ہوم << عدم برداشت، انتقام اور انتشار کی سیاست کا خاتمہ کون کرے گا- محمد اکرم چوہدری

عدم برداشت، انتقام اور انتشار کی سیاست کا خاتمہ کون کرے گا- محمد اکرم چوہدری

دہائیاں گذر گئیں، بچپن سے سنتے آ رہے ہیں کہ ملک خطرے میں ہے، ملک کو خطرہ ہے، بیرونی ہاتھ ملوث ہے، سازشیں ہو رہی ہیں، دہشت گردی میں بیرونی ہاتھ ملوث ہے۔ یہ سنتے سنتے کان پک گئے، بچے جوان ہو گئے اور اب بڑھاپے کا سفر طے کر رہے ہیں لیکن آج تک یہی سننے کو ملتا ہے۔

گوکہ ہم ایٹمی طاقت بن گئے لیکن معاشی طاقت بننے سے کوسوں دور ہیں۔ ملک پر قرضوں کا بوکھ بڑھ رہا ہے لیکن چند خاندانوں کے وسائل میں اضافہ ہو رہا ہے جو ملک چلانے والے ہیں ان سے ملک نہیں چلتا لیکن ان سب کے اپنے کارخانے ہیں کہ بڑھتے ہی چلے جا رہے ہیں۔ سینکڑوں لوگ اسمبلیوں میں بیٹھ کر غریبوں کے دکھوں پر جھوٹے آنسو بہاتے ہیں، غریبوں کے درد کی لمبی لمبی تقاریر کرتے ہیں، گھنٹوں آئین و قانون پر بحث کرتے ہیں اور آئین کی ہر اس شق پر زور دیتے ہیں جس سے ان کے احتجاج میں زیادہ سے زیادہ لوگ شریک ہو سکیں، آئین کی ہر اس شق کی تشریح پر زور دیتے ہیں جو ان کے سیاسی مستقبل کو محفوظ بنانے میں مدد فراہم کرے۔ ہر وہ قدم اٹھاتے ہیں جہاں ان کا اپنا خاندان محفوظ رہے اور دوسرے کے بچوں کی جان ہر وقت خطرے میں رہے۔

یہ ہمارے حکمران جو بہت بڑی تعداد میں نہیں لیکن کروڑوں لوگوں کے مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں، کبھی کسی کی نظر میں اسلام خطرے میں ہوتا ہے تو کبھی جمہوریت کو خطرات لاحق ہوتے ہیں تو کبھی ملکی سالمیت خطرے میں نظر آتی ہے لیکن حقیقت میں ان کے اپنے مفادات کو خطرات لاحق ہوتے ہیں لیکن یہ ایسے سیانے ہیں کہ ہر وقت اپنی لڑائی یا تو عوامی مسائل کے نام پر یا پھر ملکی سالمیت کے نام پر لڑتے ہوئے اپنا مستقبل محفوظ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب بھی ایسے حالات ہوتے ہیں تو شاعر عوام، شاعر انقلاب حبیب جالب بہت یاد آتے ہیں برسوں پہلے انہوں نے لکھا تھا۔

