مسافر شب کو اٹھتے ہیں جو جانا دور ہوتا ہے - ام محمد سلمان

آج سے آخری عشرے کا آغاز ہو گیا تھا۔ فاطمہ افطاری سے فارغ ہو کر مغرب کی نماز پڑھ کے تلاوت کرنے بیٹھی تھی۔ چار سالہ حوریہ پاس ہی اپنے کھلونوں سے کھیلنے میں مگن تھی۔ گاہے گاہے اپنی ماما کی طرف بھی دیکھ لیتی۔ حوریہ نے اپنا کچن سیٹ چھوٹی سی میز پر پھیلا رکھا تھا اور بڑی دل جمعی سے افطاری کی تیاری کر رہی تھی۔ شام کے وقت جو کچھ ماں کو کرتے دیکھا اب وہی سب کچھ خود کرنے کی کوشش میں تھی۔ ساتھ ہی اپنی توتلی زبان میں کمنٹری بھی کررہی تھی۔

"ماما!! میں نے چھموچھے (سموسے) بنائے ہیں اول تاوَل بھی..." (اور چاول بھی) وہ اپنی چھوٹی چھوٹی دیگچیوں کے ڈھکن الٹ پلٹ کر کے ماں کو اطلاع دے رہی تھی۔ماما نے کوئی جواب نہیں دیا وہ اب دعا مانگ رہی تھیں۔ حوریہ اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے ہی انھیں دیکھنے لگی تاکہ وہ فارغ ہوں تو اپنا کارنامہ ان کو دکھائے...اور غائبانہ سموسوں اور چاولوں کی تعریف بٹورے۔ ماما اب دعا مانگتے مانگتے رو بھی رہی تھیں۔

"اللہ! مجھے معاف کر دیجیے،

اللہ! اپنی بندی کو بخش دیجیے،

اللہ! مجھ پر رحم کر دیجیے.....،

اللہ! مجھے معاف کر دیجیے....."

حوریہ سے ماں کا رونا دیکھا نہ گیا... ان کے قریب ہوئی اور آسمان کی طرف منہ اٹھا کر کہنے لگی..

"اللہ تعالیٰ !! میلی ماما تو ماپ تل دو نا.....!"

(اللہ تعالیٰ! میری ماما کو معاف کر دو نا)

ماما کا رونا بند نہ ہوا تو کہنے لگی...

ماما! آپ اللہ تعالیٰ سے چھولی (سوری) بول دو نا...

پھر خود ہی اپنے کان پکڑ کے کہنے لگی..

"اللہ تعالیٰ چھولی، میلی توبا، میلی ماما تو ماپ تل دو"

(اللہ تعالیٰ سوری، میری توبہ، میری ماما کو معاف کر دو)

ماما نے مسکرا کے اپنی معصوم سی بیٹی کو دیکھا جو اللہ کے دربار میں اس کی سفارشی بنی کھڑی تھی۔ بے اختیار اس پہ پیار آیا اور سینے سے لگا کر بھینچ لیا۔ اور سورہ عبس کی وہ آیتیں نظروں کے سامنے گھوم گئیں...

"يَوْمَ يَفِـرُّ الْمَرْءُ مِنْ اَخِيْهِ

جس دن آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا۔

وَاُمِّهٖ وَاَبِيْهٖ

اور اپنی ماں اور باپ سے۔وَصَاحِبَتِهٖ وَبَنِيْهِ

اور اپنی بیوی اور اپنے بیٹوں سے۔

لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْـهُـمْ يَوْمَئِذٍ شَاْنٌ يُّغْنِيْهِ

ہر شخص کی ایسی حالت ہوگی جو اس کو اوروں کی طرف سے بے پروا کر دے گی۔"

آج والدین اولاد پر صدقے واری ہوتے ہیں اور اولاد ماں باپ پر... مگر وہ قیامت کا دن ایسا سخت اور ہولناک ہوگا کہ سب ایک دوسرے کو بھلا بیٹھیں گے. ہر نفس کو اپنی پڑی ہوگی۔ آج میری جان چھوٹے چاہے اس کے بدلے میں مال اولاد کیا ساری دنیا دینی پڑ جائے...!! حوریہ کی معصومیت سے بھرپور دعائیہ سفارش نے وہ سارا نقشہ فاطمہ کی آنکھوں میں گھما دیا۔ بے اختیار دل سے دعا نکلی اے اللہ! تو اس دن مجھے اور میرے پورے خاندان کو اپنی رحمت کے سائے میں جگہ دینا، نیک لوگوں کے گروہ میں رکھنا، داہنے ہاتھ والوں میں شامل رکھنا۔ ہمیں ایک دوسرے سے جدا نہ کرنا باری تعالیٰ۔

ننھی پری، ماں کے آنسو پونچھتے ہوئے بولی ۔

"ماما آپ کوں لوئی؟ (ماما آپ کیوں روئیں؟)"

"ماما کو اللہ تعالیٰ سے ڈر لگتا ہے نا بیٹا! اس لیے ماما روتی ہیں۔"نئی لو ماما (نہیں روؤ ماما)... اللہ تعالیٰ بہت اچھے ہیں۔ آپ کو نئی مالیں گے (نہیں ماریں گے)۔ اس نے بڑے پیار سے ماں کو تسلی دی۔ ابھی دونوں ماں بیٹی کے درمیان یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ سات سالہ عفرا بھی وہاں آ گئی.فاطمہ نے اس سے مخاطب ہو کر کہا جاؤ بیٹا! عفان اور ارسلان کو بھی بلاؤ۔ آپ سب وضو کر کے یہیں آ جائیں میرے کمرے میں. ہم سب مل کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے۔آج سے آخری عشرہ شروع ہو گیا ہے نا.. یہ بہت بابرکت راتیں ہیں۔ ہم ایک رات بھی ضائع نہیں کریں گے۔ صرف طاق راتوں میں ہی نہیں بلکہ ہر رات میں جاگ کر اپنے رب کی عبادت کریں گے۔ اسے راضی کرنے کی کوشش کریں گے۔ لیلۃ القدر کو تلاش کریں گے۔

آپ کو پتا ہے نا... پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:

*"جو شخص لیلۃ القدر میں ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت سے (عبادت کے لیے) کھڑا ہو، اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔"پیارے بچو!! ہم سب اللہ تعالیٰ کے بہت گنہگار بندے ہیں. ابھی موقع ہے کہ ہم اسے راضی کریں، منائیں، جنت کا سوال کریں اور جہنم سے پناہ مانگیں۔ (جانے اگلے سال کا رمضان نصیب ہو یا نہ ہو۔) سب آ کر بیٹھے تو فاطمہ نے کتاب کھولی اور ان سب کو ایک بہت پیاری حدیث سنانے لگی۔پیارے بچو!! آپ کو پتا ہے نا.. جب کہیں کچھ لوگ مل کر اللہ کا ذکر کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کو بہت اچھا لگتا ہے اور اپنے بندوں سے بہت خوش ہوتے ہیں۔

حدیث میں آتا ہے:حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ:

"فرشتوں کی ایک جماعت ہے جو راستوں وغیرہ میں گشت کرتی رہتی ہے اور جہاں کہیں ان کو اللہ تبارک و تعالی کا ذکر کرنے والے ملتے ہیں تو وہ آپس میں ایک دوسرے کو بُلا کر سب جمع ہوجاتے ہیں اور ذکر کرنے والوں کے گرد آسمان تک جمع ہوتے رہتے ہیں۔
جب وہ مجلس ختم ہوجاتی ہے تو وہ آسمان پر جاتے ہیں۔ اللّه تبارک و تعالی باوجود ہر چیز کو جانتے ہیں پھر بھی دریافت فرماتے ہیں کہ "تم کہاں سے آئے ہو"؟وہ عرض کرتے ہیں کہ "تیرے بندوں کی فلاں جماعت کے پاس سے آئے ہیں جو تیری تسبیح اور تکبیر اور تحمید (بڑائی بیان کرنے اور تعریف کرنے) میں مشغول تھے۔

ارشاد ہوتا ہے کیا ان لوگوں نے مجھے دیکھا ہے؟عرض کرتے ہیں یاالله دیکھا تو نہیں۔ارشاد ہوتا ہے کہ اگر وہ مجھے دیکھ لیتے تو کیا حال ہوتا؟عرض کرتے ہیں کہ اور بھی زیادہ عبادت میں مشغول ہوتے اور اس سے بھی زیادہ تیری تعریف اور تسبیح میں منہمک ہوتے ۔ارشاد ہوتا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟فرشتے عرض کرتے ہیں کہ وہ جنت چاہتے ہیں۔ارشاد ہوتا ہے کیا اُنھوں نے جنت کو دیکھا ہے؟عرض کرتے ہیں کہ دیکھا تو نہیں۔ارشاد ہوتا ہے کہ اگر دیکھ لیتے تو کیا ہوتا؟عرض کرتے ہیں کہ اس سے بھی زیادہ شوق اور تمنا اور اس کی طلب میں لگ جاتے۔پھر ارشاد ہوتا ہے کہ کس چیز سے پناه مانگ رہے تھے؟عرض کرتے ہیں کہ جہنم سے پناه مانگ رہے تھے۔ارشاد ہوتا ہے "کیا انھوں نے جہنم کو دیکھا ہے؟عرض کرتے ہیں کہ"دیکھا تو نہیں."ارشاد ہوتا ہے: "اگر دیکھتے تو کیا ہوتا"؟عرض کرتے ہیں اور بھی زیادہ اس سے بھاگتے اور بچنے کی کوشش کرتے۔

