مفلوج پارلیمنٹ کا معروضی تجزیہ - وقاص احمد

دنیا کے ہر ملک کے آئینی نظام میں جہاں مطلق العنانی و ڈکٹیٹر شپ نہ ہو، کہیں نہ کہیں ڈیڈ لاک کی صورتحال پیش آ سکتی ہے اور ایسی صورتحال ماضی قریب میں بڑے ممالک میں آتی بھی رہی ہے۔ ہم چونکہ امریکہ اور برطانیہ میں ہونے والے واقعات میں بہت دلچسپی رکھتے ہیں اس لیے معلوم ہوگا کہ ابھی حال ہی میں امریکہ جیسے مثالی نظام میں امریکی حکومت کئی ہفتے محض اس بات پر جام کردی گئی کیونکہ کانگریس نے امریکی صدر کو میکسکو کی سرحد پر دیوار کی تعمیر کے لیے فنڈز دینے سے انکار کر دیا تھا۔ اس سے پہلے بھی اوباما اور کلنٹن کے زمانے میں فنڈنگ کے معاملات پر امریکی صدر اور کانگریس کے درمیان اختلاف ہوجانے کی وجہ سے کئی کئی دنوں تک حکومت کا Shutdown ہو چکا ہے۔ بریگزٹ کے معاملہ پر بھی حکومت اور اپوزیشن کا ڈیڈلاک برطانوی وزیراعظم کے استعفیٰ پر وقتی طور پرختم ہوا۔ مگر حقیقی آزاد جمہوری ممالک میں ایسے واقعات اول تو بہت کم ہوتے ہیں اور اگر ہوتے بھی ہیں تو عوامی نقصان کم سے کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کیونکہ نظام کے دوسرے ادارے اور میڈیا حکومت اور پارلیمنٹ کی کارکردگی پر نظر رکھتے ہیں، جس کی وجہ سے ہر ممبر پر عوام کی خدمت کا دباؤ ہوتا ہے۔ امریکہ میں کانگریس کے ارکان کے پاس اتنا کام ہوتا ہے کہ انھیں بہتر سے بہتر قانون بنانے کے لیے باقاعدہ شعبہ جاتی ماہرین کی ٹیم رکھنی پڑ جاتی ہے۔

یہ بات خاص طور پر سمجھ لینی چاہیے کہ کسی بھی نظام کے بغیر رکاوٹ صحیح طریقے پر چلنے کا انحصار نظام چلانے والوں کے احساس ذمہ داری اور فرض شناسی پر منحصر ہوتا ہے۔ اس کے لیے دین و قوم کے مفاد کو ذاتی اور پارٹی مفاد پر فائق رکھنا پڑتا ہے۔گو کہ اس بات کی مسلسل کوشش کرتے رہنا چاہیے کہ تجربات کی روشنی میں آئین ، قوانین اور قواعد میں مثبت تبدیلی ہوتی رہے لیکن نظام کتنا ہی ہموار، متناسب، تحدید و تفریق اور Check and Balance والا ہو، اس کو چلانے والوں کی نیت کا ٹھیک ہونا نہایت ضروری ہے۔

ماضی سے قطع نظر کرتے ہوئے، قوم، ملک اور سلطنت کے مفاد میں قانون سازی کرنے والی پارلیمنٹ گزشتہ دس مہینے سے کیا گل کھلا رہی ہے، وہ سب کے سامنے ہے۔ قوم سے جمع کیے گئے ٹیکس کے پیسوں کو جس بے دردی سے قومی اسمبلی اور سینٹ کے نام نہاد بےوقعت اجلاسوں اور ارکان کے تعیش و آرام اور خوراک میں جھونکا جا رہا ہے، اس پر صرف اپنا خون جلایا جا سکتا ہے۔

