پی ٹی آئی آ بیل.... - حبیب الرحمن

جو بات حلق سے اتر کر نہیں دے رہی وہ یہ ہے کہ کیا یہ وہی حکومت ہے جس کے حکمرانوں کا چہرہ اقتدار میں آنے سے پہلے قوم کے سامنے تھا۔ ہر وہ بات، وعدے اور دعوے ان حکمرانوں کے اقتدار میں آنے سے پہلے تھے، اقتدار سنبھالتے ہی ہر اٹھنے والا قدم ان باتوں، وعدوں اور دعوؤں کے خلاف جاتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

بہت سارے دعوؤں میں ایک دعویٰ پرویز مشرف کے اقدامات کے خلاف بھی تھا اور ماضی قریب کا ریکارڈ اٹھا کر دیکھا جائے تو ایک آگ تھی جو اس وقت کے حکمرانوں کے سینے میں مشرف کے خلاف بھڑک رہی تھی لیکن معلوم نہیں وہ آگ گل و گلزار کیسے بن گئی اور ایسا فیصلہ جو پر ویز مشرف کے غدارانہ اقدامات کے خلاف محفوظ کر لیا گیا تھا، اس کو سنانے کا وقت آنے لگا تو موجودہ حکومت کیوں اس بات کے حق میں نظر آرہی ہے کہ اس فیصلے کو نہ سنا یا جائے۔

خبروں کی تفصیل کے مطابق سابق فوجی صدرجنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کیس میں فیصلہ رکوانے کے لیے تحریک انصاف کی حکومت نے اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے استدعا کی ہے کہ عبوری ریلیف کے طور پر خصوصی عدالت کا 19 نومبر کا فیصلہ کالعدم قراردیا جائے۔ وزارت داخلہ کے ذریعے دائر کی گئی درخواست میں حکومت نے مؤقف اپنایا ہے کہ " سنگین غداری کیس میں شریک ملزمان کو ٹرائل میں شامل ہی نہیں کیا گیا ہے، پرویز مشرف کودفاع کے حق سے محروم کیا گیا نیز یہ کہ خصوصی عدالت کا فیصلہ آئین کے آرٹیکل 4 اور 10اے کی خلاف ورزی ہے"۔

سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف یہ مقدمہ آئین توڑنے اور عدالتوں کے ججوں کے خلاف ریفرینس دائر کرنے جیسے اقدامات کے خلاف چلایا گیا تھا۔ مشرف صاحب ایک مرتبہ ان مقدمات کا سامنا کرنے پاکستان بھی آئے تھے اور اس بات کی کوشش بھی کی تھی کہ وہ ملک میں ہونے والے انتخابات میں حصہ بھی لیں لیکن پاکستان میں ان کے خلاف ایک ایسی فضا بن چکی تھی کہ نہ تو وہ کیس کا سامنا کرسکے اور نہ ہی پاکستان کی کسی بھی عدالت نے ان کو پاکستان کے کسی بھی قسم کے انتخابات میں حصہ لینے کا اہل قرار دیا، ججوں کی برطرفی ایک ایسا سنگین مسئلہ بنا کہ انھیں اپنی جان چھڑانا مشکل ہو گئی اور مجبوراً انھیں بیماری کو جواز بنا کر ملک سے باہر جانا پڑا۔

کہا تو یہی گیا تھا کہ وہ صحتیاب ہوتے ہی مقدمات کا مقابلہ کرنے کیلئے عدالت کے طلب کرنے پر واپس آ جائیں گے لیکن جب جب بھی عدالت نے ان کے وارنٹ نکالے، بیماری شدت کے ساتھ ابھر کر سامنے آتی رہی جس کی وجہ سے وہ عدالت کے روبرو پیش ہوکر اپنی صفائی میں اب تک کچھ کہنے سے قاصر رہے جس پر عدالت نے کچھ عرصے پہلے ایک وارننگ جاری کی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ اگر سابق صدر پرویز مشرف عدالت کے روبرو پیش نہ ہوئے تو عدالت آئین اور قانون کے تحت یک طرفہ کارروائی پر مجبور ہو جائے گے لیکن عدالت کے اس نوٹس کے باوجود بھی پرویز مشرف عدالت کے سامنے پیش نہ ہوئے جس پر عدالت نے کیس کا فیصلہ کرکے اسے 19 نومبر کو محفوظ کر لیا تھا جو کہ غالباً 28 نومبر 2019 کو سنایا جانا تھا۔ اسی فیصلے کو کالعدم قرار دینے یا اسے مؤخر کرنے کی استدعا حکومت کی طرف سے کی گئی ہے اور مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ ملزم کو اپنی صفائی پیش کرنے کا موقع فراہم کیا جائے۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومت کب جاگے گی - پروفیسر محمد عبداللہ بھٹی

جہاں تک راقم الحروف کا تعلق ہے وہ اس بات کے حق میں بالکل بھی نہیں کہ تنہا پرویز مشرف کو 1999 میں لگائے جانے والے مارشل کے ذریعے آئین توڑنے یا ججوں کو برطرف کرنے کے اقدامات میں سزاوارقرار دیا جائے۔ ملک میں ایک جمہوری حکومت کا ختم کیا جانا یقیناً ایک بہت بڑا سنگین جرم ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں آئین کہیں سے کہیں تک بھی اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ملک میں کسی بھی منتخب حکومت کو توڑا جائے بلکہ ایسا کرنے والے پر آرٹیکل 6 کا اطلاق ہوتا ہے جو سنگین غداری کے زمرے میں آتا ہے۔

راقم کو اس سے بھی بحث نہیں کہ جس انداز میں پرویز مشرف کو ہٹایا گیا وہ صحیح تھا یا غلط تھا لیکن آئین جن کو یہ اختیارات دیتا ہے کہ وہ اپنے ملک کی آرمی کے لئے جس کو چاہیں منتخب کریں، انھوں نے اس وقت کے ایک آرمی چیف کو نہ صرف معزول کیا بلکہ انھوں نے ہی ایک اور جنرل کو آرمی چیف کا نہ صرف نوٹیفیکیشن نکالا بلکہ اسے باقائدہ آرمی چیف بھی مقرر کر دیا۔ یہ اقدام یقیناً ملک کے ایک بہت بڑے اور طاقتور ادارے کیلئے قابل قبول نہیں تھا۔

اس ادارے نے ایک طرح اسے گوارہ نہ کرتے ہوئےاپنے شدید رد عمل کا اظہار کیا اور فیصلے کو قبول نہ کرتے ہوئے منتخب حکومت کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا، اس وقت کے وزیر اعظم کو گرفتار کیا، ملک میں ایمرجنسی نافذ کی گئی، مارشل لگادیا گیا اور پھر پوری آرمی نے فیصلہ کیا کہ مشرف کی آرمی چیف والی حیثیت برقرار رکھی جائے اور یوں پر ویز مشرف تمام ہائی کمان کی متفقہ رائے کے نتیجے میں چیف مارشل لا ایڈمنسٹریٹر مقرر کر دیئے گئے۔ ایسا کرنا اس وقت کے حالات کے لحاظ سے درست تھا یا غلط، راقم کو اس بات سے کوئی غرض نہیں لیکن یہ تو طے تھا کہ یہ کام تنہا سابق آرمی چیف اور مملکت کے صدر کا تنہا فیصلہ نہیں تھا۔

بالکل اسی طرح جب پرویز مشرف نے ججوں کو بر طرف کیا تو اس وقت بھی وہ تنہا نہیں تھے بلکہ اس وقت ایک لنگڑی لولی جمہوریت تھی، ملک میں منتخب حکومت تھی، اسمبلیاں تھیں، وزرائے اعلیٰ موجود تھے اور ملک کا حکومتی عہدہ یعنی وزیر اعظم بھی موجود تھا۔ ممکن ہے کہ یہ فیصلہ مشرف کا اپنا ہی فیصلہ ہو لیکن ایک منتخب حکومت کے ہوتے ہوئے حکومت کی جانب سے اس فیصلے کے خلاف ایک استعفا بھی نہیں آنا، کسی قسم کا آوازہ احتجاج بلند نہیں ہونا اس بات کے ثبوت کیلئے کافی تھا کہ ملک میں جو کچھ ہورہا تھا وہ سب کی (خاموش) رضامندی سے ہو رہا تھا۔

پاکستان میں ججوں کی برطرفی ایک ایسا معاملہ تھا جس کو نہ تو سیاسی پارٹیوں کو پسند آیا اور نہ ہی وکلا اور عوام نے اسے سراہا بلکہ ہوا یہ کہ اس فیصلے کے خلاف ہر طبقہ فکر کی جانب سے شدید رد عمل دیکھنے میں آیا۔ اس وقت کی اپوزیشن پارٹیوں میں جہاں اور بہت ساری پارٹیاں شریک تھیں وہیں پی ٹی آئی نے بھی نہایت مؤثر کردار ادا کیا تھا۔ ججوں کی بحالی کے بعد پی ٹی آئی کی تحریک کو متحرک رکھنے اور عوامی سطح پر اس کو جگہ بنانے میں جنرل پرویز مشرف کے اقدامات کے خلاف اٹھائی جانے والی آواز کا بھی بہت عمل دخل رہا اور اب سے کچھ عرصے پہلے تک پی ٹی آئی پرویز مشرف کے خلاف اسی انداز میں سرگرم نظر آئی ۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومت ہوش کے ناخن لے - حبیب الرحمن

جس انداز میں وہ انتخابات میں کامیابی سے پہلی متحرک دکھائی دے رہی تھی۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر اچانک سابق جنرل اور صدر پرویز مشرف کیلئے اس کے مؤقف میں تبدیلی کا جواز کیا ہے؟۔ فیصلہ عدالت کر چکی ہے، اسے سنائے جانے کے ایام بھی بس آیا ہی چاہتے ہیں تو پی ٹی آئی کو فیصلہ سنائے جانے میں حائل ہونے کی آخر کیوں ضرورت محسوس ہو رہی ہے؟۔ حیرت اس بات پر ہے کہ حکومت ایک فریق کا روپ کیوں دھار رہی ہے اور اس حد تک شدید کیوں ہے جیسے فیصلہ پرویز مشرف کے غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کے خلاف نہیں بلکہ پی ٹی آئی کی حکومت کے خلاف سنایا جانے والا ہے۔

پی ٹی آئی کی حکومت کی جانب سے دائر دراخواست میں کہا گیا ہے کہ پراسیکیوشن ٹیم نے تحریری دلائل جمع کرائے جس کا اسے اختیار نہیں تھا، حکومت نے اپنی درخواست میں یہ بھی کہا کہ خصوصی عدالت کی تشکیل درست نہیں کی گئی تھی اور نہ ہی شکایت مجاز فرد کی جانب سے داخل کرائی گئی تھی۔ یہ تو ہے وہ مؤقف جو سرکار کا ہے، جس سے اور کسی بات کا پتہ چلے یا نہ چلے، اس بات کا شک یقین کی حد تک ضرور پیدا ہو گیا ہے کہ فیصلہ پرویز مشرف کے خلاف ہی آنا ہے۔

فیصلہ حق میں ہے یا خلاف، یہ بحث الگ ہے، بات سوچنے کی یہ ہے کہ آخر اس سے پی ٹی آئی کو کیا ڈر ہے یا پی ٹی آئی اس کی راہ میں کوئی رکاوٹ کیوں بن رہی ہے۔ خصوصی عدالت کا یہ فیصلہ نہ تو حتمی ہے اور نہ قانون اس بات سے روکتا ہے کہ اس فیصلے کو کسی اور عدالت میں چیلنج نہیں کیا جاسکے گا۔ پاکستان میں عدالتوں کے دروازے کھلے ہوئے ہیں اور ہر فرد کو اس بات کی اجازت ہے کہ وہ اپنے لئے عدل اور انصاف تلاش کرے۔ اس لئے یہ بات اور بھی غور طلب ہے کہ آخر پی ٹی آئی، بحیثیت حکومت، اس معاملے میں فریق کس لئے بننا چاہ رہی ہے۔

پی ٹی آئی کو اس بات کا علم بھی ہونا چاہیے اس کے فارن فنڈنگ کیس بھی ایک ایسے موقع پر کھولا جارہا ہے جب وہ کافی مسائل میں پھنسی ہوئی ہے۔ وہی کیس جو 5 سال سے نہیں کھولا گیا تو آخر ایسے گھمبیر موقع پر اس کا کھولے جانا کیا معنی رکھتا ہے۔ عدالتوں کا بدلہ ہوا لب و لہجہ، ہواؤں کا رخ بدل جانا جیسے جملوں کے علاوہ خود پی ٹی آئی کے وزرا کو یہ احساس ہونا کہ "ہمیں حکومت تو ضرور مل گئی ہے ۔

لیکن اقتدار ابھی تک نہیں ملا" والی بات پی ٹی آئی کو ضرور سمجھنا چاہیے لہٰذا بہتر یہی ہے کہ وہ پرویز مشرف کی وکالت کرنے سے گریز کرے اور جو بھی فیصلہ بھی ہے اسے عوام کے سامنے آنے دے ورنہ فضا کی بدلی ہوئی کیفیت کی جو رہی سہی کسر ہے وہ بھی کہیں پوری نہ ہوجائے اور پوری فضا ہی اس کیلئے آلودہ ہوکر اس کی حکومت کی زندگی کا خاتمہ نہ کردے۔