روزہ دار کے دو پر، خوف اور امید – ڈاکٹر احمد عیسیٰ

ترجمہ: ڈاکٹر میمونہ حمزہ

پچھلی قسط

دل اللہ کی جانب گامزن ایک پرندے کی مانند ہوتا ہے، محبت اس کا سر ہے، اور خوف اور امید اس کے دو پر۔ اور جب سر اور دونوں پر تسلیم خم کر دیں، تو پرندہ خوب پرواز کرتا ہے، اور جب سر کٹ جائے تو پرندہ مر جاتا ہے، اور جب دونوں پر کھو جائیں، تر وہ ہر شکاری اور جارح کا ہدف بن جاتا ہے۔

اور روزہ دار؛ رمضانی پرندہ خوف اور امید کے دو پروں پر اڑتا ہے۔ اور اگر امید کا پر ٹوٹ جائے تو خوف کا پر شدت ِ خوف سے اسے کسی کھائی میں گرا نے لگتاہے، اور معاملہ پھر اسی بات پر آجاتا ہے کہ وہ کس طرح اس کا توازن درست کرتا ہے، اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب امید کے پر میں اللہ کی وسیع رحمت کی آس کا لہو گردش کرنے لگے۔

اور وہ دوران ِ پرواز بجلی کوندتے دیکھتا ہے، جو مسافر کے لیے خوف پیدا کر دیتی ہے کہ کہیں اس کی محنت اور مشقت ضائع نہ چلی جائے، اور مقیم کے لیے اس میں امید ہے کہ اس کے برکت اور منفعت اور اللہ کے رزق کی امید ہے، ھو الذی یریکم البرق خوفاً وطمعاً وینشیء السحاب الثقال (الرعد، ۱۲)﴿وہی ہے جو تمہارے سامنے بجلیاں چمکاتا ہے جنہیں دیکھ کر تمہیں اندیشے بھی لاحق ہوتے ہیں اور امیدیں بھی بندھتی ہیں۔ وہی ہے جو پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھاتاہے۔ ﴾

سچا اور پسندیدہ خوف وہی ہے جو بندے اور اللہ کی حرام کردہ اشیاء کے درمیان آجائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: واذکر ربّک فی نفسک تضرعاً وخیفۃ ودون الجھر من القول بالغدو والاصال ولا تکن من الغافلین (الاعراف، ۲۰۵) ﴿اے نبیؐ، اپنے رب کو صبح و شام یاد کیا کرو، دل ہی دل میں زاری اور خوف کے ساتھ اور زبان سے بھی ہلکی آواز کے ساتھ۔ تم ان لوگوں میں سے نہ ہو جاؤ جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ ﴾

اور فرماتا ہے: اولئک الذین یدعون یبتغون الی ربھم الوسیلۃ ایھم اقرب ویرجون رحمتہ ویخافون عذابہ ان عذاب ربک کان محذوراً (الاسراء، ۵۷) ﴿جن لوگوں کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے رب کے حضور رسائی حاصل کرنے کا وسیلہ تلاش کر رہے ہیں، کہ کون اس سے قریب تر ہو جائے، اور وہ اس کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے خائف ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ تیرے رب کا عذاب ہے ہی ڈرنے کے لائق۔ ﴾

ویدعوننا رغباً ورھباً (الانبیاء، ۹۰) ﴿اور ہمیں رغبت اور خوف کے ساتھ پکارتے ہیں۔ ﴾

تتجافی جنوبھم عن المضاجع یدعون ربھم خوفاً وطمعاً ومما رزقناہم ینفقون (السجدہ، ۱۶)﴿ان کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں، اور جو رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ ﴾

ابن ِ القیم فرماتے ہیں:

اور خوف ناپسندیدہ چیز سے دور بھاگ جانے کا نام ہے، اور یہ رغبت کی ضد ہے، جو مرغوب سے کی طلب میں دل کو سفر کراتی ہے، اور رغبت اور امید میں فرق یہ ہے کہ امید حرص ہے اور رغبت طلب کا نام ہے، اور یہ امید کا ثمر ہے، کیونکہ جب کسی چیز کی حرص ہوتی ہے، تو وہ اسے طلب کرتا ہے، اور خشیت کی خصوصیت خوف ہے، پس علماء کی خشیت اللہ سے ہے، اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: انما یخشی اللہ من عبادہ العلماء (فاطر، ۲۸) ﴿حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکنے والے لوگ ہی اس سے ڈرتے ہیں۔ ﴾

اور یہ خوف معرفت کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا: ’’میں تم سب سے زیادہ اللہ کا تقوی رکھنے والا اور تم سب سے زیادہ اس سے ڈرنے والا ہوں‘‘۔

