ہوم << عمران خان کے لیے دوتہائی اکثریت کیوں؟ جمال عبداللہ عثمان

عمران خان کے لیے دوتہائی اکثریت کیوں؟ جمال عبداللہ عثمان

سابق وزیراعظم عمران خان مسلسل یہ بات کررہے ہیں۔ اقتدار کے عرصے میں ڈھکے چھپے الفاظ میں۔ اقتدار سے نکل جانے کے بعد اب کھلے عام۔ کہتے ہیں کہ ہمارے پاس دو تہائی اکثریت نہیں تھی، اس لیے پرفارم نہیں کرسکے۔ دوتہائی اکثریت مل جائے تو ہم بہت کچھ کرسکتے ہیں۔ ان کے بقول اسی وجہ سے ہم اصلاحات بھی نہ لاسکے۔ ٹویٹر اسپیس میں بھی یہ بات انہوں نے دُہرائی اور مستقبل کے جلسے جلوسوں میں بھی اس پر زیادہ زور دیتے نظر آئیں گے۔

یہ بات ایک حد تک تو درست ہے، لیکن سابق دورِ حکومت کی ناکامیوں کی وجوہات میں یہ وجہ نہ ہونے کے برابر ہے۔ دلیل یہ ہے کہ تین سال تک کوئی ایک لمحہ بھی ایسا نہیں آیا جس میں یہ خوف محسوس ہوا ہو کہ عمران خان کی حکومت کو کسی قسم کا کوئی خطرہ ہے۔ اپنا کوئی رُکن اسمبلی بے وفائی کرسکتا ہے۔ کوئی اتحادی چھوڑکر جاسکتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ، عدالتوں اور اتحادیوں نے ان کا ساتھ اس طرح دیا جیسے خان کے دائرے سے نکلنا دائرہِ اسلام سے نکلنے کے مترادف ہو۔

پھر کیا وجہ ہے کہ عمران خان اُمیدوں اور توقعات پر پورا نہ اُترسکے؟ اور کیا یہ درست ہے کہ عمران خان کو دو تہائی اکثریت مل گئی تو وہ ملک کو درست سمت پر گامزن کردیں گے؟ عوام کی مشکلات دور ہوجائیں گی؟ تمام ادارے بہت درست طریقے سے اپنا کام شروع کردیں گے؟

میری نظر میں یہ بالکل درست نہیں۔ وجوہات کئی ہیں۔ لیکن آپ پونے چار سالہ دورِ حکومت کو دیکھیے تو بے شمار کام ایسے تھے جن میں کسی دوتہائی اکثریت کی ضرورت نہیں تھی۔ مثلا: آپ کے لیے اپنے دورِ حکومت میں سب سے بڑا چیلنج مہنگائی رہا۔ آپ کہتے ہیں کہ کورونا کی وجہ سے عالمی سطح پر مہنگائی آئی۔ لیکن جب آپ کا پہلا سال تھا۔ اس میں ہی آپ نے مہنگائی کی شرح دوگنا سے زیادہ کردی۔ آپ سے پہلے ن لیگ جب حکومت چھوڑکر جارہی تھی اس وقت مہنگائی 5.1 فیصد پر تھی، جب آپ ایک سال مکمل کررہے تھے اس وقت یہ شرح 10.6 فیصد تک پہنچ گئی تھی۔ میں پھر دُہرادوں کہ دو تہائی اکثریت ہونے کے باوجود انجام یہی ہونا تھا، جو ہوا۔

آپ کے دورِ حکومت میں کچھ ایسے اسکینڈلز آئے، جن کے نتیجے میں عام شخص پِس کر رہ گیا۔ جس کی وجہ سے آپ کے کمزور طرزِ حکمرانی کا بھانڈا پھوٹ گیا۔ اس کا بھی دوتہائی اکثریت سے کوئی سروکار نہیں تھا۔ مثلا: پاکستان کی تاریخ میں دواؤں کی قیمتیں کبھی اتنی نہیں بڑھیں جس قدر آپ کے دور میں اضافہ ہوا۔ آپ کے دور میں ہی پیٹرول کی قلت کا اسکینڈل سامنے آیا۔ آپ ہم سے بہتر جانتےتھے کہ ایسا ہونے جارہا ہے۔ لیکن آپ اسے روک نہ سکے۔ دنیا میں جب پیٹرول کا خریدار کوئی نہیں تھا، آپ کی وزارتیں آپس میں لڑتی رہیں۔ میڈیا مسلسل چیختا رہا۔ چلاتا رہا۔ صرف ایک شاہ زیب خانزادہ نے اس پر درجنوں شوز کیے، لیکن تب بھی آپ کوئی ایکشن نہ لے سکے۔ آپ کے پاس دوتہائی اکثریت ہوتی تب بھی یہی کچھ ہوتا اور تب بھی عوام کو انہی عذابوں سے گزرنا ہوتا۔

آپ کے دور میں چینی کا اسکینڈل بنا۔ آپ لاکھ اس پر کسی اور کو قصوروار ٹھہرائیں۔ اس پر رپورٹ بنوائیں اور چھپوائیں۔ لیکن آپ خود جانتے ہیں کہ آپ نے خود ہی اس اجلاس کی صدارت کی۔ آپ ہی کے وزیراعلیٰ نے اس کی منظوری دی کہ چینی ایکسپورٹ کردی جائے۔ آپ ہی کی نااہلی تھی کہ آپ کو پتا نہیں چلا کہ ملک میں چینی کا بحران آسکتا ہے۔ اور جب بحران آیا تو آپ اپنی نااہلی ہی کی وجہ سے اس پر قابو نہ پاسکے۔ آپ کے پاس دوتہائی اکثریت ہوتی تب بھی آپ کچھ نہ کرپاتے۔ کیونکہ اس کا تعلق دوتہائی اکثریت سے تھا ہی نہیں اور نہ ہی مستقبل میں بھی اس کے لیے کسی دوتہائی اکثریت کی ضرورت ہے۔

اسی طرح غالبا اپریل 2020ء میں آٹے کا بحران پیدا ہوا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اس پر ہم شام کو ٹی وی چینلز پر پروگرام کرتے رہے۔ چیختے چلاتے رہے کہ آٹے کا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ اگر توجہ نہ دی گئی تو مسائل جنم لیں گے۔ مشکلات پیدا ہوں گی۔ لیکن آپ نے اس طرف دیکھنا تک گوارا نہ کیا۔ جو اس ایشو پر بول رہا تھا، آپ نے اسے بھی مافیائوں کا ساتھی قرار دیا۔ جب صورتِ حال کنٹرول سے باہر ہوئی تب بھی آپ نے اپنا قصور ماننے کے بجائے دوسروں کو موردِ الزام ٹھہرانے کی ریت برقرار رکھی۔ پھر ایک بے ضرر سا کمیشن بنایا۔ اور آخر میں کسی ایک فرد کو آپ قصوروار ٹھہراکر کٹہرے میں کھڑا نہ کرسکے۔ عرض کردوں کہ اس کا بھی دوتہائی اکثریت سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ آپ چاہتے تو سادہ ترین اکثریت میں ہونے کے باوجود آپ اسے ہینڈل کرسکتے تھے۔

آپ کے دور میں کھاد کا اسکینڈل سامنے آیا۔ آپ سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ اس میں آپ کے اپنے ہی لوگ ملوث رہے۔ وہ کس طرح اس ملک سے کھاد اسمگل کرکے مختلف ممالک کو بھجواتے رہے۔ آپ جانتے بھی تھے۔ آپ سے ڈھکا چھپا کچھ نہ تھا۔ آپ کو رپورٹس بھجوائی جاتی رہیں۔ آپ چاہتے تو بہت آسانی کے ساتھ اس پر ایکشن لے سکتے تھے۔ اسے آغاز میں ہی حل کرسکتے تھے۔ لیکن یہاں بھی صرف آپ کی روایتی سستی، کاہلی اور فیصلہ نہ کرپانے کی قوت نے کسان کو دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور کردیا۔ واضح کردوں کہ اس کا بھی تعلق کسی دوتہائی اکثریت سے نہ تھا۔

رہی بات قانون سازی کی۔ اصلاحات کی۔ کچھ کرگزرنے کی۔ اس سے متعلق بھی عرض کردوں۔ اگر آپ واقعی اصلاحات چاہتے۔ عوام کی خاطر قانون سازی کرتے تو پورے وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ آپ کو کسی قسم کی کوئی مشکل پیش نہ آتی۔ بطورِ دلیل بتادوں کہ آپ تو اتنے طاقتور تھے کہ الیکٹرونک ووٹنگ اور آئی ووٹنگ پر الیکشن کمیشن اور ماہرین کے منع کرنے کے باوجود قانون سازی کرڈالی۔ آپ کے پاس تو اتنا اختیار تھا کہ ایک دن میں آپ نے 34 بل مشترکہ اجلاس میں منظور کروادیے۔ یہ شاید پاکستان کی تاریخ میں پہلا موقع ہوگا جب اتنی بڑی تعداد میں ایک ہی دن میں بل قانون بنے ہوں۔

جب آپ دوتہائی اکثریت نہ ہونے کے باوجود یہ کرسکتے تھے۔ تو پھر سوال یہ ضرور پیدا ہوتا ہے کہ دوتہائی اکثریت نہ ہوکر آپ عوام کو ریلیف کیوں نہیں پہنچاسکے؟ آپ اداروں میں اصلاحات کیوں نہ لاسکے؟ آپ ملک کو درست سمت میں گامزن کیوں نہ کرسکے؟ مان لیتے ہیں کہ آپ کے پاس دوتہائی اکثریت نہیں تھی، اس لیے بھرپور کام نہ کرسکے۔ لیکن آپ پونے چار سالوں میں پونے چار ایسے کام کرتے جن پر آج فخر کرتے۔ آپ ملک بھر میں جلسے کررہے ہیں۔ جن پر آپ سینہ پھلاکر کہہ سکتے کہ یہ ہے میری کارکردگی۔ یہ تھی سابق حکومتوں کی کارکردگی۔

اگر اس وقت آپ کے پاس ایسا کچھ نہیں تو پھر ماننا پڑے گا کہ مسئلہ دوتہائی اکثریت نہیں، اہلیت کا ہے! اور اس کے ہوتے ہوئے آپ کو دوتہائی اکثریت بھی مل جائے تب بھی آپ ایسا ہی پرفارم کرپائیں گے جیسے آپ پونے چار سال تک کرتے رہے ہیں۔

Comments

Click here to post a comment