قانون محبت یعنی Law of Love کی ضرورت - امیرجان حقانی

میری بات / لکھاوٹ ان لوگوں کو سمجھ نہیں آسکتی جو "اسٹبلشمنٹی" ذہن یا اداروں سے تعلق رکھتے ہیں، یا خود ساختہ تقدس کے مالک ہیں. وہ تمام معاملات کو ریاستی نقطہ نظر اور تقدسی بھرم سے دیکھتے ہیں جبکہ میرا انداز فکر سماجی ہے.میں سماج سے تعلق رکھتا ہوں اور سماجی طالب علم بھی ہوں۔

سماجی انصاف کا قائل ہوں اس لیے صرف ریاستی قانون کو مسائل کے حل کے لیے کافی نہیں سجھ سکتا بلکہ میرے نزدیک سماجی زوایہ ریاستی نقطہ نظر سے اہم ہے.یہ بودی دلیل بہت دی جاتی ہے کہ "ریاست ماں ہوتی ہے اس لیے مختار کل ہے". بےشک ریاست ماں کا درجہ رکھتی ہے مگر ماں کب اپنے بچوں سے نفرت یا جبر کرتی ہے۔ اور نہ ہی ماں اپنے بچوں پر بےجا قدغن لگاتی اور آواز دباتی۔سچ یہ ہے کہ بچہ پیدا ہوتے ہی "چیخ" کے ذریعے اپنے وجود کا اظہار کرتا ہے۔ یہی چیخ اظہار آزادی کا فطری قانون ہے۔فطری طور پر ماں نافرمان اولاد کو سب سے زیادہ فوکس کرتی اور ان کے لیے فکر مند رہتی۔ان کے مسائل حل کرتی ہے. محبت کا گھونٹ پلاتی ہے۔ پیار کا انجکشن لگاتی ہے اور مودت کا ہر قانون آزماتی ہے۔

یہ بھی بہت کمزور دلیل ہے کہ لاء آف لینڈ ایکشن میں آئے گا. ماں نے کھبی بھی لاء آف مادر کا ڈھنڈورا نہیں پیٹا بلکہ Law of Love کا عملی مظاہرہ کیا۔"قانون محبت" یعنی Law of Love کے لیے سوال اٹھانا سب سے اولین شرط ہے۔ رونا بھی ضروری ہے. شکایت بھی اہم ہے۔ بغیر روئے ماں دودھ کب پلاتی ہے۔فرد سماج کا حصہ ہے، سماج یعنی افراد روئیں گے نہیں، سوال نہیں اٹھائیں گے اور شکایت نہیں کریں گے پھر ان کو کیوں سنا جائے گا۔شکایات کا کیونکر ازالہ ہو. لینڈ آف لاء پر یقین رکھنے والوں کو Law of Love پر ایمان لانا ضروری ہے اور اس کے لیے مکالمہ اور سوال کا اٹھانا اور اٹھنا ضروری ہے۔

تو کیا ہم "قانون محبت" کے ذریعے سب کو زیر نہیں کرسکتے؟ .ویسے ہماری یہ روش منافقت سے خالی نہیں کہ ہم جائز آواز اٹھانے والوں کو بھی کسی نہ کسی طرح خوفزدہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اگر بہتری کی ضرورت باقی ہے، یقینا ہے، تو منافقت سے نکل کر مسائل و معاملات کو ریاستی اور سماجی دونوں نقطہ نظر سے دیکھنا ہوگا۔سوال اٹھانا برا نہیں بہت اچھا ہے۔ سوال و جواب میں ہی افہام و تفہیم کی راہ نکل سکتی ہے۔ بصورت دیگر مسائل کا قعرمذلت ہمیں تباہ کرکے رکھ دے گا۔

جو لوگ استاد ہیں یا خود کو استاد سمجھتے ہیں ان کو بالخصوص سوال اٹھانے کی ترغیب دینی چاہیے، اور خود پر اٹھنے والے سوال کا تحمل سے جواب دینا چاہیے۔ ویسے استاد کی نوکری حاصل کرنے سے معلم کہلایا نہیں جاسکتا۔ معلمی ایک خلوص کا نام ہے۔سقراط نے بھی سوال اٹھایا تھا اور محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی "اقراء" کے جواب میں "ما انا بقاری" کے ذریعے جواب دیا تھا۔معلموں کا کام ہی سوال وجواب ہے۔ زندہ قوموں کے لیے سوال و جواب ضروری ہے۔سماجی اور سائنسی علوم وفنون سوال و جواب ہی کی مرہون منت ہیں۔

ایک استاد وہ بھی ہیں جو معلمی کا تقدس اتنا بڑھا دیتے ہیں، کہ اپنے تلامذہ کو ڈانٹ کر خاموش کرادیتے اور "اکابر کی توہین" کا راگ الاپتے ہیں.ان کا اسٹائل ریاستی جبر و قانون پر یقین رکھنے والوں سے بھی زیادہ خطرناک ہوتاہے۔ ایسے استاد سوال اٹھانے والے لوگوں کو اپنے لپاٹیوں کے ذریعے عبرت کا نشانہ بنادیتے ہیں.لازم ہے سوال اٹھے، سوال کا جواب دیا جائے.سوال کا جواب ریاستی جبر و قانون اور خودساختہ تقدس کا کھوکھلا بھرم سے دینے کی بجائے "قانون محبت" Law of Love یعنی سماجی اور معاشرتی حوالے سے آگاہی اور افہام و تفہیم کے بعد دیا جائے۔

یہ خود ایک بڑا سوال ہے کہ سماج کیا ہے اور کیا سوچتا ہے اور اس کے مسائل کیا ہے اور کیا چاہتا ہے۔بہرصورت زندہ رہنا ہے اور زندہ قوموں اور سماج میں شامل ہونا ہے تو قانون محبت کا نافذ کرتے ہوئے سوال وجواب کی آزادی دی جائے اور سماجی آبیاری کی جائے. اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو.