سائیکالوجی میں اسکول آف تھاٹس - حافظ محمد زبیر

انسانی شخصیت کی اصلاح اور نشوونما کے لیے انسان نے کیا کچھ سوچا، یہ جاننے کے لیے ماڈرن سائیکالوجی کا مطالعہ بہت ضروری ہے۔ سائیکالوجی کے مطالعہ کے لیے سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ اس میں اسکول آف تھاٹس کتنے ہیں یعنی سوچ کے زاویے کتنے ہیں؟ عام طور سائیکالوجسٹس سات بڑے اسکول آف تھاٹس کا تذکرہ کرتے ہیں، کسی نے پانچ اور کسی نے دس بھی بنا دیے۔

میری نظر میں یہ بنیادی طور تین ہیں، باقی ان تینوں کی شاخیں ہی ہیں۔ اگر اسٹرکچلزم (structuralism) اور فنکشنلزم (functionalism) کو چھوڑ دیں جو کہ ذہن کے اسٹرکچر اور فنکشن کو ڈسکس کرتے ہیں تو پہلا باقاعدہ اسکول آف تھاٹ سائیکو اینالسس (psychoanalysis) کی تھیوری کو قرار دیا جا سکتا ہے جو کہ فرائیڈ نے پیش کی تھی۔ اس کے ردعمل میں بی ہیویئر ازم (behaviorism) پیدا ہوا کہ جس کے بانی جان واٹسن تھے اور جسے سکنر نے آگے بڑھایا ہے۔

سائیکو اینالسس اور بی ہیویئر ازم کے رد عمل میں ہیومانیسٹک سائیکالوجی (humanistic psychology) کا اسکول آف تھاٹ پیدا ہوا کہ جسے اس کے بانی ابراہیم ماسلو نے سائیکالوجی کا تیسرا اسکول آف تھاٹ قرار دیا۔ ساتھ ہی بی ہیویئر ازم کے رد عمل میں کاگنیٹیو سائیکالوجی (cognitive psychology) کا اسکول آف تھاٹ بھی پیدا ہوا۔ اور ماڈرن سائیکالوجی میں ایک اور اہم اضافہ بائیو سائیکالوجی کے اسکول آف تھاٹ کا بھی ہے۔

شروع سائیکالوجی میں اصل اور بنیادی سوال ایبنارمل بی۔ ہیویئر (abnormal behavior) کا تھا کہ اس کی وجہ کیا ہے؟ کیونکہ ایبنارمل بی۔ ہیویئر انسانی شخصیت کی تعمیر اور نشوونما میں رکاوٹ بنتا ہے لہذا اس کی وجوہات تلاش کر کے ان کو ایڈریس کرنا ضروری تھا تا کہ شخصیت کی تعمیر اور نشوونما میں موجود رکاوٹوں کو ختم کیا جا سکے۔

سائیکو اینالسس کے اسکول آف تھاٹ کا کہنا یہ ہے کہ ایبنارمل بی۔ ہیویئر کی وجہ اندورنی (internal) ہے یعنی انسانی ذہن۔ اب انسانی ذہن کو وہ شعور (consciousness)، تحت الشعور (sub-consciousness) اور لاشعور (unconsciousness) میں تقسیم کر دیں تو یہ سب اس کی تفصیلات ہیں۔ بی- ہیویئرازم والوں نے کہا کہ ایبنارمل بی۔ ہیویئر کی اصل وجہ خارجی (external) ہے یعنی ماحول اور سوسائٹی وغیرہ اور ذہن کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔

ہیومانیسٹک سائیکالوجی والوں نے کہا کہ اینارمل بی۔ ہیویئر کیا ہوتا ہے؟ تم نے سائیکالوجی کا اسکوپ بہت محدود کر دیا ہے۔ سائیکالوجی کا اصل اسکوپ بی۔ ہیویئر ہے۔ اس فرق کو ہم تزکیہ نفس کی اصطلاحات میں یوں سمجھ سکتے ہیں کہ سائیکو اینالسس اور بی۔ ہیویئر ازم نے "رذائل نفس" کو اپنا موضوع بحث بنایا جبکہ ہیومانیسٹک سائیکالوجی والوں نے "اخلاق حسنہ" کو۔ یعنی ان کے نزدیک اصل سوال یہ ہے کہ پازیٹو بی۔ ہیویئر کیسے پیدا کیا جا سکتا ہے، اور یہ زیادہ اہم ہے۔

کاگنیٹو سائیکالوجی والوں نے بھی یہی کہا کہ ایبنارمل بی۔ ہیویئر کی اصل وجہ اندرونی ہی ہے لیکن ان میں اور سائیکو اینالسس والوں میں فرق یہ ہے کہ سائیکواینالسس والے کہتے ہیں کہ یہ اندرونی وجہ اصلا "لاشعور" ہے جبکہ کاگنیٹو سائیکالوجی والے کہتے ہیں کہ یہ اندرونی وجہ اصلا "شعور" ہے۔ تو ان دونوں کا اختلاف ایک ہی بات کے دو رخ ہیں کہ دونوں کا اس پر اتفاق ہے کہ اصل خرابی اندر پیدا ہوتی ہے البتہ بی۔ ہیویئر ازم والوں نے بالکل ایک نئی بات کی کہ اصل خرابی باہر سے آتی ہے۔

سائیکو اینالسس اور بی- ہیویئر ازم کے بعد جسے میری نظر میں تیسرا مستقل اسکول آف تھاٹ قرار دیا جا سکتا ہے تو وہ بائیو سائیکالوجی ہے کہ جنہوں نے یہ بات کہی کہ خرابی کی وجہ مائنڈ (mind) نہیں بلکہ برین (brain) ہے لہذا اس کو فوکس کرو۔ یعنی انسانی بی۔ ہیویئر میں ایبنارملیٹی کی وجہ فزیکل آرگن (physical organ) ہے نہ کہ میٹافزیکل ہستی (metaphysical entity) ۔ اس ایپروچ نے سائیکالوجی کو ایک میڈیکل سائنس بنا دیا ہے کہ جس میں انسانی خیال کے دماغ میں فزیکل وجود کو آبزور کیا جا سکتا ہے اور انسان کی ماضی کی میموری تک ڈیلیٹ کی جا سکتی ہے۔

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں