حکومتِ ترکی اور ترک عوام کشمیریوں کے شانہ بشانہ ہیں - علی شاہین

کشمیر کانفرنس سےخطاب کرتے ہوئے جسٹس اینڈ ڈولپمینٹ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور پاک ترک پارلیمانی دوستی گروپ کے چئیرمین علی شاہین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترکی اپنے کشمیری بھائیوں کی جہدوجہد ِآزادی میں ان کی کھل کر حمایت کرتا رہے گا۔

ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں برسراقتدار سیاسی جماعت جسٹس اینڈ ڈولپمینٹ پارٹی کےصوبائی مرکزی دفتر میں مسئلہ کشمیر کے بارے میں ایک کانفرنس کا اہتمام کیا گیا جس میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جسٹس اینڈ ڈولپمینٹ پارٹی کے رکن پارلیمنٹ اور پاک ترک پارلیمانی دوستی گروپ کے چئیرمین علی شاہین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ترکی اپنے کشمیری بھائیوں کی جہدوجہد ِآزادی میں ان کی کھل کر حمایت کرتا رہے گا۔

علی شاہین نے مسئلہ کشمیر کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کی تاریخ قیام پاکستان تک پھیلی ہوئی ہے اور دونوں ممالک اس خطے پر مکمل کنٹرول کے لیے دو جنگیں لڑ چکے ہیں جبکہ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر لائن آف کنٹرول کے ساتھ ’بلا اشتعال فائرنگ’ کے الزامات بھی لگائے جاتے رہے ہیں۔


علی شاہین نے مسئلہ کشمیر کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ زیادہ تر ریاستوں کے مہاراجاؤں نے اپنی آبادی کی خواہشات کی بنا پر انڈیا یا پاکستان میں شمولیت کا فیصلہ کیا مگر کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے اپنی مسلمان اکثریتی ریاست کے آزاد رہنے کو ترجیح دی جبکہ کشمیر کی مسلمان آبادی نے کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانے پر زور دیا لیکن اس وقت کے ہندوستان کے وزیراعظم پنڈت نہرو نے ساز باز کرکے اور راجہ کا ساتھ دیتے ہوئے کشمیرکا الحاق پاکستان سے روکے رکھا جس پر علاقے میں بڑے پیمانے پر آزادی کی تحریک نے جنم لیا۔ مسلمانوں کی اس جدوجہد آزادی پر بھارت کے وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے کشمیری عوام سے وعدہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ "کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کی مجاز صرف کشمیری عوام ہی ہیں۔ ہم نے یہ وعدہ صرف کشمیری عوام کے سامنے ہی نہیں کیا ہے بلکہ پوری دنیا کے سامنے کیا ہے اور اپنے اس فیصلے پر قائم ہیں" اورخود ہی اس مسئلے کو اقوام متحدہ لے گئے۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکوں کی تقدیر - علی عمران

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس مسئلے کو حقِ خودارادیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا اور بھارت جو خود ہی اس مسئلے کو اقوام متحدہ لے کر گیا تھا، آج تک اقوام متحدہ کے اس فیصلے پر عمل درآمد کرنے سےگریز کررہا ہے اور یہ مسئلہ رستے ہوئے زخم کی مانند آج بھی ہرا ہے۔


علی شاہین نے موجودہ دور میں بھارت کی جانب سے کیے جانے والے ظلم و ستم، گزشتہ 44 دنوں سے جاری کرفیو اور ہر طرح کی پابندیوں پر سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وادی کشمیر، کشمیریوں کے لیے کسی جیل کی شکل میں بدل چکی ہے۔ اس سرزمین پر ہندوستانی مسلح افواج حقوق انسانی کی خلاف ورزیاں کرتی چلی آرہی ہیں جسے فوری طور پر روکنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں مغربی ممالک کی جانب سے خاموشی اختیار کرنے سے متعلق اپنے شدید خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اپنے آپ کو مہذب کہلوانے والے مغر بی ممالک مسئلہ کشمیر پر کیوں خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں اسلامی ممالک اور تنظیم اسلام ممالک کے بھی خاموشی اختیار کیے جانے پر اپنے شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسلمان ممالک اپنے مسائل خود د مل بیٹھ کر حل نہیں کرسکتے ہیں تو انہیں مغربی ممالک سے بھی ان مسائل کو حل کرنے کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔

علی شاہین نے اس موقع پر کشمیریوں کو ایک بار پھر مکمل حمایت کا یقین دلاتے ہوئے کہا کہ صدر ایردوان کشمیریوں پر ہونے والے ظلم و ستم سے پوری طرح آگاہ ہیں اور وہ ہمیشہ عالمی برادری سے اس مسَلے کو حل کرنے پر زور دیتے چلے آرہے ہیں اور وہ جلد از جلد اس مسئلے کو حل کرنے کے خواہاں ہیں۔ انہوں نے پاکستان کے کشمیر سے متعلق موقف کی ہمیشہ ہی کھل کر حمایت کی ہے اور آئندہ بھی کرتے رہیں گے۔ یہ کانفرنس بعد میں سوالات اور جوابات سے اپنے اختتام کو پہنچی۔