اور سب سے سچا اور پسندیدہ خوف وہی ہے جو اللہ کی حرام کردہ اشیاء اور بندے کے درمیان حائل ہو جائے، اور اگر خوف اس سے بھی تجاوز کر گیا تو اس سے مایوسی اور قنوطیت برآمد ہو گی۔ اور اللہ تعالیٰ نے مومنین کے خوف کی سورۃ المؤمنون میں مدح فرمائی ہے: ان الذین من خشیۃ ربھم مشفقون ۰ والذین ھم بآیات ربھم یؤمنون ۰ والذین ھم بربھم لا یشرکون ۰ والذین یؤتون ما آتو وقلوبھم وجلۃ انھم الی ربھم راجعون ۰ اولئک یسارعون فی الخیرات وھم لھا سابقون ۰ (المؤمنون، ۵۷۔ ۶۱) ﴿حقیقت میں تو جو لوگ اپنے رب سے ڈرنے والے ہوتے ہیں، وہ اپنے رب کی آیات پر ایمان لاتے ہیں، جو اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے، اور جن کا حال یہ ہے کہ دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں، اور دل ان کے اس خیال سے کانپتے رہتے ہیں، کہ ہمیں ااپنے رب کی طرف پلٹنا ہے، وہی بھلائیوں کی طرف دوڑنے والے اور سبقت کرکے انہیں پا لینے والے ہیں۔﴾

ام المومنین حضرت عائشہ ؓ سے روایت ہے، وہ فرماتی ہیں: میں نے پوچھا، اے رسول اللہ ﷺ، ’’الذین یؤتون ما آتوا وقلوبھم وجلۃ انھم الی ربھم راجعون‘‘۔ سے مراد کیا ایسا شخص ہے جو زنا کرتا ہے، چوری کرتا ہے، اور شراب پیتا ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’نہیں اے ابو بکر کی بیٹی (یا نہیں اے صدیق کی بیٹی) لیکن بندہ روزہ رکھتا ہے اور نماز پڑھتا ہے اور صدقہ دیتا ہے، اور وہ ڈرتا ہے کہ وہ اس سے قبول نہ کیا جائے‘‘ (اسے ترمذی اور احمدنے روایت کیا ہے، اور الفاظ اسی کے ہیں)

حسن نے فرمایا: بخدا عمل کرو، اطاعت کے ساتھ، اور اس میں خوب محنت کرو، اور ڈرو کہ انہیں تم پر لوٹا نہ دیا جائے۔ مومن احسان اور خشیت جمع کرتا ہے اور منافق برائی اور امن جمع کرتا ہے۔

اور خوف برائے خوف مطلوب نہیں ہے، بلکہ وہ دوسرے وسائل کے ساتھ مطلوب ہے، اسی لیے مخوف (خوف دلانے والی چیز) کے زائل ہونے کے بعد خوف بھی زائل ہو جائے گا، اور اہل ِ جنت کو کوئی خوف اور غم لاحق نہ ہوگا۔

پہلا خوف: عقوبت کا خوف ہے، اور یہ خوف ایمان کے لیے صحیح ہے، اور یہ وعید کی تصدیق سے پیدا ہوتا ہے، اور گناہ کے ذکر اور عاقبت کا تصور کرنے سے ہوتا ہے۔

اس کا درمیانی حصّہ وقتی خوف ہے۔ کہ وقتی طور پر اللہ عز وجل کے حضور حاضری کے خوف سے کسی کام سے رک جانا، اور دل کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایسے وقت یا شبہ کی صورت میں یا شہوت کے خلاف مزاحمت کرے، یہ تمام چیزیں پرندے کی پرواز اور ہدف میں خلل ڈالنے والی ہیں، اور اس کا ہدف جنت ہے۔ اور اس کی انتہاء ایسا خوف ہے جو اس کی کوشش ہی کو رآئے گاں نہ کردے، یعنی ایسا غرور اور تکبر جو اس کے عمل کو فاسد کر دے، جیسے ریا عمل کو ضائع کر دیتی ہے۔

خوف:

اور رمضان میں جب عمدہ پروں اور خوبصورت رنگوں والا پرندہ زمانے کی فضا میں پرواز کرتا ہے، اور روزے، قیام، صدقہ اور اعتکاف کی لذتیں سمیٹتا ہے، وہ اپنے اندر ایک رقیق سا خوف محسوس کرتا ہے جو اس کا جسم لرزائے رکھتا ہے، اور وہ رمضانی رقت کے ساتھ وقت گزارتا رہتا ہے، اسے خوف کہتے ہیں، اس بارے ابن القیم کہتے ہیں: یہ رحمت کے بارے میں خوف ہے جو بندے کو اس ہستی سے ہے جس سے وہ ڈرتا ہے کہ اس کی رحمت سے محروم نہ ہو جائے، تو یہ خوف نرمی سے رحمت کی جانب کا خوف ہے، کیونکہ وہ نہایت لطیف رحمت عطا کرنے والا باخبر خدا ہے، اس کی ابتدا نفس کے بارے میں خوف لاحق ہونا ہے کہ وہ دشمنی جمع نہ کرے، یا وہ خواہش پرستی، نافرمانی، اور عبودیت سے عناد نہ رکھے، پھر اپنے عمل کے بارے میں خوف کرے کہ ضائع نہ ہو جائے۔

