برائی سےروکنا امرِ حق ہے- کرن وسیم

‏اور تمہارے درمیان ایک جماعت ایسی ہونی چاہیے جس کے افراد (لوگوں کو) بھلائی کی طرف بلائیں، نیکی کی تلقین کریں، اور برائی سے روکیں۔ ایسے ہی لوگ ہیں جو فلاح پانے والے ہیں۔
آل عمران آیت نمبر 104

بنی اسرائیل پر ایک فردِجرم تو وہ ہے جو سورۃ البقرۃ کے پانچویں رکوع سے شروع ہو کر دسویں رکوع پر ختم ہوتی ہے. مزید برآں مختلف مقامات پر ان پر جو تنقیدیں ہوئی ہیں ان میں بیان فرمایا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے غضب کے مستحق اس لئے بھی بنے کہ انہوں نے یہ کام چھوڑ دیا۔ ان آیات میں یہ بات غور طلب بات ہے کہ پورا زور نہی عن المنکر پر ہے. یعنی بدی کو نہ روکنا اور اس فریضہ کو ترک کر دینا امر بالمعروف کو چھوڑ دینے کے مقابلہ میں زیادہ بڑا جرم ہے. اس لئے کہ منکرات کا فروغ ہی وہ شے ہے جس سے معاشرے میں گندگی اور فساد پھیلتا چلا جاتا ہے اور ماحول اتنا خراب ہو جاتا ہے کہ اس میں امر بالمعروف بے اثر ہوجا تا ہے. چنانچہ سورۃ المائدہ کی آیت ۶۳ میں فرمایا: لَوۡ لَا یَنۡہٰہُمُ الرَّبّٰنِیُّوۡنَ وَ الۡاَحۡبَارُ عَنۡ قَوۡلِہِمُ الۡاِثۡمَ وَ اَکۡلِہِمُ السُّحۡتَ ؕ لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَصۡنَعُوۡنَ ﴿۶۳﴾ ’’کیوں نہیں منع کرتے ان کے درویش (صوفیاء) اور علماء ان کو گناہ کی بات کہنے سے اور حرام کھانے سے. بہت ہی برے عمل ہیں جو وہ کر رہے ہیں‘‘.قرآن مجید میں امر بامعروف ونہی عن المنکر پر بہت سی آیات ہیں. بلکہ بعض آیات میں نہی عن المنکر کی خصوصی اہمیت سامنے آتی ہے.

۵) سورہ المائدہ کی آیت ۷۹ میں فرمایا: کَانُوۡا لَا یَتَنَاہَوۡنَ عَنۡ مُّنۡکَرٍ فَعَلُوۡہُ ؕ لَبِئۡسَ مَا کَانُوۡا یَفۡعَلُوۡنَ ﴿۷۹﴾
’’(یہ رہبان واحبار وہ لوگ ہیں کہ) جب ان کے یہاں منکر پر عمل ہو رہا تھا تو وہ اس سے منع نہیں کرتے تھے. کیا ہی بری روش تھی جس پر وہ چل رہے تھے‘‘
واقعہ سبت اس حوالے سے تاریخ بنی اسرائیل کی اہم ترین مثال ہے..ہفتہ کا دن جو ان کو اللہ کی عبادت کیلیئےمخصوص کرنےکاحکم دیاگیا تھا یہاں تک کہ اس دن انہیں شکار کی بھی ممانعت تھی اور آزمائش کےطور پر اسی دن دریا کے کناروں پر مچھلیاں ذیادہ پائ جاتیں..بالآخر حکم ربی کی نافرمانی شروع کردی گئ.گڑھے کھود کر مچھلیاں روکنے کے عمل سے شروع ہونیوالی نافرمانی بڑھتےبڑھتےکھلے عام شکار کرنے تک پہنچ گئ..اس دوران ان میں تین گروہ بن گئے ایک گروہ جو اس عمل میں بذات خود ملوث تھا.۔دوسرا گروہ جو اس کام کو برا سمجھکر خود تو نہیں کرتا مگر ان نافرمانوں کو اس سے روکتا بھی نہ تھا..

تیسرا گروہ ان افراد پر مشتمل تھا جو پہلے گروہ کے نافرمان لوگوں کو مسلسل اس فاسقانہ رویئے سے روکتا تھا تاکہ جب اللہ کے سامنے جوابدہی کا موقع آئے تو ان کےپاس اپنے "نہی عن المنکر" کے عمل کی حجت موجود ہو۔بالآخر اللہ کے عذاب سے صرف اسی گروہ کو نجات مل سکی ..نافرمان گروہ اور انکی بداعمالیوں پر خاموشی اختیار کرنیوالے سب عذاب کے ذریعے ہلاک ہوئے.۔ درحقیقت نجات کے مستحق وہی لوگ بنتے ہیں جو لوگوں کو بدی سے روکنے کا فریضہ انجام دیتے رہتے ہیں. بدی سے صرف خود رکے رہنا نجات کے لئے کفایت نہیں کرے گا. جو لوگوں کو بدی سے روکتے نہیں وہ بھی ان لوگوں کے مانند گردانے جاتے ہیں جو بدی میں ملوث ہیں.اللہ ہم سب کو امر بالمعروف کے ساتھ ساتھ نہی عن المنکر بھی بھرپور جذبے کے ساتھ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

Comments

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • امر بالمعروف کے مقابلے میں نہی عن المنکر کا فریضہ نسبتاََ مشکل اور حوصلے کاکام ہوتا ہے..نیکی کا حکم دینا آسان ہے مگر برائ سے روکنے پر عموماََ لوگوں کو ناگوار گزرتا ہے.لیکن اس وجہ سے برائ دیکھ کر خاموشی اختیار کرنا صحیح نہیں ہے..