عورت کا گھر کوئی نہیں - منزہ ذوالفقار

جذباتی طور پر یا جذباتی طعنے دے کر آپ کہہ سکتے ہیں کہ جس گھر کو عورت اپنا گھر سمجھ لے، وہ اس کا گھر ہوتا ہے۔ لیکن اگر آپ جذبات کی دنیا سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں آئیں تو آپ کو پتہ چلتا ہے کہ ہوتے ہوئے بھی عورت کا کوئی گھر نہیں ہوتا۔

کیوں؟ کیونکہ کبھی کسی مرد نے عورت کو مضبوط کرنے کا سوچا ہی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس کو جائیداد میں اس کا جائز حق دے کر کوئی بھی خوش نہیں ہوتا۔ مذہبی طبقے میں بھی آٹے میں نمک کے برابر ایسے باپ اور ایسے بھائی ہیں جو بیٹی یا بہن کو اس کا شرعی حق دیتے ہیں۔ جیسے باپ کے گھر پر بیٹے کا حق ہے ایسے ہی بیٹی کو بھی اسلام کی طرف سے حق دیا گیا ہے۔ لیکن ہوتا وہ ہی ہے بیٹی بیاہ دی جاتی ہے۔ جب شوہر کا دل چاہے ذرا ذرا سی بات پر اسے اپنے گھر سے نکال دینے کی دھمکی دیتا ہے۔ "گھر سے نکل جاؤ ,دفعہ ہو جاؤ, میکے چلی جاؤ" جیسے نشتر چلا کر اسے یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ اس گھر کا مالک میں ہوں۔ تمہیں میں نے اپنے گھر میں رکھا ہوا ہے۔ پیچھے کہاں جائے؟ میکہ گھر؟ وہاں تو باپ نے اس کے حصے میں آنے والا ایک کمرہ بھی اسے نہیں دیا۔ بھائی اور بھابھیوں کے طعنوں پر کیسے جواب دے کہ اپنے باپ کی طرف سے اپنے حصے میں آئی جگہ پر رہ رہی ہوں۔ مرد کہتے ہیں کہ عورت سمجھے تو سب گھر اس کے ہیں۔ یہ بات کہنے والے مرد اپنا مکان اپنی ماں بہن بیوی بیٹی کے نام لگوا کر اس گھر کو اپناگھر سمجھ کر کیوں مطمئن نہیں ہو جاتے؟ بیٹیوں کا جائز حق دینے میں کس بات کا خوف محسوس کیا جاتا ہے؟؟

یہ بھی پڑھیں:   عورت: اسلام کے زیرِ سایہ - محمد رضی الاسلام ندوی

نبی کریم صلعم نے بیٹیوں کو ذندہ درگور کرنے, جلانے, قتل کرنے سے منع کر کے ان کو حقوق دیے ہیں۔ انہیں صرف جینے کا حق نہیں دیا بلکہ ان کے حقوق مقرر کرکے احسن طریقے سے جینے کا حق تفویض کیا ہے۔ مسلمانوں نے زبان سے اسلام تو قبول کر لیا۔ لیکن عورت ذات کو قبول نہیں کیا۔ آج بھی ہسپتال ایسے کیسزسے بھرے ہوئے ہیں جہاں بیٹی کا سنتے ہی اسے ماں کے پیٹ سے کاٹ نکال کر کوڑے دان میں پھینک دیا جاتا ہے۔ دوسرے نمبر پر وہ مسلمان ہیں جو بیٹی کے پیدا ہونے پر اداس اور پریشان ہو جاتے ہیں۔ دل سے نہیں اپناتے۔ اس کو پرایا دھن قرار دیتے ہیں۔ اور اس کو ہر طرح کی جائیداد سے محروم رکھ کر معاشی اور معاشرتی طور پر کمزور کر کے اس کے حقوق غضب کر کے اسے ذندہ درگور کر دیتے ہیں۔

ایک عورت ہونے کے ناطے میرا خیال ہے کہ عورت کو زندہ رکھ کر اس کے جذبات اس کے احساسات قتل کر کے اسے قسطوں میں مارنے سے ہزار درجہ بہتر ہے کہ اسے ماں کے پیٹ سے ہی کاٹ کر کوڑے دان کی نذر کر دیا جائے۔