کیا پاکستانی نمک ہیروں جتنا قیمتی ہے؟ ڈاکٹر وقاص احمد

فیس بک کے نمک زاد شیخ چلیوں نے جو کچھ دن سے فیس بک پر اربوں ڈالر کی بوچھاڑ کی ہوئی ہے۔ اسے دیکھ کر خلیل جبران کی نظم کا مصرع ہی یاد آتا ہے کہ اس قوم پر بندہ کس کس بات پر افسوس کرے یا پھر اس کے پٹنے کرے۔ (پوٹھوہاری، پ کے نیچے زیر)

آپ کے حافظے پر دھندلا سا عکس موجود ہوگا کہ کچھ عرصہ پہلے ایک شعبدہ باز نے پانی سے کار چلا دی تھی اور پھر کیا تھا کہ اس ملک کے سائنسدانوں کا کیا، میڈیا کے بڑے بڑے جغادریوں سمیت ہر پڑھے لکھے آدمی کا علمی، نفسیاتی اور عقلی دیوالیہ پن کا تماشا ساری دنیا کے سٹیج پر ایسے سجا دیا گیا کہ عقل محوحیرت تھی کہ دل کو روؤں یا پیٹوں جگر کو میں۔ ہم ایک ایسی تن آسان اور معجزوں کی منتظر قوم ہیں کہ جو سمجھتی ہے کہ یہ دنیا جادوئی یا سازشی مفروضوں پر چل رہی ہے۔ ہم نے بحثیت قوم محنت کو اپنا شعار بنانا سیکھا ہی نہیں ہے حالانکہ اکیسویں صدی میں ایک بہترین قسم کی مربوط حکمت عملی، قومی پالیسی اور ہر فرد کا سخت ترین محنت کا عادیہوئے بغیر ترقی دیوانے کی بڑ کے سوا کچھ نہیں ہے۔

اب آئیے فیس بک کے نمک خور دانشوروں کی طرف جو اربوں ڈالر سے نیچے تو بات ہی نہیں کرتے۔ کہتے ہیں کہ انڈیا (شاید بندوق کی نوک پر شاید) ہمارا نمک کوڑیوں کے بھاؤ خرید کر آگے دنیا کو فروخت کر کے اربوں ڈالر (پھر اربوں) کما رہا ہے۔ ہمارا نمک ہیروں سے بھی قیمتی ہے اور ہم یہ ہیرے بلامول اپنے دشمن ملک بیچ رہے ہیں۔ مزید براں انڈس ٹریٹی طرز کا نمک ٹریٹی کی افواہ بھی زوروں پر ہے۔

دوسرا یہ تاثر بھی دیا گیا کہ یہ ہیروں سے قیمتی چیز صرف پاکستان کے پاس ہے، ساری دنیا پاکستان کی محتاج ہے اور پاکستان کی قیمتی ہیروں کی کچی لسی سے مفت میں لطف اندوز ہو رہی ہے۔ اب بندہ ایسے دانش کدوں کے سر پر ہزار چھتر مار کر ایک بھی نہ گنے۔ آپ کے سامنے نمک کی دنیا کے چند حقائق پیش خدمت کیے دیتے ہیں۔ فیصلہ آپ خود کر لیں۔

1۔ پاکستان میں ایک تخمینہ کے مطابق نمک کے ذخائر 10 دس بلین ٹن ہیں جن میں سے تقریبا 6.7 بلین ٹن کھیوڑا کی چٹانوں میں ہے، اور یہیں وہ گلابی نمک بھی ہے جو کھانے میں ذائقہ دار بھی ہے اور خالص بھی۔ ان چٹانوں سے پاکستان کی سالانہ نمک پیدا کرنے کی صلاحیت ساڑھے تین لاکھ ٹن ہے۔

2۔ پاکستان دنیا میں نمک پیدا کرنے والے ممالک میں بیسویں نمبر پر آتا ہے جو سالانہ 2 ملین ٹن نمک پیدا کرتا ہے، یہ دنیا بھر میں پیدا اور استعمال ہونے والے نمک کا ایک فیصد بھی نہیں بنتا۔

3۔ دنیا میں اس وقت تقریبا سالانہ 240 سے 250 ملین ٹن نمک پیدا اور استعمال ہو رہا ہے۔ اس میں سے 25 ملین ٹن نمک کھانے میں استعمال ہوتا ہے جبکہ بقیہ مختلف انڈسٹریز میں استعمال ہوتا ہے، مثلا کاسٹک سوڈا، سوڈا پوٹاش، کلورین وغیرہ

4۔ دنیا میں 110 ممالک میں نمک پیدا ہوتا ہے لیکن اوپر کے سات ممالک ہی دنیا کا 65 فیصد نمک پیدا کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کینڈا میں کرتار پو ر کا معجزہ - روبیہ فیصل

