عوامی بالادستی کا سراب - مجیب الحق حقی

اس لفظ کی تکرار سنتے عشرے گزرے، لیکن ابھی تک اس کے پیرائے نہیں جان پائے کہ عوامی بالادستی کیا ہے؟ انتظامیہ میں عوام کی حقیقی نمائندگی، یا عوام کے نام پر اشرافیہ کی لوٹ مار۔ مگر اہم سوال یہ ہے کہ بالا دستی کیا ہے اور کون اس کا حقدار ہوتا ہے؟ کیا عوام میں وہ خاصیتیں ہیں جو عوام کو بالادست بناتی ہیں یا یہ محض ایک نعرہ ہے جسے ایک مفاد پرست طبقہ اپنے جائز اور ناجائز مفادات کے تحفظ کے لیے ایک ڈھال کے طور پر استعمال کرتا ہے؟

بالادستی کا تعلّق طاقت اور دانش سے ہوتا ہے۔ جہاں یہ دونوں یک جا ہوں گے، وہی حلقہ دیرپا اور جاندار حکمرانی کا حقدار بنتا ہے۔ پاکستان کی ریاست کے اہم شعبے مقننّہ، عدلیہ، انتظامیہ اور فوج ہیں۔ یعنی قانون سازی کا حق عوام کا ہے اور باقی انتظامیہ اور عدلیہ روزمرّہ کے معاملات کو چلاتے ہیں۔ دانش اور طاقت کے حوالے سے دیکھیں تو انتظامیہ، عدلیہ اور فوج اپنے اپنے دائرے میں اختیارات کی طاقت ساتھ علم و دانش بھی رکھتے ہیں، کیونکہ ان شعبوں میں تعلیم یافتہ ہی جگہ بناتے ہیں۔ اب آپ مقنّنہ اور پارلیمنٹ کی طرف آئیں تو یہاں پر قانون سازی اور حکومت کی طاقت تو ہے لیکن دانش و علم اوسط درجے سے بھی گرا ملے گا۔ یہاں پر ایسے لوگوں کے آنے اور اقتدار پر براجمان ہونے کے کھلے مواقع ہیں جو سمجھتے ہیں کہ ڈگری ڈگری ہوتی ہے، اصلی ہو یا جعلی۔

ہمارا سیاسی سسٹم بنیادی طور پر بےسمت اور بے ربط ہے۔ ہم اپنے اطراف دیکھیں تو محلّے کی سطح پر سیاست میں وہ لوگ فعّال نظر آتے ہیں جن کا دل پڑھائی میں نہیں لگتا اور بیکار پھرتے ہیں۔ ایسے ہی افراد اپنے سیاسی گروپ بنا کر محلّوں میں اثر و نفوذ پیدا کرتے ہیں۔ یونین کونسل کی سطح پر ہم ایسے ہی لوگوں کی اکثریت کو فعّال دیکھتے ہیں۔ ایسے افراد ہر سیاسی پارٹی کی ضرورت بھی ہوتے ہیں جو الیکشن میں عوام کو گھروں سے نکال کر ووٹ ڈلواتے ہیں اور یہی سیاسی پارٹیوں کی اسٹریٹ پاور جنریٹ کرتے ہیں۔ پڑھے لکھے افراد مقامی سیاست سے دور ہی رہتے ہیں، کیونکہ مقامی ناپسندیدہ عناصر اس میں زیادہ سر گرم عمل رہتے ہیں۔ محدود وژن اور اوسط تعلیم کے حامل یہ افراد جو سیاسی لیڈران کے منظور نظر ہوتے ہیں، یونین کونسل کی سطح سے اٹھ کر صوبائی اور قومی اسمبلی میں جا پہنچتے ہیں۔ دوسری طرف قصبوں اور دیہات پر زمیندار قابض ہوتے ہیں، ان کی تعلیم کا معیار بھی عیاں ہے۔ تیسری طرف سرمایہ دار کے بیٹے وغیرہ عزت اور دولت کی چاٹ کھانے کے بعد شہرت کے متلاشی ہوتے ہیں۔ سیاست بہترین مقام ہے، جہاں عزت، دولت اور شہرت آپ کے قدموں میں ہوتی ہے۔ دولت کے انبار دانشمندی کم ہی پیدا کرتے ہیں ورنہ حکمرانوں کو مشیروں کی ضرورت نہ ہو۔ ایوان بالا یعنی سینٹ میں جانے کے لیے بھی کوئی تعلیمی قید نہیں، بس آپ کے پاس پیسہ ہونا چاہیے یا پارٹی سربراہ کی حمایت جو ظاہر ہے وفاداری سے مشروط ہوتی ہے۔ اس طرح جمہوریت کی چھتری تلے اوسط سوچ کے حامل اسمبلیوں میں براجمان ہوتے ہیں۔ ان میں چند ہی ایسے ہوتے ہیں جو مطالعہ کے شوقین یا اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں۔ اسی لیے ہماری پارلیمنٹ کے اکثر لوگوں کا تعلیمی ریکارڈ اوسط سے کم ہی ہوتاہے۔ اس کا تاریک پہلو یہ ہے کہ اکثر نمائندگان پاکستان کے بننے کی غرض و غایت اور مملکت کی نظریاتی اساس سے ہی ناواقف ہوتے ہیں، اسی سے فائدہ اٹھاکر مختلف نظریاتی گروہ اپنے مفاد کی خاطر پاکستان کی نظریاتی اساس پر حملہ آور رہتے ہیں۔

