لوٹ پیچھے کی طرف اے گردش ایام تو-ُ پروفیسر جمیل چودھری

تبدیلی اس دنیائے رنگ وبو کی بنیاد ہے۔جب سے اس دنیا میں حضرت انسان نے قدم رکھا ہے۔ تبدیلیاں اس کے ساتھ ساتھ چل رہی ہیں۔ زمانے بدل رہے ہیں۔ایک تمدن آتا ہے۔ کچھ دہائیاں اور صدیاں اپنے جلوے بکھیرتا ہے۔ پھر وہ قصہ ماضی بن جاتا ہے۔ہم اسے صرف تاریخ کی کتابوں کی ورق گردانی کرکے جان سکتے ہیں۔

ایسے ہزاروں تہذیب وتمدن اب کتابوں کی شان بنے ہوئے ہیں۔ اور اب ایسی کتابیں بڑی تعداد میں شائع ہورہی ہیں۔ جو گمشدہ تہذیبوں کی داستان بیان کرتی ہیں۔ایسی ہی ایک کتاب ریڈرز ڈائجسٹ کی طرف سے Vanished Civilizationشائع ہوئی ہے۔ اب اس کا اردو ترجمعہ بھی ہوگیا ہے۔
معروف تاریخ دانوں آرنلڈ ٹائن بی اور ول ڈیوزنٹ نے بھی اپنی بڑی بڑی کتابوں میں پرانی اور تباہ شدہ تہذیبوں کاذکر کیا ہے۔ان قدیم تہذیبوں میں انسانوں کے رہنے سہنے کےڈھنگ اور دور جدید کے انسان کے رہنے سہنے کے طریقوں میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ کچھ تاریخ دان اور آثار قدیمہ کے ماہرین انسانی تمدن کا ذکر20۔ ہزارسال قبل اور کچھ دیگر7۔ہزار سال قبل مسیح سے کرتے ہیں۔ہزاروں سال قبل گھروں اور گلیوں کو روشن کرنے کے لئے کچھ نہ کچھ استعمال ہوتا ہوگا۔ گھروں میں تازہ ہوا کی آمد کے لئے انتظامات ہوتے تھے۔ ایسے ہی پانی کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے کچھ اشیاء کا استعمال ہوتا تھا۔ تازہ ہوا، ٹھنڈا پانی اور روشنی انسان کی شروع سے ہی ضرورت رہی ہے۔خاص طورپر اس وقت سے جب انسان شکار کے دور سے زرعی دورمیں داخل ہوا۔ گھراور بستیاں بننی شروع ہوئیں۔ انسان ملکر اور اکٹھے رہنے لگے۔

پتھر کے دورمیں استعمالات کے لئے اشیاء، اسلحہ اور برتن پتھروں سے ہی بنائے جاتے تھے۔زرعی دورمیں آکر ضروریات مختلف ہوگئیں۔"دیا"تو قدیم زمانے سے روشنی کے لئےاستعمال ہوتاچلا آرہا ہے۔"دستی پنکھا" بھی ہوا کو حرکت دینے کے لئے عرصہ دراز سے رائج ہے۔ مٹی سے بنا ہوا گھڑا بھی پانی کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے انسان کی بہت ہی اچھی ایجاد تھی۔ یہ تینوں چیزیں ہمارے خوبصورت دیہاتوں میں جو بجلی سے محروم ہیں اب تک استعمال ہوتی آرہی ہیں۔لیکن شہروں اور قصبات میں جہاں جہاں بجلی پہنچ گئی۔ وہاں ان تینوں کو دیس نکالا دے دیاگیا۔"دیا"کی جگہ بلب نے لے لی ہے۔ کچھ عرصہ کے لئے"دیا"کی جگہ لالٹین کو بھی شرف حاصل رہا۔پھر آہستہ آہستہ دستی پنکھا اور گھڑا بھی غائب ہوگئے۔بجلی نے آکر ان متبرک اشیاء کا وجود مٹادیا۔ کتنا سستا اور آسان تھا"دیا"جلانا۔مٹی کی بنی ہوئی ٹھوٹھی یاچراغ، اس میں سرسوں کاتیل اور روئی کی بتی جوتیل سے بھیگی ہوئی ہوتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں:   تبدیلی کے اثرات - امیر بی بی

یہ دیا اگر تمام رات بھی جلتا رہے تو خرچہ نہ ہونے کے برابر لالٹین کا فائدہ یہ تھا کہ آپ اسے اٹھا کر دوسرے کمروں اور صحن میں بھی لے جاسکتے تھے۔ گلیوں میںپہرا دینے والوں کے ہاتھوں میں ہمیں ایک عرصہ پہلے تک 2 چیزیں نظر آتی تھیں ایک لاٹھی اور دوسری لالٹین۔ مساجد میں تیل ڈالنے کا شوق بھی دیا جلنے کے زمانہ میں آسانی سے پورا ہوجاتا۔"میلا چراغاں"میں اب بھی دیئے نظر آتے ہیں۔دستی پنکھے اب بھی دیہاتوں اور میلے ٹھیلوں میں نظر آجاتے ہیں۔ کھجور کے پتوں سے پنکھا بنانا کچھ مشکل نہ تھا۔پھرسادہ پنکھوں نے ترقی کی اور ہیرے، جواہرات اور شیشے کے ٹکڑوں سے انہیں سجایا جانے لگا۔ دلہنیں شادی سے پہلے انہیں تیار کرواتیں اورجہیز کے ایک آئٹم کے طورپر یہ خوبصورت پنکھیاں گھروں میں آنے لگیں۔ جب بھی گھر میں کوئی مہمان اور خاص طورپر پیر آتا تو یہ پنکھیاں ہوا کو حرکت میں رکھنے کے لئے بہت شوق سے استعمال کی جاتیں۔

نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اپنے بزرگوں کی خدمت انہی پنکھیوں سے کرتیں۔ اس طرح نوجوانوں اور بزرگوں کو اکٹھا بیٹھنے اور بزرگوں کی دانش سے لبریز باتیں سننا بہت آسان ہوجاتا۔ اور گھڑا اکیلا نہ تھا۔اس کے ساتھ گھڑونجی بھی ہوتی تھی۔ گھڑے کا مفہوم تو ہر کوئی جانتا ہے ۔ لیکن گھڑونجی کی وضاحت ضروری ہے۔ یہ لکڑی سے تیار کی جاتی، اونچی بنی ہوئی ہوتی۔تاکہ گھڑے سے کھڑے کھڑے پانی انڈیلنے میں کوئی دقت نہ ہو۔ گھڑے کچھ معروف علاقوں کی مٹی سے بنے ہوئے معروف ہوتے تھے۔ ضلع سیالکوٹ کا ایک شہر"پسرور"اب بھی مٹی کے برتنوں کے لئے کافی معروف ہے۔پانی کومزید ٹھنڈا کرنے کے لئے کپڑے کوگیلا کرکے گھڑے کے اردگرد لپیٹتے ہوئے مناظر میںنے بھی دیکھے ہیں۔گھڑے سے پانی پینے کے لئے مٹی کاپیالہ ہی مناسب رہتا تھا۔تاکہ پانی پیالے میں جانے کے بعد بھی ٹھنڈا ہی رہے۔فطرت کے قریب رہنے کے لئے لوہے کے گلاس کو دورہی رکھاجاتا۔بجلی نے آکر ان تینوں چیزوں سے محروم توکردیا۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک کام فیض کے نام - عالیہ زاہد بھٹی

لیکن انکی یاد اب پھر آنے لگی ہے۔اخبارات اورپریس ہرروز بجلی کے نرخوں میں اضافے کی خبریں دیتے رہتے ہیں۔کوئی زمانہ تھاکہ بجلی کے نرخ دہائیوں تک ایک ہی سطح پر رہتے تھے۔اور گھریلو نرخ توبہت معمولی ہی ہوتے تھے۔غریب ہویاامیر آسانی سے یہ بل اداکرتے تھے۔کمرشل اور انڈسٹریل نرخوں کاتعلق جنرل پبلک سے نہ تھا۔لیکن آج کل ہر طرح کے لوگ احتجاج کرتے نظر آتے ہیں۔صنعتکار کہتے ہیں کہ ہمارے لئے بجلی کے بل اداکرنا ناممکن ہوگیا ہے۔گھریلو صارفین اپنی جگہ پریشان ہیں۔شہری گھروں میں استعمال ہونے والی ہرمشین اور شے اب بجلی کے بغیر حرکت نہیں کرتی۔گھروں کو روشن کرنے والی تمام اشیاء الیکٹرک ہیں۔پنکھوں اور ائیر کنڈیشنر کے بغیر زندگی عذاب محسوس ہوتی ہے۔ٹھنڈا پانی بھی فریج یاڈسپنسر کے بغیر ممکن نہ ہے۔کمپیوٹر سے متعلق تمام ڈیوائسز بھی ناکارہ اورخاص طورپر دورجدید کی ایک آفت موبائل فون کو بھی چارجنگ کے لئے بجلی کی ضرورت۔مختلف ممالک میں اب کاریں بھی ایسی استعمال ہونا شروع ہوگئیں کہ کچھ فاصلے کے بعد انہیں چارجنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔
بجلی کے استعمال کوانسان نے اپنے اوپرتاری کرکے مشکلات میں ڈال دیا ہے۔فطرت سے جوں جوں انسان دور ہوگا۔مسائل میں گھرتا چلاجائیگا۔فطرت کے قریب رہ کرزندگی گزارنے ہی میں سکون تھا۔آرام تھا۔پاکستان اس وقت IMFکے شکنجے میں ہے۔6۔ارب ڈالر قرض دیکر اس ادارہ نے پورے ملک کی معیشت پرقبضہ کرلیا ہے۔مختلف بڑے عہدوں پرکام کرنے والے لوگ آپ کوIMFکے ہی نظر آتے ہیں۔وہ بجلی اور دیگر کئی سروسز کے نرخ تیزی سے بڑھاتے جارہے ہیں۔انہیں اپنے گزشتہ اور موجودہ قرضوں کی وصولی لازمی کرنی ہے۔پرائیویٹ سوسائٹیوں میں رہنے والے گھرانے تو اب ایک یونٹ صرف کرنے کا معاوضہ 25روپے اداکررہے ہیں۔چند ماہ بعد یہ نرخ 30روپے فی یونٹ ہوجائے گا۔اس عذاب کا ایک ہی حل ہے کہ روشنی کے لئے دیا،ہوا کے لئے دستی پنکھا اور ٹھنڈے پانی کے لئے گھڑا۔نئے پاکستان میں زندہ رہنے کے لئے قدیم اشیاء اپنانا ضروری ہوگیا ہے۔