بالغ افراد سوشل میڈیا اور نئی نسل - محمد اعجاز

عالمی نمبر 1 یونیورسٹی کے مشہور زمانہ میگزین ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو نے ایک مضمون لکھنے کا عالمی مقابلہ منعقد کیا۔ انہوں نے "بالغ افراد سوشل میڈیا اور نئی نسل کے بارے میں کیا نہیں جانتے" کے عنوان پر لکھنے کے لئے دنیا بھر سے صرف نوعمرافراد کو لکھنے کی دعوت دی۔ اس میگزین کو 28 ممالک سے 376 عالمی مضامین وصول ہوئے ۔

تاھم ایک امریکی طالب علم ٹیلر فینگ کے مضمون کو نئی نسل کے کسی بھی ٹین ایجر کی طرف سے لکھے جانے والے بہترین مضمون کے طور پر منتخب کیا گیا ۔ اسے موضوع کے بارے میں زیادہ مطابقت رکھنے کے ساتھ ساتھ ایک متحرک اور منطقی تصور پیش کرنے کی بنا پر انعام یافتہ قرار دیا گیا ۔ذیل میں اسی مضمون کا اردوترجمہ پیش خدمت ھے۔

اسکرین کا مطلب خود کو چھپانا ھوتا ہے لیکن جب کیمرے کی اسکرین کی بات آتی ہے تو یہ ہمارے وجود کی نمائندگی کا ایک ذریعہ بن جاتا ہے۔ ھم نوعمر افراد سوشل میڈیا کا استعمال محض سوشل رابطوں اور نیٹ ورکس کے لئے ھی نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ اس کی ایک اور سمت بھی ہے۔ جی ھاں،سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہمارے خود کے احساس کو تخلیق کرنے اور تشکیل دینے میں ھماری رہنمائی کرتا ھے۔ سوشل میڈیا ہمیں دیکھے جانے کا احساس دلاتا ہے ۔

ہم غروب آفتاب کے مناظر کو ، اپنی ملاقاتوں کو حتٰی کے اپنے کھانوں کو سوشل میڈیا کے زریعےشیئرکر کے زیادہ لطف اندوز ہوتے ہیں اور ہم ان سب کی تصاویر کا اشتراک کرکے اپنی خوشیاں بھی بانٹتے ہیں۔ لیکن اگر ھمار ےبڑے ،ھمارے سوشل میڈیا کےبڑھتے ھوےٗاستعمال کے بارے میں پریشان ہیں ، تو انھیں ھم نوعمر افراد کو ٹکنالوجی کے بارے میں گفتگومیں لازمی شامل کرنا چاہئے۔ موجودہ دنیا کی ھر لمحہ بدلتی ڈیجیٹل ضروریات میں مثبت تبدیلیوں کے لیے انہیں ھمارے خیالات اور رائے لازمی سننے چاہئیں۔

انہیں ھماری آواز کے اظہار کے متبادل طریقوں کی طرف ھماری راھنمائ بھی کرنا چاہئے۔ میرے نزدیک سوشل میڈیا کے استعمال کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ مجھے خودکی نمائندگی کی ایک راہ ملی تھی۔یعنی تخلیقی تحریریں۔اس کے علاوہ میں نے ٹویٹر پر شاعروں کو فالوبھی کیا جس سے میرے اندر شاعری کا زوق پیدا ھوا اور پھر میں نے شاعری بھی لکھنا شروع کی ۔ اور یوں میں اپنا زیادہ وقت لکھنے میں گزارنے لگی ۔ مجھے نہیں لگا کہ مجھے اتنی زیادہ فیس بک کی ضرورت ہے۔اور اگر میں نےا س کا استعمال کیابھی تو یہ محض ادبی تفریح کے لئے تھا۔

میرا یہ کہنا ہر گز نہیں ہے کہ ہر نوجوان کو سوشل میڈیا کے زریعے فن کو تشکیل کرنا شروع کر دینا چاہئے۔ یا یہ فن سوشل میڈیا کی سبھی پریشانیوں کا حل نکال دے گا۔ لیکن تخلیقی عینک کے ذریعے ٹیکنالوجی تک رسائی اس کے بارے میں محض "شعور بیدار کرنے" کے مقابلے میں زیادہ موثر ہے۔ نوعمرافراد کو جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی حوصلہ شکنی کی بجائے ، ہمیں یہ یقینی بنانا چاہئے کہ وہ کس طرح اس کو اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے اظھار کے لیے استعمال کریں۔ ہمیں یہ مت بتایا جائے کہ اس ٹیکنالوجی نے کس طرح ہماری اندرونی زندگیوں کو تباہ کردیا ہے۔

بلکہ ہمیں اس کے مثبت استعمال یعنی نظمیں لکھنے ،تخلیقی تحریریں لکھنے یااس کے زریعے کپڑے سینے یا اس طرح کے مزید فنون سیکھنے کو کہا جائے ۔ ہمیں اس کے بارے میں بتایا جائے کہ کس طرح سوشل میڈیا ہمیں دنیا اور ہمارے آس پاس کے لوگوں کو سمجھنے میں مدد کرتا ہے۔

شاید سوشل میڈیا سیلفیاں خود کی مکمل نمائندگی نہ ہوں۔ لیکن ہم اس سوشل میڈیا کے زریعے ایک مربوط شناخت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہم نہ صرف دیکھے جانے کی کوشش میں ہیں بلکہ اپنی آنکھوں سے دنیا کو دیکھنے کی کوشش بھی کر رہےھوتے ہیں۔