھی
سوال یہ ہے کہ 60 ، 71 اور 80 کی بغاوتیں کیا آمریت کے خلاف ہوئی تھیں؟ اور کیا باقی کسی ملک میں کبھی کسی جمہوری حکومت کے خلاف بغاوت نہیں ہوئی؟ پاکستان میں کتنی مرتبہ ایسا ہوا ہے کہ جمہوریت اپنا بوریا بستر باندھ کر رخصت ہوئی لیکن اس کے جانے پر آسمان رویا نہ زمین پھٹی بلکہ ہر دفعہ عوام نے فوجی حکومت کو خوش آمدید کہا اور سکھ کا سانس لیا. میں سیاسی لٹیروں کی بات نہیں کر رہا بلکہ جمہور کی بات کر رہا ہوں جن کے نام پر تماشا رچایا جاتا ہے.
کیا آپ نے دیکھا نہیں کہ شیطانی قوتیں کیسے خوش ہوئی تھیں یہ سازش رچا کر، فرط مسرت میں انھیں یہ تک یاد نہ رہا تھا کہ ابھی کھیل باقی ہے اور انھوں نے اردگان گون کا نعرہ بلند کر دیا تھا، کیونکہ یہ ان کا اپنا بنا ہوا جال تھا. کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ بغاوت کا نام سنتے ہی ہمارے دیسی لبرلز کیسے جھوم جھوم گئے تھے، مٹھائیاں بانٹی جا رہی تھیں اور کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ پوری دنیا کو جمہوریت کا لولی پوپ دینے والے کیسے اس جمہوریت کے خاتمے کے لیے بے چین تھے، کیونکہ جمہوریت کی افیون تو انھوں نے دی ہی اس لیے تھی کہ اس کے نشے میں بدمست کر کے لوگوں سے خیر و شر کی تمیز چھین لی جائے اور اس کے ذریعے ایسے لوگوں کو مسند اقتدار پر بٹھایا جائے جو ان کے زرخرید غلام ہوں، ان کے اشاروں پر ناچنے اور ان کے شیطانی مشن میں ساتھ دینے والے ہوں. اس کے بالمقابل بغاوت کو ناکام بنانے والے مردان خدا میں سے کسی ایک کے منہ سے بھی آپ نے جمہوریت زندہ باد کا نعرہ سنا؟ ان میں سے کسی ایک نے بھی آمریت مردہ بادکا نعرہ بلند کیا؟ بلکہ چشم فلک نے دیکھا کہ ان کی زبان پر ایک ہی صدا اور ایک ہی نعرہ تھا، اللہ اکبر، اللہ اکبر. کیا یہ اس بات کی قطعی دلیل اور حتمی ثبوت نہیں کہ یہ جنگ جمہوریت اور آمریت کی جنگ نہ تھی بلکہ اسلام اور لبرل ازم کی جنگ تھی، یہ حجاب اور فحاشی کی جنگ تھی، یہ اذان اور موسیقی کی جنگ تھی، یہ مسجد و کلیسا کی جنگ تھی، یہ دین و لا دینیت کی جنگ تھی، یہ ربانیت اور شیطانیت کی جنگ تھی. اس سازش کی ناکامی لبرلز کے منہ پر طمانچہ ہے، یہ لا دینیت اور سیکولرازم کے لیے پیغام اجل ہے، یہ شیطان اور اس کے چیلوں کی تباہی کا پروانہ ہے. ترک عوام نے ٹینکوں کا راستہ روک کر عالم کفر اور لادین قوتوں کو یہ بتلا دیا ہے کہ تمھارے ٹینک اور توپیں ہمارے جذبہ ایمانی کا مقابلہ نہیں کر سکتیں
اللہ کو پامردئ مومن پہ بھروسا
ابلیس کو یورپ کی مشینوں کا سہارا
کچھ نام نہاد دانشور اس کامیابی کو بھی جمہوریت کی دلہن کے ماتھے کا جھومر بنانا چاہتے ہیں لیکن وہ یہ بھول چکے ہیں کہ اب وہ دنیا کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونک سکتے، اور اسلام کی مقبولیت اور لبرل ازم اور سیکولرازم کی ذلت کو اپنے مغربی آقاؤں سے نہیں چھپا سکتے، اب انہیں اپنے آقاؤں کی ڈانٹ سننا ہی پڑے گی کہ لاکھوں ڈالر کھا کر بھی، تمام وسائل کو بروئے کار لا کر بھی وہ الحاد و لادینیت کی جھولی میں کچھ نہ ڈال سکے. آج ہی ان میں سے ایک نے لکھا ہے کہ جس طرح ترک عوام نے فوج کو سرعام سڑکوں پر جوتے مارے ہیں اور ان کی تذلیل کی ہے، اس سے ترکی کی بدنامی ہوئی ہے اور ترک فوج کا مورال ڈاؤن ہوا ہے، تو ان کے لیے اور ان جیسے دوسروں کے لیے یہ گزارش ہے کہ اب خود کو طفل تسلیاں دینے کا کوئی فائدہ نہیں، لوگ یہ جان چکے ہیں کہ یہ جنگ فوج اور حکومت کی جنگ نہ تھی بلکہ اسلام مخالف ایجنٹوں اور اسلام پسندوں کی جنگ تھی جس میں لبرلز ہار گئے اور اسلامسٹ جیت گئے
نور خدا ہے کفرکی حرکت پہ خندہ زن
پھونکوں سے یہ چراغ بجھایا نہ جائے گا

Comments

Click here to post a comment