پکار رہا ہے فلسطین! - عنایت کابلگرامی

دنیا میں کئی ممالک ایسے ہے جو طویل ترین تاریخی پس منظر رکھتے ہیں، ان ملکوں کی تاریخ سو، دو سو یا پانچ سو سال پرانی نہیں، بلکہ ان ملکوں کی تاریخ ہزاروں سال پرانی ہیں۔ ان ہی میں ایک ملک فلسطین بھی ہے، فلسطین کا شمار دنیا کے قدیم ترین ممالک میں ہوتا ہے۔

فلسطین کی تاریخ کی اہمیت اس بات سے بھی بڑھ جاتی ہے کہ سب سے زیادہ انبیاء کرام علیہ السلام اسی سرزمین پر تشریف لائے، دوسرا مسلمانوں کے علاوہ عیسائی اور یہودی بھی فلسطین کی سرزمین کو مقدس زمین تسلیم کرتے ہے۔ فلسطین کا تبصرہ تمام آسمانی کتابوں میں ملے گا۔ تمام انبیاء کرام ؑ نے اس ہی زمین پر خاتم الانبیاء محمد رسول اللہ ﷺ کی امامت میں نماز ادا کی۔ تقرباً چار ہزار سال قبل مسیح حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے بیٹے اسحاق علیہ السلام کے ساتھ عراق کے شہر، ار، سے جو دریائے فرات کے کنارے آباد ہے چھوڑ کر فلسطین میں آباد ہوئے۔ حضرت اسحٰق علیہ السلام کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام تھے، جن کا ایک نام اسرائیل بھی تھا۔ ان کی اولاد بنی اسرائیل کہلائی۔ حضرت یعقوب علیہ السلام، حضرت یوسف علیہ السلام، حضرت داؤد علیہ السلام، حضرت سلیمان علیہ السلام، حضرت یحییٰ علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام، حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور بہت سے دیگر پیغمبر اسی سرزمین میں پیدا ہوئے یا باہر سے آ کر یہاں آباد ہوئے۔ اسی مناسبت سے یہ سرزمین پیغمبروں کی سرزمین بھی کہلاتی ہے۔

فلسطین اس علاقہ کا نام ہے جو لبنان اور مصر کے درمیان واقع ہے، مگر اب اس کے بیشتر حصوں پر اسرائیل کی ریاست قائم کی گئی ہے۔ 1946 ء سے پہلے یہ تمام علاقہ فلسطین کہلاتا تھا۔ مگر بعد میں انگریزوں اور فرانسیسیوں نے اس پر قبضہ کر لیا۔ 1948ء میں فلسطین کے بیشتر علاقوں پر اسرائیلی ریاست قائم کی گئی۔ فلسطین کا دارالحکومت بیت المقدس تھا، جس پر 1967 ء میں اسرائیل نے قبضہ کر لیا۔ بیت المقدس کو اسرائیلی یروشلم کہتے ہیں۔ مسلمانوں کا قبلہ اول یہیں ہے۔ فلسطین اور فلسطینیوں پر مظالم اور آزادی کی جدوجہد بہت پرانی ہیں۔

تاریخ اسلام میں سب سے پہلے فلسطین کو حضرت سید نا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فتح کیا، اس وقت فلسطین پر سلطنت روم کی حکومت تھی جو کہ کیتھولک عیسائی تھے۔ فلسطین کے بعض علاقے جنگ سے اور بعض بغیر جنگ کے فتح ہوئے۔ بیت المقدس بغیر جنگ کے فتح ہوا۔بیت المقدس پر قابض پادریوں نے درخواست کی کہ اگر مسلمانوں کے خلیفہ خود آ جائیں تو ہم بغیر کسی جنگ کے شہر مسلمانوں کے حوالے کرنے کو تیار ہیں۔ چنانچہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے وہاں کا سفر کیا اور عیسائیوں کو مکمل مذہبی آزادی دیتے ہوئے فلسطین و بیت المقدس کو اسلامی سلطنت کا حصہ بنایا۔

یہ بھی پڑھیں:   شاباش فلسطینیو! - زبیر منصوری

پھر صلیبی جنگ میں عیسائیوں نے فلسطین پر دوبارہ قبضہ کرلیا تھا، جس کے بعد مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے، اس کے ساتھ مسجد اقصٰی میں بہت رد و بدل کیا۔ انہوں نے مسجد میں رہنے کے لیے کئی کمرے تک بنا لیے۔ نیز، متعدد دیگر عمارتوں کا اضافہ کیا جو بطور جائے ضرورت اور اناج کی کوٹھیوں کے لیے استعمال ہوتی تھیں۔ انہوں نے مسجد کے اندر اور مسجد کے ساتھ ساتھ گرجا بھی بنا ئے۔ سلطان صلاح الدین ایوبی ؒ نے 2 اکتوبر 1187ء کو فلسطین اور بیت المقدس کو عیسائیوں کے چنگل سے آزاد کرایا۔ فتح بیت المقدس کے بعد مسجد اقصٰی کو عیسائیوں کے تمام نشانات سے پاک کیا اور محراب اور مسجد کو دوبارہ تعمیر کرکے بیت المقدس کو بھی دوبارہ اسلامی سلطنت میں شامل کرایا۔

1187 ء لے کر 1948ء تک فلسطین مکمل طور پر مسلمانوں کے پاس تھا۔ 15 مئی 1948ء کو ایک منظم منصوبے کے تحت فلسطین کے کئی علاقوں کو اسرائیل کا نام دے دیا گیا، تب سے لے کر 14مئی 2018ء تک یعنی 70سال تک اسرائیلی مظالم سے لاکھوں فلسطینی شہید و زخمی ہوئیں، جبکہ کروڑوں ملک سے دور زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

فلسطینی سرزمین پر اسرائیلی غاصبانہ قبضے کو 70سال پورے ہوگئے ہے۔ ان70 سالہ اسرائیلی مظالم اور امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقلی کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے کے لیے گزشتہ دنوں حماس نے دس روزہ احتجاجی مارچ (’’گریٹ مارچ آف ریٹرن‘‘) کا اعلان کیا تھا۔ مارچ کے اوائل سے ہی فلسطینیوں کو اسرائیلی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا حالانکہ پرامن احتجاج تمام بین الاقوامی اصولی کے مطابق فلسطینی عوام کا حق تھا مگر اسرائیل کو یہ بات گوارہ ہی نہیں کہ ان کے خلاف کوئی احتجاج بھی کریں، اس لیے اسرائیلی فوج اور پولیس نے مظاہرین پر سیدھے فائر کھول دیے۔

70 سالوں میں جو ظلم 14 مئی بروز پیر کو اسرائیلی فوج نے ڈھائے، اس کی تاریخ فلسطین میں مثال نہیں ملتی۔ اسرائیلی جارحیت اور امریکی سفارتخانہ بیت المقدس منتقلی کے خلاف ا حتجاج کے لیے بیٹھے فلسطینی احتجاجی مظاہرین پر اسرائیلی فوج اور پولیس نے پیر کے روز براہ راست فائرنگ شروع کردی جس سے ایک ہی دن میں 2500 سے زائد افراد نشانہ بنے۔ اس سے قبل کبھی بھی کسی بھی ملک میں مظاہرین پر اس قسم کی بے رحمانہ فائرنگ نہیں ہوئی اور نہ ہی ایک دن میں ایک ساتھ اتنی تعداد میں مظاہرین زخمی و قتل کیے گئے۔ اسرائیلی فوج و پولیس کی فائرنگ سے 55 افراد شہید بھی ہوئے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ مرنے والوں میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ فلسطینی حکام نے شہدا کی تعداد 55 بتائی ہے۔ غزہ میں فلسطینی وزارت صحت کے مطابق شہید ہونے والوں میں طبی عملے کا ایک اہلکار، دوصحافی، ایک کم سن لڑکی سمیت 7 بچے بھی شامل ہیں۔ زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویشناک ہے اور شہدا کی تعداد مسلسل بڑھ رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سورۃ یٰسین پڑھنے کی گھڑی - عبداللہ طارق سہیل

فلسطینی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے غزہ کی پٹی پر بمباری بھی شروع کردی ہے۔ ادھر بیت المقدس میں بھی فلسطینی احتجاج کے لیے نکل آئے جن کی اسرائیلی اہلکاروں کے ساتھ جھڑپیں ہوئی۔ اسرائیل کے اندر رہنے والے عرب شہری مقبوضہ بیت المقدس پہنچ کر احتجاج کرنا چاہتے تھے تاہم اسرائیلی پولیس نے ان کی بسیں روک دیں۔

غزہ میں ’’گریٹ مارچ آف ریٹرن‘‘ کے عنوان سے جاری مظاہروں میں پیر کے روز شرکت کرنیوالوں کی تعداد خود اسرائیلی حکام کے مطابق 35 ہزار سے زائد تھی۔الجزیرہ ٹی وی کے مطابق فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں سے کم و بیش 1000 افراد کو سیدھی گولیاں لگیں۔ دیگر ربڑ کی گولیوں اور آنسو گیس کی شیلنگ سے زخمی ہوئے۔ دوسری جانب امریکی سفارتخانے کی منتقلی کی تقریب میں امریکی صدر ٹرمپ کی بیٹی اور داماد بھی شریک ہوئے۔ الجزیرہ ٹی وی ہی کی رپورٹ کے مطابق یروشلم (بیت المقدس) میں امریکی سفارتخانے کی منتقلی تقریب 15 مئی کو ہونی تھی یعنی جس دن اسرائیل اپنی آزادی کا دن مناتا ہے اسی دن امریکی سفارتخانہ منتقلی تقریب منعقد کی جانی تھی مگر نامعلوم وجوہات کے بنیاد پر اس تقریب کو ایک دن پہلے یعنی 14مئی کے دن منعقد کیا گیا۔

تاریخ کی کتاب کے پہلے پنّے بر یہ بات لکھی جاچکی ہے کہ جس دن مسلمانوں کے مقدس زمین پر اسرائیلی وجود کو تسلیم کرتے ہوئے امریکا اپنا سفارتخانہ بیت المقدس منتقل کر رہا تھا اسی دن اسرائیلی اور امریکی مظالم کے خلاف آواز اٹھانے کے جرم میں سینکڑوں فلسطینیوں کے جسموں میں گولیاں پیوست کی گئی اور عالم اسلام خاموش تماشائی بنا رہا۔ تاریخ آنسوؤں سے نہیں خون سے تحریر ہوتی ہے، جو فلسطینیوں نے کرکے دکھائی۔ آج فلسطین پکار رہا ہے امت محمدیہؑ کو، عمر فاروقؓ کو، صلاح الدین ایوبی کو اور کہہ رہا ہے ہے کہ کہاں ہیں وہ شہسوار جنہوں نے ہر ظلم سے مجھے نجات دلائی تھی؟