کشمیریوں کی نئی نسل میں خوف نہیں ہے

’مستقبل کا اب کچھ پتہ نہیں چل رہا ہے ۔ آئین میں ہمیں کچھ حقوق دیے گئے تھے اب ان حقوق کو بھی ختم کر دیا گیا ہے۔ وہ کہہ رہے ہیں کہ یہ ہماری بہتری کے لیے کیا گیا، تو ہم سے پوچھ کر کرتے، ہمیں اعتماد میں لے کر کرتے۔‘ انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں جاری لاک ڈاؤن کے بارے میں یہ خیالات کشمیر سے تعلق رکھنے والی نوجوان خاتون کارکن سفینہ نبی کے ہیں۔

دلی میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ کشمیری لوگوں کے لیے یہ ایک جذباتی معاملہ بن چکا ہے۔ ’لوگ اب یہی کہتے ہیں، ابھی یا کبھی نہیں۔ لوگوں کے اب یہی جذبات ہیں یا تو ہم کچھ کریں کہ ہمارے مسائل حل ہو جائیں۔ اگر ہم اب کچھ نہ کر پائے تو کبھی نہیں کر پائیں گے کیونکہ انھیں پتہ ہے کہ یہ آخری وقت ہے کچھ کرنے کا۔‘

وہ کہتی ہیں کہ افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں کہ سب کچھ ٹھیک ہے۔ پورا مواصلاتی رابطہ منقطع ہے۔ حکومت سب کو قید میں ڈال کر فیصلے کر رہی ہے۔ ’جن لوگوں کے لیے آپ کہتے ہیں آپ نے فیصلہ کیا کم از کم ان سے پوچھ تو لیتے۔‘

وہ کہتی ہیں ’لوگوں کی بے چینی، اضطراب اور غصہ بڑھ رہا ہے۔ کشمیریوں کی نئی نسل میں موت کا خوف نہیں ہے۔ وہ ہر پل مر رہے ہیں۔ جب لوگ قید میں ہوں تو ان کے احساسات کیسے ہوں گے۔ ان کی کیفیت ایسی ہی ہے جیسے کسی پنجرے میں بلبل کو قید کر دیا گیا ہو۔‘

سفینہ کا کہنا ہے کشمیر کے لاک ڈاؤن میں عورتیں، مرد، بوڑھے سبھی اپنے اپنے طور پر مشکلوں سے گزر رہے ہیں۔ ’عورتوں اور نو عمر بچوں پر ان حالات کا سب سے گہرا اثر پڑتا ہے۔ اظہار کے سارے ذرائع چھین لیے گئے ہیں۔ جو جذبات ہیں وہ اندر ہی اندر ابل رہے ہیں۔ وہ کب پھٹیں گے یہ کسی کو نہیں معلوم ۔‘


وہ کہتی ہیں کشمیریوں میں مزاحمت کی قوت بہت زیادہ ہے اور یہ پہلی بار نہیں جب انھوں نے اس طرح کے حالات دیکھے ہوں۔ وہ ایک عرصے سے ایسے حالات دیکھتے چلے آئے ہیں۔ لیکن اس بار کچھ الگ ہی ہے۔ ’آپ نے کشمیریوں کے خصوصی حقوق ختم کر دیے، آپ نے فون بند کر دیا، انٹرنیٹ بند کر دیا، سکول بند ہیں۔ کوئی ایسا ذریعہ نہیں ہے جس سے آپ لوگوں سے بات کر سکیں۔ لوگوں کی بے چینی اور اضطراب بڑھتا جا رہا ہے۔ لوگوں کے جو جذبات ہیں وہ کم نہیں ہو رہے ہیں۔‘ ان کا کہنا ہے کہ کشمیر اب ایک غیر یقینی مستقبل کی گرفت میں ہے۔