عدلیہ کے نادان دوست - اختر عباس

ایک زمانے میں جمعہ بازاروں کا بڑا چرچا تھا، پھر بدھ بازا ر لگنے لگے اور اب اتوار بازار، ایک اوربازار بھی ان دنوں توجہ کا طالب ہے، اور توجہ طلبی میں اپنی حدوں سے باہر تک پھیل رہا ہے، اور وہ ہے مشوروں کا بازار۔ یار لوگ یہ بتانے کے لیے کہ وہ بھی ہیں، ایسی ایسی بے پرکی اڑاتے ہیں کہ حیرت کی بھی آنکھیں باہر آنے لگتی ہیں، کالم نگار اور تجزیہ نگار باقاعدہ پارٹی بن چکے ہیں، اور اس خوشی اور لذت سے ہی محروم ہو چکے ہیں، جو کبھی کالم اور تجزیہ نگاری کی وجہ افتخار تھی۔ معروف اور مشہور سیاسی لوگوں کے ساتھ تصاویر بنوانے یا پاور کوری ڈور میں گھومنے والے ایسے چھاتہ برداروں نے ایسے مشوروں کا اپنا حق جان لیا ہے، ایسٹیبلشمنٹ کے لوگوں سے متعارف ہونے اور ان کی طاقت اور اثر پذیری کا ذکر کرنے یا کرتے رہنے سے یہ کہاں ضروری ہو جاتا ہے کہ کہ جو وہ کریں وہ بھی یاروں کا ہی کام تصور کر لیا جائے۔ ایک صاحب اپنی ذاتی محفلوں کے بعد اب اخباری صفحات میں بھی بابا رحمت کو مشورے دینے لگے ہیں کہ اپنے اختیارات کا دائرہ کار پورے پاکستان پر پھیلائیں، ایسی نادانی کی کل بہت بھاری قیمت چکانی پڑ سکتی ہے۔ اب بابا رحمت یا کوئی اور بابا اس طرح کے مشوروں کو سنجیدگی سے لے بیٹھا اور اپنی حدوں کو خود ہی بڑھانے پر آمادہ ہوگیا تو یہ ملکی بربادی کا بہت ہی نادر نسخہ ہوگا، کسی دشمن کو ہاتھ ہلانے کی بھی حاجت نہ رہے گی۔ معاف کیجیے بابا رحمت نے کئی ماہ سے اپنے معمول کے کام چھوڑ کر صرف سیاسی کیس سننے اور سخت الفاظ کے ساتھ سیاست دانوں اور افسروں کی گوشمالی کا جو کام سنبھالا ہوا ہے، اس کے اثرات ہمیں کئی دہائیوں تک دیکھنے کو ملیں گے۔

آپ کو یاد ہوگا پہلے مارشل لا کے فضائل بیان کرنے والے آج بھی قصائیوں کی دکانوں پر جالیاں لگوانے کو عظیم کارنامہ گنواتے اور سیاست دانوں کو شرمندہ کرتے ہیں کہ تم تو جالیاں تک لگوانے کی بصیرت سے محروم ہو، یہ کام ہمیں آکر کرنا پڑا، ابھی عدالت روزانہ کی بنیاد پر جو بیان جاری کر رہی ہے اور جس حوالے سے مسلسل تبصرے اور بیان شائع ہو رہے ہیں، وہ پینے کے پانی، دودھ اور صحت سے متعلق عدالتی پریشانی لیے ہوئے ہیں، اسے کبھی بھی نہ تو کوئی کارنامہ گنا جائے گا اور نہ اپنی عدالتی حدود سے نکل کر کھیلنے کو کوئی مستحسن قدم اور اچھا حوالہ بنایا جاسکے گا۔ ایسی کوششیں ماضی قریب میں جسٹس افتخار چوہدری زیادہ زور و شور سے کرتے رہے ہیں اور ان کی رخصتی والے دن ہم سب نے انہیں چند گھنٹوں کے اندر ہیرو سے زیرو بنتے دیکھا اور حالت یہ ہے کہ فراغت کے بعداپنی ذاتی سیاسی جماعت بنانے اور اسے جسٹس پارٹی کہنے کے باوجود پذیرائی کی پ کا ایک نقظہ بھی پورے ملک سے ان کے ہاتھ نہیں لگا۔ یہی اصل سچائی ہے، چاہے سابق عسکری قیادت ہو یا عدالتی فضیلت، ریٹائرمنٹ کے بعد اکثر دونوں ہاتھ ملتے ہی نظر آئے ہیں۔