اس مختصر سی آگاہی کے بعد غور کریں تو بڑی تعداد کا سیاست میں آنے کا مقصد سوائے پیسہ بنانے کے کچھ نہیں ہوتا، کاروباری ذہن کے کم علم لوگ اسمبلی میں بیٹھے ربڑ کی مہریں ہوتے ہیں جو آنکھ بند کرکے ان لیڈروں کے پیچھے چلتے ہیں جو خود مطالعے سے دور رہ کر کم علمی کا شکار ہوتے ہیں، یا ایک مخصوص ذہنیت کے حامل ہوتے ہیں جس میں اہمیت ریاست نہیں، بلکہ ذاتی اور سیاسی مفاد کی ہوتی ہے۔ نتیجتاً اولیت حصول ِ مال کو ہی ملتی ہے اور مل بانٹ کر کھانے کے اصول کے تحت حکومتی سطح پر ملکی وسائل کو اقربا اور ورکرز کو نوازنے میں تلف کیا جاتا ہے، جبکہ عوام کی فلاح ثانوی ہوجاتی ہے۔ یہ مبالغہ نہیں بلکہ روزمرّہ کا مشاہدہ ہے جس سے اخبارات بھی بھرے ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت اور پارلیمنٹ کی بالادستی کے نام پر سیاسی پارٹیوں نے جو بھی کیا، وہ اپنے فہم کے درجے کے حساب سے کیا۔ اپنے سیاسی مفاد کے پیش نظر روز اصولوں پر قلابازیاں ان کے سیاسی وجدان کو عریاں کرتی ہیں۔ کم علموں اور ان پڑھ عوام کو معمولی منطق کی تکرار سے بیوقوف بنایا جاسکتا ہے، جس میں میڈیا اور جماعتیں طاق ہیں۔ بڑی بھاری غلطیوں اور بدعنوانیوں کو پروپیگنڈے کے زور پر ثانوی بناکر اورجمہوریت کی بقا کی دہائی دیکر عوام کو اس سے لاتعلّق کردیا جاتا ہے۔ جمہوریت جمہوریت کی تکرار سے جمہوریت کو ایک دیوی بنادیا گیا ہے، لیکن یہ دیوی عوام کے مسلسل استحصال کی صرف بھینٹ ہی مانگ رہی ہے۔ اکثر سیاستدانوں کا وطیرہ یہی ہے کہ سویلین بالادستی کی چھتری تلے اپنے بےاصولی اور مفاد پرستی کے اقدامات کو اپنا جمہوری حق گردانتے ہیں اور اپنی ساکھ پر آتی آنچ سے توجّہ ہٹانے کے لیے دیگر اہم اور حساس اداروں تک پر کیچڑ اچھالنے سے نہیں چوکتے۔