قومی اسمبلی پانچ سال کی مدت کے لیے آتی ہے اور اس کی سادہ اکثریت ایک قائد ایوان کو چن کر اسے وزیراعظم بنا دیتی ہے۔ سینٹ کا معاملہ قومی اسمبلی سے مختلف ہے کیونکہ جب نئی حکومت الیکشن جیت کر آتی ہے تو ضروری نہیں کہ اسے اور اس کی اتحادی جماعتوں کو سینٹ میں بھی سادہ اکثریت حاصل ہو یعنی حکومت گرانے بنانے میں کم از کم سینٹ کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ سینٹ کے ممبران کی مدتِ ذمہ داری چھ سال تک ہوتی ہے اور آدھی تعداد ہر تین سال بعد ریٹائر ہوجاتی ہے۔ سینٹ کا بنیادی مقصد وفاق کی اکائیوں کے مفادات کا تحفظ اور قومی اسمبلی سے پاس ہونے والے قوانین پر اس حوالے سے خاص نظر رکھنا ہوتا ہے۔ مزید براں سینٹ میں ٹیکنکل شعبے سے وابستہ ماہرین اور علماء بھی ہوتے ہیں۔ لیکن شومی قسمت سینٹ بھی بےانتہا سیاسی ادارہ ہے اور وہاں بھی قومی اسمبلی کی طرح بےضمیر و اخلاق سے عاری پارٹی پالیسی اور ذاتی مفادات قومی ذمہ داریوں اور فرائض پر حاوی ہیں۔ حکومت کو ناکام کرنا ہی حزب اختلاف کا دونوں ایوانوں میں مقصد اول ہے۔ یہی چیز نظام اور صورتحال کے جمود کا باعث ہوتی ہے، کیونکہ پاکستان میں موجود غیر اسلامی، فرسودہ، غیر منطقی قوانین کو ختم کرنے کا واحد ذریعہ جدید، منطقی اور شرعی قوانین کا نفاذ ہے، جس کی بھاری ذمہ داری حکومت اور اپوزیشن دونوں پر عائد ہوتی ہے۔ ابھی صورتحال یہ ہے کہ حکومت کوئی بھی نیا قانون قومی اسمبلی سے پاس کروانے میں کامیاب ہو بھی جائے، اسے سینٹ میں ناکامی محض اس وجہ سے ہوگی کہ سیاسی سطح پر حکومت اور اپوزیشن باہم گتھم گتھا ہیں۔ نتیجتاًحکومت کو نظام میں بہتر تبدیلی، وعدوں کی تکمیل اور منشور پر عمل درآمد میں مشکلات پیش آ رہی ہے، جس کا فائدہ بھی حکومت کے مخالفین ہی اٹھاتے ہیں۔ پارلیمنٹ میں موجودہ اپوزیشن کا حکومت سے بغض و نفرت اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ وہ عوامی مفاد کے قوانین پر بحث کو بھی تیار نہیں۔ اس رسہ کشی سے سب سے زیادہ متاثر عوام ہو رہے ہیں۔

یہ معلوم کرنے کے لیے کہ حکومت قانون سازی کرکے عوام کے مسائل حل کرنے اور نظام میں اصلاح کرنے میں خود کتنی سنجیدہ ہے، ہم قومی اسمبلی کی ویب سائٹ پر جا کر معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔ احقر نے جب یہ کوشش کی تو کچھ چشم کشا حقائق سامنے آئے اور ایک بات کا شدت سے احساس ہوا کہ ہمارا الیکٹرانک میڈیا جو حقیر، غیر اہم حتیٰ کہ پست درجے کے موضوعات پر بھی گھنٹوں ٹرانسمیشن کرتا ہے، اس کے پاس اس اہم موضوع پر عوام کی راہنمائی کرنے کا وقت نہیں ہے کہ ملک و قوم کے مفاد میں عوام کے کروڑوں روپوں پر پلنے والی پارلیمنٹ میں اگر قانون سازی نہیں ہو رہی تو اس کا ذمہ دار کون ہے؟ کیا حکومت کسی قانون سازی میں سنجیدہ نہیں؟ کیا وزارت قانون کاہلی و نا اہلی کا مظاہرہ کر رہی ہے؟ یا حزب اختلاف حکومت سے اپنے سیاسی اختلافات کی وجہ سے عوامی مفاد کے قوانین منظور کروانے کے موڈ میں نہیں۔ یا پھر پارلیمنٹ سے صرف وہ قوانین پاس ہورہے ہیں جو یا تو پارلیمنٹیرینز کے اپنے مفاد میں ہیں یا جن کے لیے مقتدر حلقوں کی جانب سے دباؤ ہوتا ہے؟

اس وقت عوامی نوعیت کے متعدد انتہائی اہم قوانین قومی اسمبلی میں بحث کے لیے حکومت نے جمع کرائے ہوئے ہیں۔ جس میں اسلام آباد یونیورسٹی، خواتین کو جائیداد میں حقوق، کرپشن کی نشاندہی اور اینٹی کرپشن، عوام کو قانونی مدد اور جلد انصاف فراہم کرنا، معذوروں کی مدد، اینٹی منی لانڈرنگ کی ترمیم کے متعلق بل شامل ہیں۔ حیرت کی بات ہے کہ پورے سال قومی اسمبلی نے جو قوانین کم از کم اپنی طرف سے پاس کیے ہیں، ان میں سے قابل ذکر صرف وہی قوانین ہیں جو مالیاتی یعنی بجٹ سے متعلق ہیں، یا پھر فاٹا کے انضمام اور اس سے جڑے الیکشن کے قوانین ہیں، جن کو منظور کرانے کے لیے دوسری قوتوں کا دباؤ بھی ہوتا ہے۔ یہی قوانین سینٹ میں پہنچ سکے اور پاس ہو کر مکمل قانون بن گئے۔ اس کے علاوہ کوئی بھی عوامی نوعیت کا قانون قومی اسمبلی سے ہی پاس نہیں ہوسکا۔ یہاں حکومت کا فرض بنتا ہے کہ اپنی عددی برتری کا فائدہ اٹھا کر کم از کم قومی اسمبلی سے تو بنائےگئے فلاحی قوانین پاس کروائے اور اپوزیشن کی مفاد پرستانہ سیاست کا پول کھولے۔ ان کی غیر ذمہ داری اور بےحسی کو عوام اور میڈیا کے سامنے ظاہر کرے۔

احقر یہ سمجھتا ہے کہ سینٹ کے ممبران کی مدت ملازمت ۵ سال کرتے ہوئے، آدھے ممبران کا الیکشن ہر ڈھائی سال میں کر دینا چاہیے تاکہ کم از کم کسی منتخب حکومت کے اقتدار سنبھال لینے کے ڈھائی سال بعد صورتحال میں بہتری آجائے اور کم از کم عوامی مفادات کے قوانین کے پاس ہونے میں رکاوٹ نہ ہو۔ سینٹ کے آدھے ارکان کے انتخابات اب مارچ 2021ء میں ہوں گے تب جا کر حکومتی اتحادیوں کے حالات سینٹ میں بہتر ہوں گے۔

اس کالم کے ذریعے اہل فکر و نظر کی توجہ اس جانب بھی مبذول کرانا مقصود ہے کہ وہ پارلیمنٹ کو اس کا اصل مقصد یاد دلانے میں بھی توانائیاں خرچ کریں۔ ارکان ِپارلیمنٹ کی خراب کارکردگی، قوم، ملک و دین سے بےوفائی کو کٹہرے میں لانا بےانتہا ضروری ہے اور اس پر احتجاج کرنا بھی شدید اہم ہے۔ ایک الیکشن سے دوسرے الیکشن تک پانچ سالہ مدت میں پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی توجہ صرف اس بات نہیں ہونی چاہیے کہ حکومت کے ایک ستون یعنی انتظامیہ کی کارکردگی کیا رہی، بلکہ اس بات پر بھی دھیان مرکوز ہونا چاہیے کہ حکومت کے سب سے بڑے ستون یعنی پارلیمنٹ کی کارکردگی کیا ہے۔ دوسری طرف حکومت خاص طور پر اسٹیبلشمنٹ کو اس بات کی تو بڑی فکر رہتی ہے کہ قوم میں انتہا پسندی، دھرنے، جلاؤ گھیراؤ کا رجحان نہ ہو اور وہ اس کے لیے بڑی توانائیاں اور وسائل خرچ کرتے ہیں، لیکن اگر وہ عوام میں بے چینی اور اضطراب کے محرکات پر غور کرنے کی زحمت کریں اور عدل و قسط اور فلاح پر مبنی قانون سازی کرنے پر اپنا دباؤ ڈالیں جیسے فوجی عدالتوں کے قانون اور حال ہی میں اسی مفلوج پارلیمنٹ کے ذریعے قبائلی علاقوں کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے اور وہاں انتخابات کروانے کے معاملے میں کیاگیا تو ملکی حالات و معاملات بہت بہتر ہو سکتے ہیں۔

Comments

وقاص احمد

وقاص احمد

کراچی یونیورسٹی سے کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز اور سنہ2000 سے انفارمیشن ٹیکنالوجی میں خدمات سرانجام دینے والے وقاص احمد ایک دنیا دیکھ چکے ہیں۔ مشرق وسطیٰ ، مشرقِ بعید اورآسٹریلیا کے سفر کر چکے ہیں ۔مطالعہ کا شوق تو بچپن سے تھا لیکن گزشتہ کئی برسوں سے باقاعدہ فلسفۂ دین،احیائے دین کی تحاریک، فلسفہِ اخلاق ، سیاست، احتساب اور تاریخ کے موضوعات ان کی تحقیقات اور فکر کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے علمائے کرام اور دینی اسکالرز کے بے شمار دروس اور لیکچرز میں شرکت کر چکے ہیں۔ ان سے ٹوئٹر پر رابطہ کیا جا سکتا ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.