اور خوف کی آیات میں سے ہے: یعلم ما بین ایدیھم وما خلفھم ولا یشفعون الا لمن ارتضی وھم من خشیتہ مشفقون (الانبیاء، ۲۸) ﴿جو کچھ ان کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے اس سے بھی وہ باخبر ہے۔ وہ کسی کی سفارش نہیں کرتے بجز اس کے جس کے حق میں سفارش سننے پر اللہ راضی ہو، اور وہ اس کے خوف سے ڈرتے رہتے ہیں۔ ﴾

والذین ھم من عذاب ربھم مشفقون (المعارج، ۲۷) ﴿جو اپنے رب کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔ ﴾

اور یہاں دنیا کے بارے میں بھی خوف موجود ہے، کہ اللہ اسے اپنے مومن بندوں کے لیے امن میں بدل دے: وعد اللہ الذین آمنوا منکم وعملوا الصاحات لیفتخلفنھم فی الارض کما استخلف الذین من قبلھم ولیمکنن لھم دینھم الذی ارتضی لھم ولیبدلنھم من بعد خوفھم امنا یعبدوننی لا یشرکون بی شیئاًومن کفر بعد ذلک فاولئک ھم الفاسقون (النور، ۵۵) ﴿اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو اسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے، ان کے لیے اس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کر دے گا جسے اللہ تعالیٰ نے ان کے حق میں پسند کیا ہے، اور ان کی (موجودہ) حالت ِ خوف کو امن میں بدل دے گا، بس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ اور جو اس کے بعد کفر کرے تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں۔ ﴾

اور قرآن کے مطابق خوف اللہ سے ہوتا ہے اور اس کے سامنے کھڑے ہونے سے، اور اللہ کی وعیدوں سے، اور اس کے عذاب، اور حشر میں اس کے سامنے کھڑا ہونے سے، اور قیامت کی گھڑی کے آنے سے، اور آخرت اور قیامت کے دن، اور اس کے شر سے، اور برے حساب اور آگ کے سائے سے۔

اور امید اللہ سے ہوتی ہے، اور اللہ کی رحمت، اور اللہ سے ملاقات کی، اور اللہ کے ایام (یعنی اس کے ثواب، اس کی مدد اور اس کی نعمت) سے، اور اللہ سے تجارت اور آخرت کے دن کی امید من کان یرجوا لقاء اللہ فان اجل اللہ لات وھو السمیع العلیم (العنکبوت، ۵) ﴿جو کوئی اللہ سے ملنے کی توقع رکھتا ہو (اسے معلوم ہونا چاہیے کہ) اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آنے ہی والا ہے، اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ ﴾

لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ لمن کان یرجوا اللہ والیوم الآخر وذکر اللہ کثبراً (الاحزاب، ۲۱) ﴿درحقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسول ؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یوم ِ آخر کا امیدوار ہواور کثرت سے اللہ کو یاد کرے۔ ﴾

رہا امید کا پر، تو کئی لوگ اسے ’’نقالی اور دھوکے‘‘ کا پر بنا لیتے ہیں، اور وہ امید کی جگہ اسے ’’تمنا‘‘ کا پر بنا لیتے ہیں۔ اور ان دونوں کے درمیان بڑا فرق ہے، کیونکہ تمنائیں سستی، کاہلی سے ہوتی ہیں اور امید کوشش کے ساتھ اور حسن ِ توکل سے ہوتی ہے۔

تین اقسام:

ابن القیم فرماتے ہیں: امید کی تین اقسام ہیں، دو پسندیدہ ہیں اور ایک ناپسندیدہ۔

پہلی: بندے کی اللہ کی اطاعت کرتے ہوئے اللہ کے نور کی امید، کیونکہ وہ اللہ سے ثواب کی امید رکھتا ہے۔

دوسری: وہ شخص جس نے گناہوں کا ارتکاب کیا، پھر توبہ کر لی، تو وہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ کی رحمت، اس کے عفو درگزر، احسان، جود و عطا، حلم اور کرم کا امیدار ہوتا ہے۔

تیسری: وہ شخص جو خطاؤں اور گناہوں میں لتھڑا ہوا ہے، وہ عمل کے بغیر اللہ کی رحمت سے امید رکھتا ہے کہ وہ اسے معاف کر دے گا، پس یہ شخص مغرور ہے، اور تمنا اور جھوٹی امید پالے ہوئے ہے۔