جمہوریت کے دفاع میں اس بات کی بڑے زور شور سے تکرار کی جاتی ہے کہ عوام کبھی غلط فیصلہ نہیں کرتے۔ حیرت ہے کہ بڑے بڑے نامور صحافی بھی یہی کہتے ہیں، جبکہ ہماری تاریخ اس بات کو غلط ثابت کرتی ہے۔ 1970ء کے الیکشن میں عوام نے سوشلزم کے حق میں فیصلہ دیا تھا جس کے نتیجے میں ملک دو لخت ہوا اور اسی سوشلزم کے اصول پر ملکی معیشت میں منافع بخش اداروں کو قومیانے کے مقتل میں ذبح کردیا گیا جس کا خمیازہ ہم آج بھی بھگت رہے ہیں۔ کوئی صاحب دانش اس تاریخی حقیقت کے تناظر میں اس مفروضے کی وضاحت فرما دیں کہ کم علموں کا جمٔ غفیر بھی درست فیصلے کر سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بے چاری نا اہل جمہوریت - حافظ یوسف سراج

جس عوامی سیاسی شعور کی بات کی جاتی ہے، اس کی اصلیت یہ ہے کہ عوام اْس کو ووٹ دے دیتے ہیں جو ان کے کسی ذاتی کام کا وعدہ کر لیتا ہے یا پھر زور آور کی نگاہ یا برادری کے ریوڑ کے ساتھ پیش قدمی یا کسی جذباتی ماحول کی ضو فشانی یا ایک پلیٹ بریانی اور ایک نیلا کرارہ نوٹ، پاکستان کے مستقبل کی پالیسیاں استوار کر تا ہے۔ یہ کھلی حقیقت ہے کہ بدعنوانوں نے صحافت اور میڈیا کو کنٹرول کرکے مربوط پروپیگنڈے سے عوام کو مسمرائز کیا ہوا ہے کہ اوّلیت جمہوریت کو ہے اور اسی سے مسائل حل ہوں گے، جبکہ غالباً فی الوقت ہماری جمہوریت ہی وہ بیمار طوطا ہے جس میں پاکستان میں تمام بدعنوانیوں کی جان سمائی ہوئی ہے، جس کا علاج ضروری ہے، اور جو الیکشن کے موجودہ سسٹم سے کبھی نہیں ہو سکتا۔

ہمارے کئی دانشور حقائق پر نظر رکھ کر تبصرے کے بجائے ایک سوچی سمجھی لائن پر چلتے ہیں۔ عوامی نمائندوں کی بےتحاشا اور کھلی کرپشن کو نظرانداز کرکے اسی نکتے پر زور دیتے ہیں کہ جمہوری حکومت کے آگے ہر ادارے کو ہر حال میں سرنگوں ہونا چاہیے۔ بات بے بات عدلیہ اور فوج کے لتّے لیتے رہتے ہیں۔ ان اصحاب سے صرف یہی سوال ہے کہ اگر عوامی نمائندے اتنے ہی اہلیت والے اور ایماندار ہیں تو دباؤ میں کیوں آتے ہیں؟ ان کے دامن صاف ہو تو یہ دوسروں کا ہاتھ پکڑ سکتے ہیں، لیکن وجہ اس کی ان کی اپنی بدعنوانیاں ہوتی ہیں، وہ اسی لیے دبتے ہیں کہ بد عنوانیوں اور منی لانڈرنگ میں ملوث ہوتے ہیں۔

جس سسٹم میں ایک پی ایچ ڈی اور ان پڑھ کا ووٹ برابر ہو، وہ ریاست کے تعلیم یافتہ طبقے کی دانش کی ترجمانی کیسے کر سکتا ہے۔ ایسا سسٹم جس میں ناخواندہ کے ووٹ لیکر نیم خواندہ اقتدار میں آئیں گے تو وہی کار کردگی تو دکھائیں گے کہ جس کی ان کی دانش خوگر ہوگی۔ عام انسان کی رائے معاشی نظریات اور پالیسیوں کی تدوین میں کتنی معاون ہوسکتی ہے، وہ ظاہر ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں عوام نے جتنے معاشی اور سیاسی زخم کھائے ہیں، اس کے پیچھے دانش کی یہی کمی ہے جس کی وجہ سے میرٹ کا قتل ہوا بھی اور ہو بھی رہا ہے۔ سیاسی پارٹیوں نے لوگوں کو نوکریاں دلانے کے وعدے کو اس طرح نبھایا کہ آج ہر شعبے میں نااہلوں کی بھرمار ہے۔ تعلیمی اداروں میں اختیار والا سفارشی ہوگا تو سیاسی پارٹی کے منظورنظر کو ڈگری ملنی کیا مشکل۔ نااہلوں کو ڈگریاں بانٹ کر اور اس کی بنیاد پر نوکریاں بڑے پیمانے پر دی گئیں بلکہ بیچی بھی جارہی ہیں تو انجام گلستاں یہی ہونا تھا جو ہورہا ہے۔ ہمارا ذہین نوجوان اسی حق تلفی کا شکار ہوکر مایوسی میں باہر کی طرف رخ کرتا ہے۔ چلیں مان لیتے ہیں کہ بدعنوانی ہر ادارے میں ہے، لیکن ان سب کے سدھار کی ذمّہ داری بھی تو پارلیمنٹ پر ہی آتی ہے۔

