پاکستان مخالف ایجنڈا ناقابلِ قبول - امجد طفیل بھٹی

حال ہی میں میاں نواز شریف کے اس بیان نے کہ “ممبئی حملوں کے پیچھے پاکستان کی کالعدم تنظیموں کا ہاتھ ہے“پاکستان اور بھارت سمیت ساری دنیا میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ جہاں ساری دنیا میں پاکستان مخالف میڈیا اور لوگ اس بات کو من و عن سچ سمجھ کر ہاتھ دھو کر پاکستان کے پیچھے پڑ گئے ہیں تو اِدھر پاکستان میں محبِ وطن پاکستانیوں کے لیے افسوس اور دُکھ کا مقام ہے کہ جس شخص کو پچھلے تیس سال سے اقتدار اور عزت صرف اور صرف پاکستان کی وجہ سے نصیب ہوا اُس بدنصیب شخص کو ذرا برابر یہ خیال نہ آیا کہ ملک کی خاطر تو قربانیاں دی جاتی ہیں نا کہ قربانیاں دینے والوں کے خلاف کہانیاں بنائی جاتی ہیں۔ ساری دنیا میں مخالف ممالک کی ایجینسیاں ایک دوسرے کے لوگوں کو ہی استعمال کر کے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کرتی رہتی ہیں مگر کبھی بھی کسی ملک کے سابقہ سربراہ یا قومی سطح کے لیڈر نے اس طرح کا بیان نہیں دیا جس طرح کا میاں نواز شریف نے دیا ہے۔ یہ بات دنیا میں پھیلے پاکستان دشمن لوگوں کے لیے آکسیجن کا کام کرے گی کہ جن کی زندگی کا مقصد ہی پاکستان کو نقصان پہنچانا ہے لیکن پاکستانی عوام اتنی بے وقوف اور بھَولی نہیں ہے کہ وہ ایسے شخص کی بات کو نہ سمجھے کہ جس کا مقصد صرف اور صرف حصولِ اقتدار ہو نا کہ ووٹ اور ووٹر کو عزت دینا، ووٹ لینے کی خاطر عوام کو ووٹر کو جھوٹی عزت دینے اور پاکستان کے مسائل حل کرنے کے راگ سنائے جاتے ہیں جبکہ اُسی اقتدار کو حاصل کرنے کے لیے اپنے بیرونی اور پاکستان دشمن آقاؤں کو خوش کرنے کی خاطر پاکستان کو دل سے نکال دیا جاتا ہے۔

پاکستان کے محب وطن لوگ ہر فورم پہ یہ بات کرتے ہیں کہ میاں صاحب نے آج تک بھارتی جاسوس کلبھوشن جادھو کا نام تک نہیں لیا، جس کے ہاتھ سینکڑوں بے گناہ پاکستانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں کیونکہ ایسا کرنے سے ان کے ذاتی دوست جو کہ دشمن ملک کے سربراہ ہیں، ناراض ہوتے ہیں۔ اور تو اور … کلبھوشن کو بچانے کی خاطر عالمی عدالت تک جانے کی تجویز بھی ایسے ہی لوگوں کی جانب سے دی گئی ہوگی جو کہ ان لوگوں کے ذاتی تعلقات کے محافظ ہیں۔ پاکستان کے باشعور محب وطن سیاستدان، عوام اور ادارے اچھی طرح جانتے ہیں کہ پاک فوج ازل سے ہی دنیا کی نظروں میں کھٹکتی ہے اور اس کو کمزور کرنے کی ہر ممکن کوشش بھی کی جاتی رہی ہے۔ اس بات کا اظہار خود مسلم لیگ ن کے رہنما چوہدری نثار جو کہ ملک کے وزیر داخلہ بھی رہے ہیں نہ صرف وقتاً فوقتاً کرتے رہتے ہیں بلکہ پچھلی ایک پریس کانفرنس میں میاں صاحب کے اس بیان پر حیرت کا اظہار کیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ “وہ پہلے نظریاتی نہیں تھے، اب نظریاتی ہوگئے ہیں“ چوہدری نثار نے اس بات کا جواب میاں صاحب کو یہ کہہ کر دیا کہ ہم تو شروع سے ہی نظریاتی تھے اور آپ اب نظریاتی ہوئے ہیں کیا آپ کا یہ نظریہ محمود اچکزئی کا نظریہ (یعنی پاکستان مخالف نظریہ) تو نہیں ہے؟ اس بات میں سمجھنے والوں کے لیے اشارہ ہی کافی ہے کیونکہ آہستہ آہستہ یہ لوگ خود کو خود ہی کھول کر سامنے لا رہے ہیں کہ ان کا مقصد صرف اور صرف پاکستان پر حکمرانی ہے، ناں کہ پاکستانی عوام کے مسائل کا حل اور پاکستان کی ترقی ہے۔

کسی بھی قومی سطح کے لیڈر کو بات کرتے وقت اپنے ملک کا مفاد ذہن میں رکھنا کڑی شرط ہوتی ہے یعنی کہ سیاسی مخالفت، اقتدار سے دوری اور مقدمات اپنی جگہ مگر پاکستان کا وقار اور سلامتی اپنی جگہ کیونکہ پاکستان کی سالمیت ہی اس بات کی ضامن ہے کہ اس پر حکمرانی کی جاسکتی ہے، اس سے پہلے بھی میاں صاحب بہکی بہکی باتیں کرتے رہتے ہیں جیسے کہ ووٹ کو عزت دو، خلائی مخلوق اور نہ جانے عدلیہ اور قومی سلامتی کے اداروں پر کتنے الزامات بھی لگائے گئے۔

خیر جُوں جُوں الیکشن قریب آتے جارہے ہیں اور میاں نواز شریف کی سیاست کا سورج غروب ہوتا جارہا ہے تو وہ مزید کُھل کر کھیلنا شروع ہوگئے ہیں یعنی کہ اب وہ ملکی اداروں کو دھونس اور دھمکیاں دینا شروع ہوگئے ہیں، اب وہ کبھی خلائی مخلوق، کبھی جوڈیشل مارشل لاء اور کبھی خفیہ ہاتھوں کا ذکر تواتر کے ساتھ کر رہے ہیں اور اس بات میں اب کوئی شک نہیں رہا کہ وہ اپنی کُرسی کی خاطر کچھ بھی کر گزرنے کو تیار ہیں چاہے ان کا کوئی اقدام ملک کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ جس شخص کو اُس نے سب کچھ دیا وہ اُسی کے خلاف کھڑا ہوگیا ہے، یہاں یہ بات اہم ہے کہ مرکز اور پنجاب میں اپنی جمہوری حکومتوں اور چھوٹے بھائی کے وزیر اعلیٰ ہوتے ہوئے بھی وہ سمجھتے ہیں کہ ملک میں جمہوریت نہیں ہے۔ جہاں ایک طرف بڑے میاں صاحب فوج اور عدلیہ کے خلاف کمر بستہ ہیں تو دوسری طرف انکے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف فوج سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں اور ساتھ ساتھ بڑے بھائی کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کی خاطر چوہدری نثار کے ساتھ بھی اچھے تعلقات اور راضی نامے کے خواہش مند ہیں۔ جس سے پاکستان کے عوام تذبذب کا شکار ہیں کہ اب کیا کریں، شہباز شریف کی خاطر مسلم لیگ ن کو ووٹ دیں یا پھر نواز شریف کی وجہ سے مسلم لیگ ن کو رد کر دیں۔ عوام جو بھی کریں ان کی مرضی ہے مگر ایک بات واضح ہوگئی ہے کہ ان لوگوں کو ذاتی مفاد سے غرض ہے ناں کہ ملکی مفاد کی خاطر یہ عدالتوں اور کچہریوں کے دھکے کھا رہے ہیں۔ یہ لوگ اپنی ذاتی دولت بچانے کی خاطر ہر حد عبور کرنے کو تیار رہتے ہیں۔

اس لیے اس بات میں قطعی کوئی شک نہیں کہ یہ لوگ اقتدار کے حصول کے لیے ریڈ لائن بھی کراس کرنے کوتیار ہیں، اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ یہ لوگ اقتدارکو صرف اور صرف ذاتی مال و دولت اکٹھا کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اور اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ ملک پر جب جب مشکل وقت آئے گا یہ لوگ پاکستان سے فرار ہو جائیں گے۔

Comments

امجد طفیل بھٹی

امجد طفیل بھٹی پیشے کے لحاظ سے انجینئر ہیں اور نیشنل انجینیئرنگ سروسز (نیس پاک) میں سینئر انجینیئر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ آپ مختلف اردو روزناموں اور ویب سائٹس کے لیے سماجی و سیاسی موضوعات پر لکھتے رہتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.