یحییٰ بن معاذ کا قول ہے: ’’میری امید تجھ ہی سے وابستہ ہے، اس کے باوجود کہ میرے گناہ، امید کے بھروسے پر کیے گئے اعمال سے زیادہ ہیں، میں اعمال میں اخلاص پر اعتماد کرتا ہوں، لیکن میں انہیں صاف کس طرح کروں اور ان کی حفاظت کیسے کروں، جبکہ میں معروف کی آفات میں گھرا ہوا ہوں، میں اپنے گناہوں میں تیرے عفو پر بھروسہ کرتا ہوں، اور تو انہیں کیوں کر معاف نہ کرے گا، جبکہ تو جود و کرم سے متصف ہے؟‘‘۔

اسی شدت سے یہ دونوں پر مکمل ہوتے ہیں، علماء کہتے ہیں: ’’ہر امید والا اپنی امید بر نہ آنے کے بارے میں خوفزدہ رہتا ہے، اور امید کے بغیر خوف مایوسی اور قنوطیت ہے‘‘۔

اور حال یہ ہے کہ خوف امید کے ساتھ جڑا ہوا ہے، اور امید خوف کے ساتھ چپکی ہوئی ہے، پس ہر پرامید خوفزدہ ہے اور ہر خوفزدہ پرامید۔

عقل والوں کی امید:

امید کا پہلا درجہ یہ ہے کہ وہ عمل کرنے والے کو جدوجہد پر ابھارتی ہے، جس نے مطلوب کی قدر پہچان لی وہ جس قدر عمل کرے گا وہ اس کے لیے آسان ہو جائے گا، اس شخص کی مانند جسے سفر میں بہت زیادہ نفع ملنے کی توقع ہو، اور اسے یہ نفع پانے کے لیے بہت مشکل سفر کرنا پڑے، تو بھی جوں جوں وہ اس نفع کا دل میں تصور کرے گا سفر کی کلفت کم ہوتی چلی جائے گی، بلکہ وہ اس کے لیے لذت آفرین بن جائے گا۔

اور اس امید سے بھی بڑی امید ’’اربا ِ بِ عقل‘‘ کی امید ہے، اور وہ اس خالق سے ملاقات کی امید ہے، جو اشتیاق کا باعث ہے، جو زندگی بھر اس کا انتظار کرتا رہتا ہے، اور مخلوق میں زھد اختیار کر لیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: قل انما بشر مثلکم یوحی الی انما الھکم الہ واحد فمن کان یرجوا لقاء ربہ فلیعمل عملاً صالحاً ولا یشرک بعبادۃ ربہ احداً (الکھف، ۱۱۰) ﴿اے نبیؐ، کہو کہ میں تو ایک انسان ہوں تم ہی جیسا، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے، پس جو کوئی اپنے رب سے ملاقات کا امیدوار ہو اسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے۔ ﴾

یہی امید ہی ایمان اور اس کی جھاگ ہے، اور اسی کی جانب مشتاقین کی نگاہیں لگی ہوں گی، اور اسی لیے اللہ تعالیٰ نے اس ملاقات کو یقینی قرار دیا ہے، اور اس کے لیے ایسا وقت مقرر کیا ہے، جو ان کے دلوں کو سکون اور اطمینان دیتا ہے۔

اللہ کا کرم کس قدر وسیع ہے، اور رمضان میں انسان اس کی رحمتوں کو کس قدر محسوس کرتا ہے، اور رمضان کے بعد بھی جب وہ اس تیاری کے بارے میں سوچتا ہے تو کتنا خوش ہوتا ہے، اس کی فرحت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ اور لیلۃ القدر میں اللہ کی رحمتیں مجسم صورت اختیار کر لیتی ہیں، اور انسان اس مقام پر خوف سے زیادہ امید کے قریب ہوتا ہے۔ اور کیوں نہ ہو؟ پس بے شک اللہ تعالی: فضل کو عدل سے بڑھ کر پسند فرماتا ہے۔ اور عفو اس کے ہاں انتقام سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ اور درگزر بدلہ لینے سے زیادہ پسندیدہ ہے۔ اور سبحانہ کی رحمت اس کے غضب پر غالب ہے۔ سبحان اللہ کیا عظیم پروردگار ہے!

ختم شد

Comments

میمونہ حمزہ

ڈاکٹر میمونہ حمزہ عربی ادب میں پی ایچ ڈی ہیں اور انٹرنیشنل اسلامی یونیورسٹی میں اعزازی طور پر تدریس کے فرائض ادا کرچکی ہیں۔ کئی کتابوں کے عربی سے اردو میں تراجم کر چکی ہیں، جن میں سے افسانوں کا مجموعہ "سونے کا آدمی" ہبہ الدباغ کی خود نوشت "صرف پانچ منٹ" اور تاریخی اسلامی ناول "نور اللہ" شائع ہو چکے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.