بھیڑ کے روپ میں بھیڑیے‎ - شہلا خضر

انسانی تاریخ میں شرمناک باب تحریر کرنے پر کالے کوٹ پہنے بھیڑیوں کو عبرت ناک سزا دی جا نی چا ہیۓ انہیں کھلی کچھری میں بلانا چا ہیۓ ، ان کا مقدمہ عوام کے سامنے پیش ہونا چاہیۓ ، تانکہ آئندہ کسی بھی محکمہ یا ادارے سے منسلک افراد ایسی گھنائونی حرکت کرنے کا تصور بھی نہ کرسکیں ۔

آج ان پڑھے لکھے جہلاء نے اپنے والدین کے ساتھ ساتھ تمام قوم کا سر شرمُ سے جھکا دیا ۔ اپنے ہی ملک کے دل کے ہسپتال پر حملے کا یہ واقعہ دنیا کی کسی گھٹیا سے گھٹیا قوم نے نہ کیا ہوگا ۔ آج جبکہ پاکستان کا بچہ بچہ باباۓ قوم قائد اعظم کا یوم پیداش منانے کی تیاریوں میں لگے ہوۓ ہیں ان کے ہم پیشہ وکالت کے معزز پیشے سے وابسطہ افراد کی ہسپتال میں توڑ پھوڑ مریضوں کی جانُ سے کھیلنا ڈاکٹروں اور دوسرے افراد پر تشدد جیسے گھنائونے اقدامات کر کے پوری قومُ کے دل میں وکالت کے پیشے کی لیۓ شدید غم و غصہ پیدا کر دیاہے- وکیلوں کی وکلاء گردی کا یہ پہلا واقعہ نہی ہے ، اس سے پہلے بھی وکلاء اسی نوعیت کے اقدامات کئ بار کر چکے ہیں ۔

وجہ کوئ بھی ہو اگر وکلاء اور ڈاکٹروں کی آپس کی کوئی رنجش تھی تو انہیں اسے ہسپتال میں حل کرنے کےبجاۓ اپنے گھر بیٹھ کر طے کرنا چاہیۓ تھا ، افسوس ناک بات تو یہ ہے کہ ہسپتال اور وہ بھی دل کے ہسپتال میں گھس کرنہ صرف تیمار داروں بلکہ مریضوں کو بھی زدوکوب کیا گیا،ان کی انسانیت یہاں تک گر گئ کہ ایک مریضہ کا آکسیجن ماسک بھی کھینچ کر اتار دیا ، جس کےباعت اس کا انتقال ہو گیا آج ہر کسی کی زبان پر یہی سوالات ہیں کہ ، یہ کیسے شاہین ہیں ہمارے ؟؟؟یہ کون سی بلندیوں پر بسیرا کرنے چلے ہیں ؟

یہ بھی پڑھیں:   سماجی انصاف اوراسکے تقاضے - ڈاکٹر ساجد خاکوانی

یہ کس قسم کےانصاف کے علمبردار ہیں ؟ چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ صاحب سے پوری قومُ کا مطالبہ ہے کہ اس واقعے میں ملوث تمام وکلاء کے لائسنس فوری طور پر منسوخ کیۓ جاۓ ، کیونکہ یہ سب وکیل آج کے اپنے اس شرمناک کارنامے کے بعد انصاف کے قلمدان کے اہل نہیں رہے انُ انسان نما بھیڑیوں کو سخت سے سخت سزا دی جاۓ۔ تانکہ عوام کا جو اعتبار ملکی اداروں سے اٹھ گیا ہے وہ کسی حد تک بحال ہو سکے ۔