خطرہ ہے زر داروں کو

گرتی ہوئی دیواروں کو

صدیوں کے بیماروں کو

خطرے میں اسلام نہیں

ساری زمیں کو گھیرے ہوئے ہیں

آخر چند گھرانے کیوں

نام نبی کا لینے والے الفت سے

بیگانے کیوں

خطرہ ہے خون خواروں کو

رنگ برنگی کاروں کو

امریکہ کے پیاروں کو

خطرے میں اسلام نہیں

آج ہمارے نعروں سے لرزاں ہے

بَپا ایوانوں میں

بک نا سکیں گے حسرت و ارمان

اونچی سجی دوکانوں میں

خطرہ ہے بات ماروں کو

مغرب کے بازاروں کو

چوروں کو مکاروں کو

خطرے میں اسلام نہیں

امن کا پرچم لے کر اٹھو

ہر انسان سے پیار کرو

اپنا تو منشور ہے جالب ،

سارے جہاں سے پیار کرو

خطرہ ہے درباروں کو

شاہوں کے غم خواروں کو

نوابوں ، غداروں کو

خطرے میں اسلام نہیں

حبیب جالب نے پاکستان کے طرز سیاست، طرز حکمرانی پر جو بھی لکھا ہے دل سے لکھا ہے، ان کی حالات پر گہری نگاہ تھی اللہ تعالیٰ نے انہیں بہترین دماغ عطاء کیا اور حبیب جالب نے جو محسوس کیا اسے لکھ کر عوام کے ڈامنے پیش کر دیا اور ہم آج تک اس سے مستفید ہو رہے ہیں۔ حبیب جالب اکیلے سینکڑوں اراکینِ قومی و صوبائی اسمبلی پر بھاری ہیں کیونکہ یہ سب مل کر آج تک انہیں غلط ثابت نہیں کر سکے بلکہ یہ حکمران طبقہ ہر وقت ہمیں یاد کرواتا ہے کہ شاعر عوام، شاعر انقلاب ٹھیک تھے۔

موجودہ حالات کو ہی دیکھ لیں ہر زبان آگ اگل رہی ہے، کسی بھی سیاسی جماعت کی طرف سے مفاہمت، میانہ روی اور صلح کی بات سننے کو نہیں مل رہی۔ سب اپنے اپنے سیاسی قائدین کے فلسفے کے مطابق بیانات جاری کر رہے ہیں۔ بدقسمتی ہے کہ سب ہی ملک و قوم کی بھلائی کا نعرہ لگا رہے ہیں۔ اس سے بھی زیادہ بدقسمتی یہ ہے کہ کوئی بھی دلیل اور منطق سے بات کرنے کے بجائے صرف یہی کہہ رہا ہے چونکہ اس نے ایسا کیا اس لیے ہم بھی ویسے ہی کریں گے۔ یہی مکافات عمل ہے۔ کوئی کسی کو معاف کر کے مکافات عمل کے اس سلسلے کو ختم نہیں کرنا چاہتا بلکہ سب بدلہ لینے اور سبق سکھانے کے جذبے سے سرشار ہیں۔ کوئی درگذر سے کام لینے کو تیار نہیں ہے۔ یہ سوچ کہیں نظر نہیں آتی کہ کسی بھی قسم کی محاذ آرائی کا نقصان صرف اور صرف ملک کو ہونا ہے۔

جیسا کہ راحت اندوری نے لکھا ہے

اگر خلاف ہیں ہونے دو جان تھوڑی ہے

یہ سب دھواں ہے کوئی آسمان تھوڑی ہے

لگے گی آگ تو آئیں گے گھر کئی زد میں

یہاں پہ صرف ہمارا مکان تھوڑی ہے

میں جانتا ہوں کہ دشمن بھی کم نہیں لیکن

ہماری طرح ہتھیلی پہ جان تھوڑی ہے

ہمارے منہ سے جو نکلے وہی صداقت ہے

ہمارے منہ میں تمہاری زبان تھوڑی ہے

تو دوستوں یہاں جو ہو رہا ہے میرے اور آپ کے نام پر ہو رہا ہے، مجھے اور آپ کو ہی لڑوایا مروایا جاتا ہے، مجھے اور آپ کو ہی نشانہ بنایا جاتا ہے۔ میرے اور آپ کے نام پر ہی تحاریک پیش ہوتی ہیں، تحریکیں شروع ہوتی ہیں لیکن میں اور آپ ہی سب سے زیادہ نظر انداز ہوتے ہیں۔ یہ وطن ہمارا ہے ہمیں اس کی حفاظت کرنی ہے۔ اس ملک کو نقصان پہنچانے والے ہر عمل سے دور رہنا ہے اور ملک کو نقصان پہنچانے والوں کا راستہ بھی اپنے ووٹ سے ہی روکنا ہے۔ پرتشدد اور انتقام کے دور میں صلح کا راستہ بھی ہم نے ہی پیدا کرنا ہے۔اس زبانی جمع خرچ اور مشکل دور میں اللہ سے دعا کریں کہ اللہ ہمیں بہتر فیصلے کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ پاکستان زندہ باد!!!!

Comments

Click here to post a comment