ترکی کا ایک اور اہم اقدام

انقرہ: ترکی نے کالعدم داعش سے تعلق رکھنے والی جرمنی اور برطانیہ کے باشندوں کو ملک بدر کر دیا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے الجزیرہ کے مطابق ترکی نے دنیا کی بڑی دہشتگرد تنظیموں میں سے ایک داعش سے تعلق رکھنے والے جرمنی اوربرطانیہ کے 8 شہریوں کو انکے ملک واپس بھیج دیا۔

یاد رہے کہ شمالی شام میں ترکی کی طرف سے شروع کیے گئے آپریشن کے دوران انقرہ متعدد بار عالمی دنیا کو باور کراتا رہا ہے کہ داعش میں یورپی باشندوں کو واپس لیا جائے، اس پر یورپی ممالک ٹال مٹول کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ اسی دوران ترک صدر رجب طیب اردوان نے دھمکی بھی دی تھی کہ انہیں جلد ملک بدر کر دیا جائے گا۔
اسی پر ترکی نے بڑا فیصلہ کرتے ہوئے جرمنی اور برطانیہ کے 8 باشندے کو ان کے آبائی وطن واپس بھیج دیا ہے، غیر ملکی خبر رساں ادارے ’’رائٹرز‘‘ کے مطابق جرمنی کے 7 لوگ برلن پہنچ گئے ہیں۔ جرمن وزیر خارجہ کے مطابق ترکی نے کالعدم تنظیم سے تعلق رکھنے والے 10 افراد کو واپس بھیجنے کی اطلاع دی۔ 7 باشندے برلن پہنچ گئے جن میں 2 مرد، 4 خواتین اور ایک بچہ شامل ہے۔

الجزیرہ کے مطابق جرمن وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ واپس آنے والوں کے بارے میں ابھی تک یہ کنفرم نہیں کہ واپس آنے والے لوگ داعش کے لیے لڑتے تھے تاہم میں اس بات کی تصدیق کرتا ہوں کہ یہ جرمنی شہری ہیں۔ خبر رساں ادارے کے مطابق جرمن حکام انہیں فوراً گرفتار نہیں کر سکتی کیونکہ جرمنی کے قانون اس راہ میں حائل ہیں۔ ابھی تک ان لوگوں کو بے گناہ سمجھا جائے گا اور یہ جلد جرمن معاشرے میں جا کر عام شہریوں کی طرح زندگی گزاریں گے۔

ٹیگز