5۔ دنیا میں سب سے زیادہ نمک امریکہ، دوسرے چائنا اور تیسرے نمبر پر انڈیا میں پیدا ہوتا ہے۔ امریکہ اور چین سب سے زیادہ نمک پیدا کرنے کے باوجود اپنی انڈسٹریز کی ضروریات کے پیش نظر سب سے بڑے ایمپورٹر بھی ہیں۔

6۔ انڈیا میں سالانہ 21 ملین ٹن نمک پیدا ہوتا ہے جب کہ پاکستان میں صرف 2 ملین ٹن نمک پیدا ہو رہا ہے۔

7۔ دنیا میں نمک تین طریقوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔ سب سے بڑا ذریعہ سمندری نمک کی پراسیسنگ سے۔ ایشیا میں بشمول چین اور انڈیا کے، زیادہ تر نمک اسی سے حاصل کیا جاتا ہے۔ انڈین ریاست گجرات انڈیا کی کل نمک پروڈکشن کا 75 فیصد پیدا کرتا ہے۔ تامل ناڈو 12 فیصد اور راجھستان 8 فیصد۔ دوسرا نمک کی کانوں سے جیسا کہ کھیوڑا اور انڈیا میں ہماچل پردیش سے۔ تیسرا طریقہ solution mining process کا ہے۔ دنیا میں ایک تہائی نمک اس ذریعہ سے حاصل کیا جاتا ہے اور یہ دنیا کا سب سے [english] purest نمک 99.99 فیصد ہوتا ہے۔ آسٹریلیا اور میکسیکو میں زیادہ تر نمک اسی طریقے سے حاصل کیا جاتا ہے۔

8۔ 2015ء کے بین الاقوامی سروے کے مطابق دنیا بھر کے ٹاپ 20 نمک کے ایکسپورٹر ممالک میں پاکستان کا نام نہیں ہے۔ ذیل میں ٹیبل اس لیے دے رہا ہوں تاکہ اربوں ڈالر کے ہیروں والا سراب ختم ہو سکے، کہ دنیا میں ان ہیروں سے کوئی بھی اربوں ڈالر نہیں کما رہا ہے۔

1. Netherlands ($277,913,000), 2. Germany ($205,826,000), 3. Chile ($189,179,000), 4. Canada ($170,906,000), 5. Mexico ($154,741,000), 6. United States ($148,313,000), 7. India ($129,097,000), 8. Belgium ($79,767,000), 9. China ($75,523,000), 10. France ($73,443,000),11. Spain ($65,751,000), 12. Belarus ($59,500,000), 13. UK ($59,417,000), 14. Austria ($58,059,000), 15. Denmark ($48,330,000), 16. Egypt ($43,153,000), 17. Italy ($42,703,000), 18. Tunisia ($41,215,000), 19. Ukraine ($36,163,000), 20. Poland ($33,075,000)

9۔ 2018ء کی پاکستان کی ٹاپ 10 ایکسپورٹ آئٹمز میں بھی نمک دسویں نمبر پر حصہ داری میں ہے۔

1. Miscellaneous textiles, worn clothing: US$4.1 billion (17.1% of total exports) . 2. Cotton: $3.5 billion (14.9%) 3. Knit or crochet clothing, accessories: $2.9 billion (12%) 4. Clothing, accessories (not knit or crochet): $2.6 billion (10.9%) 5. Cereals: $2.4 billion (9.9%) 6. Leather/animal gut articles: $662.7 million (2.8%) 7. Sugar, sugar confectionery: $519 million (2.2%) 8. Mineral fuels including oil: $499.5 million (2.1%) 9. Beverages, spirits, vinegar: $453.1 million (1.9%) 10. Salt, sulphur, stone, cement: $445.4 million (1.9%)

اب اصل بات کی طرف آتے ہیں کہ پاکستان میں سب سے زیادہ ذخائر ہونے کے باوجود پاکستان ایکسپورٹر ممالک میں بیسویں نمبر پر کیوں ہے؟ جبکہ ذائقہ اور معیار میں بھی بہتر ہے۔ اس کی پہلی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں فوڈ پراسیسنگ کا کوئی نظام نہیں ہے جس کے ذریعے سے نمک کی بہترین برانڈنگ اور مارکیٹنگ کی جا سکتی ہے۔ مسئلہ صرف نمک کی کوڑیوں کے بھاؤ برآمد کا نہیں ہے بلکہ مسئلہ دراصل فوڈ پروسیسنگ کے نظام کے نہ ہونے کا ہے۔ ہم ہر سال کروڑوں کی کجھور درآمد کرتے ہیں۔ ہماری اپنی اربوں روپے کی کھجور محفوظ نہ ہونے کی وجہ سے ضائع ہو جاتی ہے۔ سمندر سے پکڑی جانے والے تقریبا آدھی مچلی خراب ہوتی ہے۔ یہی حال ہماری سبزی اور پھل کا ہے۔ مثلا آم اور کینو وغیرہ۔ ہم زراعت میں دنیا سے کم از کم پچاس سال پیچھے ہیں۔ اپنی زمینی صلاحیت سے صرف بیس فیصدی فصل حاصل کر رہے ہیں۔ زرعی آمدن کا بڑا حصہ مڈل مین ہڑپ کر جاتا ہے۔ بیچارے کسان کے حصے میں فاقے آتے ہیں۔ سیزن میں دس روپے کلو ٹماٹر، پیاز، آلو اور دیگر سبزیاں دیکھ کر افسوس ہوتا ہے۔ جتنی ہماری کل برآمدات ہیں، اس سے زیادہ تو اسرائیل اور نیدرلینڈ صرف پھولوں کی ایکسپورٹ سے کماتے ہیں۔ مسئلہ صرف نمک کا نہیں ہے بلکہ ہم اربوں روپے کا سنگ مرمر کوڑیوں کے مول بیچتے ہیں۔ ہمارا سونا، تانبہ اور دوسری دھاتیں خام حالت میں چین جا رہی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   کینڈا میں کرتار پو ر کا معجزہ - روبیہ فیصل

مسئلہ کا اصل حل یہ ہے کہ ترجیحات کا درست تعین کیا جائے۔ غیر ضروری درآمدات کی حوصلہ شکنی کی جائے اور برآمدات کو بڑھانے کے لیے اقدامات کیے جائیں۔ حکومتی اداروں کو چاہیے کہ مقامی سطح پر عوام میں فوڈ پراسیسنگ اور اس کی برآمد کے حوالے سے شعور پیدا کیاجائے اور مناسب تربیت اور مواقع کی فراہمی کا انتظام کیا جائے۔ دوسرا نمک کے حوالے سے کوئی مربوط ایکسپورٹ پالیسی نہیں ہے۔ پرائیویٹ مافیا ہی نمک کا ریگولیٹر ہے جو غیر قانونی طور پر خام نمک انڈیا میں ایکسپورٹ کر رہا ہے۔ 2007ء سے پہلے pakistan mineral development corporation ریگولیٹر تھا۔ تیسرا ایک قانون ہوتا ہے جسے geographical indication law کہتے ہیں جو کہ سن 2000ء سے بیوروکریسی، سیاستدانوں اور ایکسپورٹر مافیاز کے ذاتی مفادات کے بھینٹ چڑھا ہوا ہے اور پچھلے 20 سالوں سے پارلیمنٹ کی زینت بننے کے لیے بے تاب ہےلیکن انڈیا کی وجہ سے یہ قانون نہیں بن پا رہا ہے۔ یہ قانون پاس ہونے کے بعد بین الاقوامی کمپنیاں اور ادارے پاکستان کے ہمالیہ نمک کی برانڈنگ اور مارکیٹنگ نہیں کر سکیں گی۔

اس کے علاوہ ایک ادارہ IPO intellectual property organization بھی ہے جو اس معاملے میں ناکارہ ثابت ہوا ہے کہ پاکستان کی پراڈکٹ کا بین الاقوامی مارکیٹ میں تحفظ کر سکے۔ اب ان میں سے کون سا ایسا مسئلہ ہے جو کہ انڈیا کا پیدا کردہ ہے اور جس کی وجہ سے پاکستان کو نقصان پہنچ رہا ہے۔ پاکستان میں پچھلے 40 سالوں میں بنیادی مسئلہ ادارہ جاتی کرپشن، اقربا پروری اور پارٹی پروری کی بنیاد پر نااہل لوگوں کا ملک کے اہم ترین پالسی ساز اداروں اور عہدوں پر تعیناتی اور تسلط ہے، جس کے نتیجے میں ادارے اہل اور محب وطن لوگوں سے بتدریج محروم ہو کر بالآخر تباہ ہو گئے، اور ملک کا دیوالیہ نکل گیا۔

معیشت کے بغیر کوئی ملک نہیں چل سکتا اور پاکستان کی معیشت اس وقت تک پروان نہیں چڑھ سکتی جب تک کہ ادارہ جاتی کرپشن ختم نہیں ہوتی، جب تک اہل ترین محب وطن لوگ اہم عہدوں پر تعینات نہیں ہوتے جو کہ جدید دور کے تقاضوں کے مطابق معاشی پالیسیاں ترتیب دیں جو انویسٹرز کو کیپچر کرنے کا باعث بنیں، انٹرنیشنل مارکیٹ کو کیپچر کریں، بزنس دوست تجارتی پالیسیاں ترتیب دیں اور ٹیکنالوجی اور ہیومن ڈیویلپمنٹ پر فوکس کریں۔