ارشاد ہوتا ہے"اچھا تم گواہ رہو کہ میں نے اس مجلس والوں کو سب کو بخش دیا۔"ایک فرشتہ عرض کرتا ہے یاالله! فُلاں شخص اس مجلس میں اتفاقاً اپنی کسی ضرورت سے آیا تھا وہ اس مجلس کا شریک نہیں تھا۔ارشاد ہوتا ہے کہ یہ جماعت ایسی مبارک ہے کہ ان کا پاس بیٹھنے والا بھی محروم نہیں ہوتا (لہذا اس کو بھی بخش دیا)- (رواہ البخاری و مسلم)عفان جو بڑی توجہ سے حدیث سن رہا تھا، بڑے جوش سے بولا:

"تو ٹھیک ہے ماما جانی! ہم سب رمضان کی آخری رات تک مل کر روزانہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں گے۔ نمازیں پڑھیں گے، قرآن کی تلاوت کریں گے، تسبیحات کریں گے۔ اللہ تعالیٰ کی تعریف کریں گے اس کا ذکر کریں گے. استغفار کریں گے تاکہ وہ ہم سے خوش ہو جائے، ہمیں معاف کر دے اور ہمیں جنت میں داخل فرمائے۔"ماما جانی! ابھی فرشتے یہاں موجود ہیں نا؟ فرشتے یہاں سے جا کر اللہ تعالیٰ کو میرا نام لے کر بتائیں گے کہ عفرا اللہ کی عبادت کررہی تھی؟" عفرا بڑی خوشی اور امید سے پوچھ رہی تھی...
"جی بیٹا ضرور!! فرشتے ہم سب کے نام لے لے کر بتائیں گے اللہ تعالیٰ کو ۔""ہائے ماما... کتنا مزہ آئے گا...." عفرا خوشی سے پھولے نہ سمائی۔

پیارے بچو!! رمضان المبارک کے یہ قیمتی لمحات ضائع کرنے کے لیے نہیں ہیں۔ بہت سے لوگ ہیں جو ساری ساری رات جاگتے ہیں مگر ان کے جاگنے سے سوائے دکھ اور افسوس کے کچھ حاصل نہیں. ان کا جاگنا ان کے حق میں وبال ہے کہ جاگ کر اللہ کو راضی کرنے کے بجائے شیطان کو خوش کرتے ہیں۔ ساری ساری رات لغویات میں مصروف رہتے ہیں۔ ٹی وی دیکھتے ہیں لڈو، کیرم بورڈ کھیلتے ہیں۔ سوشل میڈیا پہ مصروف رہتے ہیں، ادھر ادھر کی باتیں کرتے ہیں اور صبح دم سحری کر کے پڑ کے سو جاتے ہیں۔ نمازوں کی پروا ہے نہ اپنے گناہوں کی بخشش کروانے کی کچھ فکر ہے۔ رمضان کا مقصد جن کے نزدیک سحر و افطار کے کھانے ہیں اور بس!!

میرے پیارے بچو!! ہم ان لوگوں میں سے نہیں بنیں گے۔ میرے بچو! ابھی سے عادت ڈال لو۔ رب کو راضی رکھنا ہے اور اس کے لیے ابھی سے کوشش کرنی ہے۔ ہمیں بہت دور جانا ہے۔ راستہ بہت کٹھن اور لمبا ہے، دشوار گزار گھاٹیاں ہیں۔ قدم قدم پہ نفس و شیطان کے ہتھکنڈے ہیں۔ وقت کم ہے، مقابلہ بہت سخت ہے....! آخری عشرے کے یہ دس دن اور راتیں بہت قیمتی اور انمول ہیں. انھیں کسی صورت ضائع نہیں کرنا ۔ پیارے بچو!! یاد رکھنا!!

جوانی میں عدم کے واسطے سامان کر غافل

مسافر شب کو اٹھتے ہیں جو جانا دور ہوتا ہے۔

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com