ملک اور معاشرے قوانین، اصولوں اور آئین سے چلتے ہیں، طاقت کے کسی بھی سرچشمے کے اوپر اپنی سرکاری نوکری کی وجہ سے بیٹھنے والوں کو یہ اختیار کسی بھی قانون میں نہیں دیا جاتا کہ وہ من مرضی کریں، یا کسی اور کی خوشی اور خواہش کی تکمیل کریں۔ جناب مشرف پر یہی کیس عدالت میں زیر سماعت ہے کہ انہوں نے اپنی حدود سے تجاوز کیا اور بار بار کیا، جن سیاسی اور سماجی یا عسکری افراد نے تب ان کو ہلہ شیری دی تھی، ان میں سے کوئی ایک بھی ان کے ساتھ نہیں کھڑا، حتیٰ کہ وہ بھی جو انہیں وردی سمیت دس بار صدر بنوانے کے دعوے کیا کرتے تھے۔ جونہی عوام کو اپنا حق استعمال کرنے کا موقع ملا، ایسے مشوروں اور بیانوں پر جناب پرویز الہی اور ان کی پارٹی کو ماضی کا حصہ بناتے صرف ایک دن لگا تھا اور اس کے بعد جمہوری اور سیاسی داستانوں میں ان کی کوئی داستان بھی باقی نہیں ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   فیصلہ کن مراحل - محمد عامر خاکوانی

ان دنوں سپریم کورٹ نے وزیراعلیٰ پنجاب کو اشتہاروں کے معاملے میں اپنے نشانے پر رکھا ہوا ہے، ساتھ میں منہ کا ذائقہ بدلنے کے لیے خیبر پختون خواہ اور سندھ کا نام بھی لے لیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ مخصوص انداز قصائیوں کی دکانوں پر جالیاں لگانے والی اسی سوچ کا تسلسل ہے جس میں ظاہری چیزوں کو ہدف بنا کر سیاسی لوگوں کو ہدف تنقید بنایا جاتا ہے، اور ان کی عزت اور کام کی وقعت کم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ بات بھولنے میں زیادہ دیر بھی نہیں لگائی جاتی کہ سیاسی لوگ سرکاری ملازم نہیں ہوتے، وہ جس کام کے لیے منتخب کیے جاتے ہیں، وہ یہی منصوبے اور عوامی فلاح کے کام ہوتے ہیں، ان کاموں کو کرنے کے لئے ہزاروں نہیں لاکھوں سرکاری ملازم موجود ہوتے ہیں جو عمر بھر صرف کام نہ کرنے کی راہیں ڈھونڈتے ہیں۔ یہ سایسی لوگ ہی ہوتے ہیں جو یہ منصوبے بناتے اور ان پر عمل کرواتے ہیں، غیر جمہوری ادوار میں ساری سرکاری مشینری موجود ہو تی ہے اور غیر سیاسی طالع آزماوں کے لیے جلسوں جلوسوں پوسٹروں اور بالکل؛ ایسے ہی اشتہاروں کا ہی نہیں بےوفا سیاسی کارکنوں کو ان کی پارٹیوں سے توڑ کر لانے کا کام بھی کرتے ہیں، سڑکوں اور منصوبوں پر ایسے ہی بورڈ لگائے جاتے ہیں اور ایسے ہی تصاویر بنائی جاتی ہیں، تب تو کسی کو یہ دلیل نہیں سوجھتی کہ یہ سرکاری تنخواہ لینے والوں کے ناموں پر منصوبے کیوں بنائے جاتے ہیں۔ سب سے مزے کی اور بے سری دلیل یہ دی جاتی ہے کہ ہمارے ٹیکسوں سے یہ سارے کام کیے جاتے ہیں، یہ کہنے والوں کی بڑی ہمت ہے کہ ایسا جملہ لکھ جاتے ہیں، مجال ہے کبھی ٹیکس کے نام پر خود کچھ دیا ہو، یہ تو ہوٹل کا بل تک رسید کے بغیر دینے پر اصرار کرتے ہیں تاکہ سترہ فیصد ٹیکس نہ دینا پڑے۔ یہ منصوبے تو ویسے بھی بیروبی قرضوں سے پورے کیے جاتے ہیں، آپ کے ٹیکس کہاں سے آگئے۔ ویسے ممکن ہے کل کلاں یہ فیصلہ بھی سامنے آجائے کہ بسوں اور ٹرینوں کے ڈرائیور اس سفر کے پیسے بھی دیا کریں جو وہ عوام کے ٹیکسوں سے خریدے گئے وہیکل کو چلاتے ہوئے طے کرتے ہیں۔ ہم یہ کیسے اور کیوں بھول جاتے ہیں کہ تصویر دینے یا نہ دینے کا فیصلہ پارلیمانی کمیٹیوں کے کرنے کا ہے نہ کہ عدالتوں کا، اسی طرح ہسپتالوں کی صفائی، صاف پانی کی فراہمی کا کوئی حلف عدلیہ کے لوگوں کو نہیں اٹھوایا جاتا، یہ سیاسی قیادتوں کا کام ہے، آج تک وہی کرتی آئی ہیں تو ہر محلے میں پینے کا پانی دستیاب ہے، فلٹر پلانٹوں کی صفائی سیاسی لوگوں نے نہیں سرکاری عملے نے کرنی ہوتی ہے، جیسے عدلیہ نے انصاف دینا ہوتا ہے اور ان کا سرکاری عملہ وہاں سانس لینے کی بھی فیس لیتا ہے، انصاف کو روکے رکھتا ہے، اٹھارہ لاکھ بے بس لوگوں کے کیس پانی اور سیاسی لوگوں کی تصویروں سے کہیں اہم ہیں۔ عدلیہ وہ کرے جس کام کے لیے وہ بنی اور بنائی گئی ہے۔ جسٹس افتخار صاحب سے زیادہ تشہیر آج تک کسی جج کی نہیں ہوئی، وہ روز سوموٹو لیتے اور روزانہ کی بنیاد پر افسروں کی بے عزتی کرتے، اب بھی اسی روایت پر عمل ہو رہا ہے، روز کی سرخیاں اور روز کے جملے بھری عدالت میں ادا ہوتے ہیں، شائع ہوتے ہیں، کبھی کبھی خود اگلے روز جج صاحبان کو بھی برے لگتے ہیں، جس پر توہین عدا لت کے نوٹس دیے جاتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   عمران خان کا بی بی سی کو دیا گیا مکمل انٹرویو (ترجمہ) - صوفی نعمان ریاض

عدلیہ کا مزاج اور رجحان دیکھ کر ایسے نادان دوستوں کی ایک پوری پنیری سامنے آئی ہے جو روز کی بنیاد پر عدلیہ کو باور کراتی ہے، درخواستیں دیتی ہے کہ مائی باپ آپ کی توہین ہو گئی ہے اور آپ کو پتا ہی نہیں چلا۔ انہیں روکیں گے تو آپ کا وقار بڑھے گا ورنہ عدلیہ کے پورے ادارے کو بےتوقیر کر نے کے اپنے مشن مکمل کرنے میں انہیں کسی رکاوٹ کا سامنا نہیں ہوگا۔ اسی طرح جو چھاتہ بردار کالم نگار اور تجزیہ نگار صاحبان عقل بن کر بڑی نادانی کے ساتھ عدلیہ کو مشورہ دینے نکلے ہیں کہ آگے بڑھ کر اپنی حدود بڑھا لیں، بظاہر تو یہی لگتا ہے آنے والے دنوں میں انہی کی باتوں پر زیادہ کان دھرے جائیں گے، پھر بھی ڈرتے ڈرتے یہ پوچھنے کو دل چاہتا ہے کہ کہیں یہ اسی مشورے کا نتیجہ تو نہیں ہے کہ منصف اعلیٰ کا یہ بیان پڑھنے کو ملا ہے کہ ہم بیوروکریسی کو دوسرے صوبوں میں بھیج دیں گے۔ حضور! ایک لمحہ ