میرے پاس تم ہو کی آخری قسط میں کیا ہوگا؟ نیلم اسلم

اے آر وائی ڈیجیٹل کے ڈرامے ”میرے پاس تم ہو“ کی آخری قسط کا سب کو ہی انتظار ہے۔ لوگوں نے سینما گھروں میں ایڈوانس بکنگ تک کروالی ہے۔ ساری نظریں اس ڈرامے کے تخلیق کار خلیل الرحمن قمر کی جانب ہیں کہ آخر عورت کا بدنما چہرہ دکھاکر، عورت کی بے وفائی دکھاکر اب اس کا اختتام کیسے کریں گے؟ مہوش کو سزا کیا ملے گی؟ دانش کے دکھوں کا مداوا کیا ہوگا؟ شہوار کی زندگی کیسے گزرے گی؟ اس کا انجام کیا ہوگا؟ ماہم کے انتقام کی آگ کیسے بجھے گی؟ کیا شہوار کو اپنے ماضی کا کوئی دُکھ ہوگا؟ کوئی ملال ہوگا؟

مہوش کو بےوفائی کرکے اب ملال ہے۔ وہ ہر پل جی رہی ہے، ہر پل مر رہی ہے۔ اپنے گناہوں اور زیادتیوں نے اسے بے چین کر رکھا ہے۔ مگر شہوار نے بھی تو بے وفائی کی۔ نہ صرف ماہم سے بلکہ مہوش سے بھی۔ وہ پھر بھی قدرے مطمئن ہے۔

شاید یہی فرق ہے عورت اور مرد کا۔ کوئی بھی یہ نہیں کہتا کہ عورت بے وفا نہیں ہوتی۔ عورت بھی بےوفا ہوسکتی ہے۔ عورت بھی مجرم ہوسکتی ہے۔ عورت بھی گنہگار ہوسکتی ہے۔ پر یہ معاشرہ اسے اچھے سے سبق سکھاتا ہے۔ اس کے ہر گناہ کی اسے دُگنی سزا دی جاتی ہے۔ اسے ان گناہوں کا بھی حساب چکانا پڑتا ہے جو اس نے نہیں کیے ہوتے۔ اسے وہ قرض بھی چکانا پڑتے ہیں جو واجب بھی نہیں ہوتے۔

ارے جناب! آپ بے وفائی کی بات کرتے ہیں۔ عورت کو تو محبت کرنے پر بھی سزا ملتی ہے۔ عورت کے کسی کو پسند کرنے کو بھی گناہ ہی سمجھا جاتا ہے۔ کسی سے شادی کا خواب بھی دیکھ لے اور زبان پر یہ بات لے آئے تو قتل ہو جاتی ہے۔ اس پر زندگی تنگ کر دی جاتی ہے۔ ”کیا بے شرم زمانہ آگیا ہے۔“ ”اب بڑوں کے سامنے اپنی شادی کی باتیں کرنے لگی ہو۔“ ”ہم مرکیوں نہیں گئے ایسی بے شرمی کی باتیں سن کر“۔ یہ ساری باتیں اس معاشرے میں کی جاتی ہیں جہاں کے 90 فیصد سے زیادہ مسلمان کہلائے جاتے ہیں۔ حالانکہ اسلام نے لڑکی کو مکمل حق دے رکھا ہے کہ وہ جس سے اور جہاں چاہے اپنی شادی کا فیصلہ کرے۔

