اساتذہ کا المیہ - مریم وزیر

دنیا میں ایک بہت بڑی تعداد میں اساتذہ کام کررہے ہیں۔ مختلف ممالک میں ان کے اوقات کار اور کام کے دورانیے الگ الگ ہیں، مگر ذمہ داریاں تقریباً ایک جیسی ہیں۔ ٹیچنگ وہ کام ہے، جس کو بہت دل کے ساتھ کرنا ہوتا ہے۔ مختلف مضامین، درجوں، قومیتوں، علاقوں، زبانوں کے بچوں کو پڑھانا ایک کٹھن کام ہے۔ اس میں مختلف طرح کی ذہانتوں کے ساتھ کام کرنا ہوتا ہے۔ طلباء کے مسائل کو سمجھنا، ان کو حل کرنا، نصاب کو مکمل کروانا، ورک پلیس کی پالیسیوں پر عملدرآمد کرنا، والدین کو مطمئن کرنا اور دیگر بے شمار کام ہیں جو اساتذہ کو کرنے ہوتے ہیں اور وہ کرتے ہیں۔

اس سلسلے میں انہیں تنخواہ درکار ہوتی ہے تاکہ ان کی ضرورتیں پوری ہوسکیں۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ تنخواہ ان تمام ذمہ داریوں کو پورا کرنے سے قاصر رہتی ہے، جو دی جاتی ہے۔ ایک پاکستانی استاد کو معاشرے کے دیگر لوازمات کو بھی ادا کرنا ہوتا ہے جن میں بل، کرایہ، قرض، شادی بیاہ، دعوت، فیس، دوائیوں کا خرچ سب اسی جاب سے ادا کرنا۔ یعنی اگر کوئی شخص ٹیچر ہے تو اسے روٹی، کپڑا اور مکان کے علاوہ بھی بہت کچھ اسی تنخواہ سےکرنا ہوگا۔

دنیا میں ٹیچنگ با عزت شعبوں میں واحد ایسا شعبہ ہے، جس سے ان تمام ضرورتوں کو پورا کرنا مشکل ہے۔ خاص کر اسکول جاب، اس کے لیے دوسری جاب ضروری ہے یا تو دوسری جگہ پڑھانا پڑتا ہے جیسے ٹیوشن، کوچنگ، یا کوئی بھی دوسرا کام کرنا ہی ہوتا ہے تاکہ گھر چلایا جاسکے۔ تنخواہوں کے بڑھنے کا معیار بھی بڑا مضحکہ خیز ہے۔ کہیں 2 فیصد، کہیں 5 اور اور زیادہ سے زیادہ کہیں 10فیصد!

جو لوگ اس شعبے سے وابستہ نہیں ہیں انہیں لگتا ہے کہ یہاں آسانیاں ہی آسانیاں ہیں، آدھے دن کی جاب، سردیوں کی چھٹیاں، دیگر چھٹیاں، پھر اوپر سے دو ماہ کی گرمیوں کی چھٹیاں! ان کا بار بار تذکرہ کیا جاتا ہے ساتھ ہی احساس دلایا جاتا ہے کہ دنیا کا سب سے آسان کام کیا جا رہا ہے۔ حالانکہ ٹیچنگ وہ جاب ہے جس میں انسانی دماغ سب سے زیادہ سوچنے کے عمل کا شکار رہتا ہے۔ رات میں بھی ایک ٹیچر اپنی جاب کے حوالے سے ہی سوچتے ہوئے سوتا ہے، کسی ٹیچر ہی نے یہ بات مذاقاً کہی تھی کہ اسے تو خواب میں بھی اسکول، کلاس روم نظر آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   سیکولر اور مذہبی تعلیم کے بنیادی تصورات - محمد دین جوہر

یہی وہ جاب ہے جس میں پبلک ڈیلنگ سب سے زیادہ ہے۔ بچے، ساتھی اساتذہ، انتظامیہ، والدین اور دیگر اسٹاف کے ساتھ ساتھ ایک ٹیچر کو مختلف مزاجوں، عادات کے ساتھ بھی ڈیل کرنا ہوتا ہے۔ جہاں تک چھٹیوں کی بات ہےتو اس کی مثال کام کے لحاظ سے اونٹ کے منہ میں زیرہ کی طرح ہے۔ اب تو زیادہ تر تعلیمی ادارے چھٹیوں کو استعمال کرتے ہیں اور کہیں ٹریننگ ورک شاپس ہوتی ہیں، کہیں سالانہ، ماہانہ منصوبہ بندی کے حوالے سے کام لیا، کیا جاتا ہے۔ کہیں کچھ اور کہیں کچھ کرنا ہوتا ہے۔

یہ وہ شعبہ ہے جو کسی بھی معاشرے کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ہی شعبہ ہے جہاں کے بیشتر افراد لکھاری، صحافی، شاعر، مقرر، اسکالر، تحقیق کار ہیں اور بھی دیگر شعبوں وابستہ ہیں۔

پاکستان میں سرکاری ٹیچر کی تنخواہیں اور دیگر مراعات میں اضافہ ہوتا رہتا ہے، مگر یہاں دونوں طرح کی صورتحال موجود ہے، گھوسٹ اساتذہ بھی موجود ہیں اور اچھے بھی وہ ناانصافیوں کے حوالے سے حتجاج کر بھی سکتے ہیں اور کر بھی رہے ہیں۔

مگر پرائیوٹ اسکولوں کے اساتذہ کا مسئلہ بہت گھمبیر ہے۔ نہ انہیں وہ مراعات حاصل ہیں جو حکومتی ملازمین کو حاصل ہیں نہ ہی ان کو کوئی پلیٹ فارم ملا ہوا ہے جہاں ان کے مسائل حل ہو سکیں۔

جو چند ایک نجی این جی اوز ہیں، اساتذہ کی حقوق کی دعوے دار، ان کے منتظمین اسکولوں کے منتظم ہیں تو اساتذہ جائیں تو کہاں جائیں؟

اسی بناء پر پاکستان میں پرائیویٹ اسکول کے اساتذہ کی جاب/ورک لائف بہت کم ہے۔ یا تو اسکول/جگہ کو ہی تبدیل کر لیا جاتا ہے یا اس جاب کو ہی وقتی طور پر کیا جاتا ہے۔ یا آگے بڑھنے کی کوشش کو تیز کیا جاتا ہے یعنی ٹیچنگ سے انتظامیہ کی جانب سفر کی امید کی جاتی ہے۔ تاکہ معاشی ترقی ہوسکے۔ حالانکہ کسی بھی معاشرے کو سب سے زیادہ بہترین اساتذہ ہی درکار ہوتے ہیں۔ وہ تجربہ کار افراد جس بھی معاشرے میں نہیں ہوں گے یا کم ہوں گے تو تعلیم اور تعلیمی اداروں کی وہ ہی صورتحال ہوگی جس کا شکار پاکستانی تعلیمی ادارے ہیں۔