اب دوسرا رخ یہ دیکھیں کے ریاست کا درد رکھنے والے پڑھے لکھے حسّاس محب وطن خواہ انتظامیہ میں ہوں یا فوج و عدلیہ میں، وہ ان بدعنوانیوں پر نظر رکھتے ہیں اور جب دیکھتے ہیں کہ پانی سر سے گزر رہا ہے، تو بدعنوان، غیر ذمّہ دار یا نااہل حکمرانوں کے خلاف کارروائی کی جاتی رہی ہے۔ فوج جب بھی آئی، عدلیہ نے اس کی حیثیت پر مہر تصدیق اس لیے لگائی کہ وقت کی ضرورت تھی۔ اسی لیے کبھی بھی عوام نے احتجاج بھی نہیں کیا۔ ایسے اقدامات کو اسٹیبلشمنٹ کی کارروائی قرار دے کر جمہوریت کے پروانے فوج، عدلیہ اور ایماندار افسروں کو ولن بناکر پیش کرتے ہیں، جبکہ اپنی خراب کارکردگی کو جمہوریت کی بقا کی نام نہاد جنگ کی دھول میں چھپا دیتے ہیں۔ آپ دیکھیں گے کہ فوجی حکومتوں کے ادوار میں اداروں میں ٹیکنوکریٹ ہی متعیّن کیے گئے جس سے معیشت میں بگاڑ کم ہوا۔ حالیہ مثال ہی دیکھ لیں کہ سابقہ فوجی حکومت کے دور میں پاکستان کا قرضہ غالباً 12یا 15 ارب ڈالر تھا جو ان دو جمہوری دور میں غالباً بڑھ کر 75 ارب ڈالر سے زائد ہوگیا۔ قرض لیکر ترقیاتی کام کرنا کون سا کارنامہ ہے، بلکہ یہ تو نااہلی ہے، کیونکہ آپ اپنی آئندہ نسل کو اور اپنے اثاثوں کو گروی رکھ رہے ہوتے ہیں۔ ترکی کی مثال دیکھیں کہ آٹھ سال میں اردگان نے قرض ادا کر دیے اور اب لیرا ایک طاقتور کرنسی ہے۔ وہاں لیرا کی قیمت بڑھی ہے، لیکن ہماری جمہوریت میں الٹا حساب ہے۔ لیکن عوام اور ان کے نمائندے دانش کی کمی کی وجہ سے ان حقائق کے اثرات کا ادراک ہی نہیں کرپاتے، کیونکہ ان کے نزدیک اولّیت پارٹی کے وقار اورلیڈران کی عزّت کی ہوجاتی ہے۔ جمہوریت کا ایک اور کارنامے کا ذکر بھی اب ضروری ہے۔

پھلتے پھولتے صنعتی اداروں کو قومیانا اور تباہ کرکے ان اداروں کو واپس کرنا کیا ہے؟
تاریخ کا ورق پلٹیں تو پاکستان کے صنعتکاروں کے خلاف نفرت کی مہم جمہوری پارٹی اور غیر ملکی روابط رکھنے والے صحافیوں اور طلبہ تنظیموں نے ہی چلائی۔ اس کی وجہ ان کا اشتراکیت سے وہ رومانوی تعلّق تھا کہ ان کی دانست میں انسانیت کی فلاح اسی میں ہے۔ اخبارات و رسائل میں این ایس ایف کے آگے بریکٹ میں روس نواز اور چین نواز یہی صحافی لکھا کرتے تھے۔ اس وقت کے بزعم خود عوام دوست صحافی جن کا قبلہ ماسکو اور بیجنگ تھا، امریکہ کے خلاف چلّا چلّا کر اور پاکستان کے صنعتکاروں کو سامراج کا ایجنٹ بتاکر نفرت کی فضا قائم کر چکے تھے، جس کا فائدہ حکومت نے تمام نجی اثاثہ جات کو قومیا کر لیا۔ آئیڈیل ازم کے شکار یہ عوام دوست صحافی اب اسی سامراج کے لبرلزم اور سیکولرازم کے ہرکارے بنے ہوئے ہیں۔ گویا پاکستان کی جوان ہوتی معیشت کی بنیادوں پر کلہاڑا جمہوریت نے ہی چلایا، جب صنعتوں، اسکولوں، بینکوں اور کارخانوں کو بغیر مربوط پلاننگ کے قومیاکر ناتجربہ کار افسر شاہی کے حوالے کرکے ان میں نوکریوں کی بھرمار کی گئی۔ عوام اس طرح مطمئن ہوئے کہ حکومت نوکری دلا رہی ہے، جبکہ وہ حلوائی کی دکان پہ دادا جی کی فاتحہ تھی۔ اگر عوام میں تعلیم عام ہوتی اور ان کی مجموعی دانش کا معیار حقیقت شناس ہوتا تو جواب طلب کرتا کہ ہماری معاشی بربادی کے ذمّہ دار تم بھی ہو۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان صنعتوں کو تباہ کر کے بعد میں انہی جمہوری حکومتوں نے ان کی دوبارہ نجکاری کر کے ان سے جان بھی چھڑائی، لیکن آپ کسی بھی سابقہ اشتراکی یعنی موجودہ سیکولر یا لبرل کو کبھی بھی صنعتوں اور بینکوں وغیرہ کوقومیاکر معیشت کی کمر توڑنے پر معترض نہیں دیکھیں گے کیونکہ اس تاریخی غلطی میں یہ سب بھی شریک تھے۔

یہ بھی پڑھیں:   مانوں نہ مانوں کے بیچ - حبیب الرحمٰن

اسی طرح افغانستان کی جیتی جنگ میں ایک منتخب وزیراعظم کے غلط فیصلے نے آج ہمیں افراتفری کا یہ دن دکھایا۔ ضیاء الحق کے آخری دور میں جب فوج اقتدار تدریجاً عوامی نمائندوں کے حوالے کر رہی تھی، ایک غیر ضروری مہم جوئی کی گئی۔ عوامی منتخب وزیر ِ اعظم نے (بلاجواز) فوجی حکمرانی کے خلاف ہونے کا تاثر دینے میں ملک کا مفاد بھول کر جنیوا معاہدے میں ان سوشلسٹ پارٹیوں سے مشورہ لینا شروع کیا جو اپنے نظریات کے تئیں شروع سے ہی اس جنگ کے خلاف تھیں۔ یہ پارٹیاں اس وقت کے ماحول میں شکست خوردہ سوویٹ یونین کے نظریات کی کھلی اور در پردہ حامی تھیں۔ اس اہم موقع پر اس سلسلے میں ان کے مشورے پر پاکستان کے دوست حکمت یار کو نظرانداز کرکے تمام متحارب گروہوں کی باری باری نام نہاد حکومت بنوانا، وہ حماقت آمیز بھیانک سیاسی فیصلے تھے جن کی قیمت منتشر افغانستان اور مذہبی انتہا پسندی کی شکل میں ہم آج بھی بھگت رہے ہیں۔ اسی فوج مخالف تاثر کو گہرا کرنے میں دوسری مثال ڈاکٹر محبوب الحق جیسے ماہر معاشیات کی برطرفی تھی، جو معیشت کو مثبت بنیادوں پر اٹھا رہے تھے۔ ان کی جگہ ایک سیاسی لیڈر کو وزارت عطا کردی گئی۔ ایسے فیصلوں سے فوج سے اختلافات ابھرے، جو اس جنگ میں اہم رول ادا کر رہی تھی، نتیجے میں جونیجو صاحب برطرف تو ہوئے لیکن اس وقت تک پاکستان افغان میدان میں جیتی جنگ جنیوا میں میز پر ہار چکا تھا۔ یہ فیصلے ثابت کرتے ہیں کہ ملک کے مفاد کے لیے مدبّر کی ضرورت ہوتی ہے۔ یاد رکھیں کہ شاطر سیاستدان ہونا اور بات ہے جبکہ مدبّر ہونا اور۔ ہماری ملکی سیاست صرف ذاتی اور سیاسی مفاد کی طابع ہوتی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ جمہوریت کی اصل بنیاد تعلیم کی طرف توجہ دی جائے اور جب تک عمومی تعلیم کا مناسب ہدف حاصل نہیں ہوجاتا کچھ خصوصی فیصلے کرنے ہوں گے۔ مثلاً مقامی مسائل کے لیے بلدیاتی سطح پر تمام شہریوں کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت ہونی چاہیے کہ عام آدمی کے فوری مسائل کا تعلّق عموماً مقامی اداروں سے ہوتا ہے۔ بنیادی طور پر اعلیٰ عوامی اداروں میں صرف تعلیم یافتہ افراد کا جانا لازمی قرار دیا جائے۔ صوبائی اور قومی اسمبلی میں داخل ہونے کی شرائط سخت ہونی چاہییں، کیونکہ ان نمائندوں کا سابقہ پڑھی لکھی افسر یا نوکر شاہی سے ہونا ہوتا ہے، یعنی صوبائی اور قومی مرحلوں کے لیے عام شہریوں کے بجائے تعلیم یافتہ ہونے کی قید لگنی چاہیے۔ اس کے لیے لازم ہے کہ صوبائی، قومی اسمبلی اور سینٹ کے لیے امیدواروں کی کم از کم علمی قابلیت لازم کی جائے اور ووٹر کے ووٹ کے وزن کا تعیّن بھی اس کی تعلیم کی سطح کے حوالے سے کیا جائے۔ اسمبلیاں صرف تعلیم یافتہ کا میدان ہوں، امیدوار بھی اور ووٹر بھی۔ ایک مزدور کے مقابلے میں ایک پروفیشنل کا ووٹ پچاس یا سو گنا ہونا چاہیے۔ یعنی علم کی سطح کی نسبت سے فی فرد ووٹ کی تعداد۔ ان پڑھ کا ایک ووٹ تو پرائمری پاس کے پانچ، سکینڈری کے پندرہ، انٹر کے تیس اس طرح پی ایچ ڈی کے سو وغیرہ وغیرہ یا جیسا مناسب سمجھا جائے۔ اس پابندی کے نتیجے میں ایک زمیندار اپنے ووٹ کی تعداد بڑھانے کے لیے مزارع کو خود پڑھائے گا، اسکول اصطبل بننے سے محفوظ ہوجائیں گے اور مجموعی دانش میں اضافہ ہوگا۔

الیکشن میں افراد کے بجائے سیاسی پارٹیوں کو ووٹ دینے کا سسٹم ہونا چاہیے اور ان کے حاصل شدہ ووٹ کے تناسب سے ان کو سیٹیں الاٹ ہونی چاہیے۔ یعنی ہر پارٹی اپنے امیدواروں کی لسٹ الیکشن کمیشن کے حوالے کرے جن کی تعلیم کی تصدیق کے طریقے وضع کیے جائیں تاکہ جعلی اسناد لیکر کوئی آگے نہ آسکے۔ الیکشن میں پارٹی کے ووٹ کے حساب سے افراد کو نمائندگی کا پروانہ دیا جائے۔ اس طرح سیاسی پارٹیاں الیکٹ ایبلز کے دباؤ اور بلیک میلنگ سے چھٹکارا پا جائیں گی اور کسی بھی ووٹر کا ووت ضائع نہیں ہوگا۔ سرکاری نوکریوں میں میرٹ کے دفاع کے لیے محتسب کے طرز کا ادارہ ہونا چاہیے جہاں ہر وہ شخص رجوع کر سکے جس کو اپنی حق تلفی کا شکوہ ہو۔ ان چند اقدامات سے پاکستان ایک منصف جمہوری معاشرے کی طرف گامزن ہو سکتا ہے۔

Comments

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقی

مجیب الحق حقّی پی آئی اے کے ریٹائرڈ آفیسر ہیں۔ اسلام اور جدید نظریات کے تقابل پر نظر ڈالتی کتاب Understanding The Divine Whispers کے مصنّف ہیں۔ اس کتاب کی اردو تشریح " خدائی سرگوشیاں اوجدید نظریاتی اشکال " کے نام سے زیر تدوین ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں