شریف برادران کی غیرموجودگی میں ن لیگ کون چلائےگا؟

مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف کی علاج کے لیے لندن روانگی اور ان کے ہمراہ شہباز شریف کے بھی چلے جانے کے بعد یہ سوال جماعت کے کارکنوں اور عوام کے ذہن میں تیزی سے گردش کر رہا ہے کہ مسلم لیگ ن کے پارٹی امور اب کون سنبھالے گا۔اس معاملے میں پہلا نام جو ذہن میں آتا ہے وہ نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کا ہے لیکن چوہدری شوگر ملز کیس میں عدالت سے ضمانت اور رہائی کے بعد سے مریم میدانِ سیاست سے دور ہی نظر آئی ہیں۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محض مقدمات کی بنیاد پر کسی کو سیاست کے میدان سے باہر کیا جا سکتا ہے اور کیا ضمانت کے بدلے مریم نواز نے پاسپورٹ کے ساتھ ساتھ اپنا 'سیاست نامہ' بھی سرنڈر کر دیا ہے۔اس بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنماؤں نے بتایا کہ مریم نواز ابھی سیاست میں فعال کردار ادا نہیں کرسکیں گی اور وہ اپنے مقدمات بھگتنے میں مصروف ہیں۔

مریم نواز کے وکیل امجد پرویز کا بھی کہنا تھا کہ عدالت نے مریم نواز کو ضمانت میرٹ پر دی ہے لیکن اس کے باوجود وہ سیاست میں سرگرم نہیں ہوں گی اور اب پارٹی کے امور چار سینیئر لیگی رہنما چلائیں گے۔


مریم نواز پھر پس منظر میں چلی گئیں؟
سینیٹر پرویز رشید نے بی بی سی کو بتایا کہ مریم نواز کے دو ہی کام تھے والد کی عیادت اور نیب کے مقدمات بھگتنا اور والد کی روانگی کے بعد اب وہ نیب کے مقدمات تو بھگتیں گی۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پارٹی کی خواہش اور کوشش ہو گی کہ انھیں جلد سے جلد ایسا موقع لے کر دیں کہ وہ اپنے والد کی تیمارداری کا سلسلہ جاری رکھ سکیں۔واضح رہے کہ مریم نواز کو چوہدری شوگر ملز کیس میں لاہور ہائی کورٹ سے ضمانت پاسپورٹ سرنڈر کرنے کی شرط پر ملی تھی۔ وہ عدالت کی اجازت کے بغیر اب بیرون ملک سفر نہیں کر سکتیں۔

مریم نواز کے وکلا نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ اس پابندی کے خلاف عدالت سے دوبارہ ایک نئی درخواست دائر کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ اس سے قبل مریم نواز کو عدالت سے اپنے والد کی عیادت کے لیے عبوری ضمانت ملی تھی پھر بعد میں میرٹ پر بھی ضمانت مل گئی۔پارٹی کی کمان سے متعلق پوچھے گئے سوال پر پرویز رشید کا کہنا تھا ’پارٹی کو تو ہم سب دیکھ رہے ہیں۔ وہ (مریم نواز) بھی اپنا کردار ادا کرتی رہیں گی، وہ پہلے بھی کرتی رہی ہیں، آئندہ بھی کرتی رہیں گی۔‘

یہ بھی پڑھیں:   گھڑی دو گھڑی کا چیف - جاوید اقبال

لاہور میں مسلم لیگ ن کی سیاست کو بہت قریب سے دیکھنے والے سینیئر صحافی سلمان غنی نے بی بی سی کو بتایا ’مریم نواز کا ٹھہراؤ عارضی ہے اور یہ ان کے والد کی صحت کی وجہ سے تھا۔ جہاں تک مقدمات کا تعلق ہے تو وہ چلتے رہیں گے، یہ مقدمات ان کی مقبولیت میں اضافے کا باعث ہی بنے ہیں۔‘سلمان غنی کے خیال میں شہباز شریف کی پاکستان واپسی کے بعد مریم نواز باہر چلی جائیں گی۔


کمان کس کے ہاتھ: ’اب تو واٹس ایپ کا زمانہ ہے‘
اس صورتحال میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شریف برادران کے باہر چلے جانے سے آیا مسلم لیگ ن کمان کے مسئلے سے دوچار ہے۔

اس بارے میں سینیٹر پرویز رشید کا مؤقف ہے کہ ایسا نہیں اور ان کی جماعت ان امتحانوں سے پہلے بھی گزر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا ’سنہ 1999 میں ہماری پوری قیادت کو جلاوطن کر دیا گیا تھا اور پارٹی قائم رہی تھی بلکہ پارٹی نے کامیابیاں حاصل کی تھیں۔‘

پرویز رشید کے مطابق اب بھی پارٹی کے مختلف عہدیدار اپنا اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔ ’اب تو واٹس ایپ کا زمانہ آ گیا ہے، رابطہ مشکل ہی نہیں رہ گیا۔‘

تاہم بعض مبصرین کہتے ہیں کہ پرویز مشرف کے دور میں شریف خاندان کے ملک سے باہر جانے کے بعد ان کی پارٹی کی کمان کے معاملے پر پارٹی کے اندر اختلافات پیدا ہو گئے تھے جس کا نقصان جماعت کو سنہ 2002 کے انتخابات میں ہوا تھا اور پارٹی کی ان انتخابات میں بری شکست کے پیچھے دیگر عوامل کے علاوہ پارٹی کے اندرونی اختلافات نے بھی اہم کردار ادا کیا تھا۔

مسلم لیگ ن اب کیسے کام کرے گی؟
مسلم لیگ کی ترجمان مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ جماعت کے صدر شہباز شریف نے دو روز قبل لاہور میں پارٹی رہنماؤں کے ساتھ تفصیلی مشاورت کے بعد ان کی اور نواز شریف کی عدم موجودگی میں پارٹی معاملات چلانے کے لیے ایک عبوری لائحہ عمل طے کر لیا تھا۔مریم اورنگزیب کا کہنا ہے کہ یہ عبوری انتظام 15 سے 20 روز کے لیے قائم کیا گیا جس میں مختلف رہنماؤں کو مختلف ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   میری سمجھ میں کچھ نہیں آتا - حبیب الرحمن

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ شہباز شریف کی عدم موجودگی میں پارٹی کے سینیئر رہنما خواجہ آصف پارلیمان کے اندر پارٹی کی قیادت کریں گے، پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی انھی کی سربراہی میں ہو گا اور پارلیمانی امور کے بارے میں خواجہ آصف ہی پالیسی جاری کریں گے۔ترجمان کے مطابق اس کے علاوہ جنرل سیکریٹری احسن اقبال پارٹی کے دیگر معاملات دیکھیں گے، جن میں انتظامی معاملات اور جماعت کی تنظیم نو کی ذمہ داریاں شامل ہیں۔

مریم اورنگزیب نے بتایا کہ شہباز شریف نے پارٹی رہنماؤں کو ہدایت کی ہے کہ ان کی غیر موجودگی میں پارٹی کی سرگرمیاں زور و شور سے جاری رہنی چاہیے اور حکومت کی کارکردگی پر مسلسل نظر رکھ کر اس کی سرزنش جاری رکھی جائے۔

پارلیمانی مشاورتی گروپ میں کون کون شامل؟
مسلم لیگ ن کے سینیئر رہنما اور رکن قومی اسمبلی خواجہ آصف نے بی بی سی کو بتایا کہ نواز شریف اور شہباز شریف کی غیر موجودگی میں ’ہماری ایک کولیکٹو لیڈرشپ‘ ہے۔ ہمارا ایک پارلیمانی مشاورتی گروپ بنا ہوا ہے وہ اسمبلی کے اندر اور باہر پارٹی امور چلائے گا۔سلمان غنی نے بی بی سی کو بتایا کہ اس مشاورتی گروپ میں خواجہ آصف، احسن اقبال، ایاز صادق اور رانا تنویر شامل ہیں۔مسلم لیگی سیاست پر نظر رکھنے والے مبصرین کا کہنا ہے کہ ان رہنماؤں کے آپس کے تعلقات ن لیگ کی سیاست کو چلانے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے ہیں۔

اس کمیٹی میں شامل بعض رہنما ایک دوسرے کے بیانیے سے بظاہر متفق نہیں ہیں اور نواز شریف اور کسی حد تک شہباز شریف ان سب کو ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ان دونوں رہنماؤں کی عدم موجودگی اور مریم نواز کی غیر فعالیت کے دوران مسلم لیگ کے یہ اہم رہنما کس حد تک یک جہتی کا مظاہرہ کرتے ہیں یہ کہنا مشکل ہے۔خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ہماری خواہش ہو گی کہ نواز شریف چار ہفتوں سے پہلے آ جائیں لیکن ’ان کی بیماری پیچیدہ ہے، وہ پہلے لندن اور بعد میں شاید امریکہ بھی جائیں۔‘