آپ بے وفائی کا رونا رو رہے ہیں، عورت کو تو محبت کے بارے میں سوچنے کی بھی سزا مل جاتی ہے اور اسے سنگسار کر دیا جاتا ہے۔ بےوفائی کی سزا تو ملے گی اور ملنی بھی چاہیے۔ یہاں تو محبت کے نام پر بھی عورتوں کو قرار واقعی سزا دی جاتی ہے۔ کتنی ہی عورتیں ہیں جو محبت کے نام پر رسوا ہوئیں۔ کتنی ہی داستانیں ہیں، وہ جس کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑا، اپنے ماں باپ کو چھوڑا، بہن بھائیوں کو چھوڑا۔ مگر جس کی خاطر چھوڑا، اسی نے آدھے راستے میں اسے چھوڑ دیا۔ دین کے نام لیوا بھی اس سے نفرت کرنے لگتے ہیں، دنیا والے بھی اسے تماشا بنانے کو اپنا فرض سمجھ لیتے ہیں۔ وہ جہاں جاتی ہے، کہا جاتا ہے دیکھ لو یہ عورت۔ اس کا انجام دیکھ لو۔ اور وہ واقعی دنیا کے لیے عبرت کا نشان بن جاتی ہے۔ پھر نہ اپنے اسے قبول کرتے ہیں نہ وہ کم ظرف جس سے اس نے محبت کی۔

خلیل الرحمن قمر صاحب کہتے ہیں کہ مرد کو بھیڑیا جانور دکھایا جا رہا تھا، اس لیے انھوں نے یہ ڈرامہ بنایا اور عورت کا دوسرا روپ بھی دکھا دیا۔ مان لیتے ہیں کہ جو لوگ مرد کو بھیڑیا یا جانور سمجھتے ہیں، وہ غلط کر رہے ہیں، انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے، لیکن میرا سوال یہ ہے کہ صرف مرد کو مظلوم دکھانے کے لیے عورت کو بےوفا اور ظالم قرار دینا اور حقائق کو مسخ کرنا ناانصافی نہیں؟ اس کے دُکھوں میں ایک اور دُکھ کا اضافہ کرنا کیا تخلیق کار کے لیے مناسب ہے؟ میرا سوال یہ بھی ہے کہ مرد اتنا ہی مظلوم ہے تو بتائیے کتنے مرد سنگسار ہوئے؟ محبت یا بےوفائی کرنے پر، کتنے مردوں سے جینے کا حق چھینا گیا؟ کتنے مردوں کی آبروریزی کی گئی؟

خیر! یہ موازنہ یا مقابلہ نہیں، بات یہی ہے کہ ہمیں اس بار مرد اور عورت کی بحث سے آگے نکل کر انسانیت کے لیے ایک پیمانہ بنانا ہوگا۔ غلطی کرنے والے کو معاف کرنا ہوگا۔ اسے دوسرا موقع دینا ہوگا۔ اس سے زندگی کا حق چھیننے کے روئیے کی نفی کرنی ہوگی۔ غلطی کسی سے بھی ہوجائے، غلطی پر پشیمان ہونے والوں کو عزت دینا ہوگی۔ ہمیں عورت یا مرد نہیں، بلکہ کسی کو انسان سمجھ کر اس کی غلطی کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ جب آپ صنف کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں تو پھر معاشرہ تقسیم ہوتا ہے اور ایک اچھے تخلیق کار کو کبھی معاشرے کی تقسیم نہیں کرنی چاہیے۔

مجھے نہیں معلوم، ڈرامے کے رائٹر نے اس کا انجام کیا لکھا ہے۔ پر میرے خیال سے جہاں ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں عورتوں نے ہمیشہ مردوں کو بے وفائی پر، زیادتیوں پر معاف کیا، مہوش کو بھی معافی ملنی چاہیے۔ کیونکہ وہ شرمندہ ہے۔ اگر اسے اپنی غلطی کا احساس نہ ہوتا تو اور بات تھی۔ مہوش اور دانش دوبارہ مل سکتے ہیں یا نہیں، میں اس بحث میں بھی نہیں پڑنا چاہتی۔ شاید بہت سے لوگ یہ کہیں کہ مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا۔ لیکن ہم جس مذہب سے تعلق رکھتے ہیں، وہاں ایک دوسرے سے علیحدگی کا آپشن بھی رکھا گیا ہے۔ اور بہت سارے مواقع پر یہ آپشن رضامندی کے ساتھ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس آپشن کو استعمال کرنے والوں کو نشانِ عبرت بنا دینا انصاف نہیں۔ خصوصاً عورت ذات کو بےوفائی کی علامت بنا دینا کوئی عقلمندی نہیں!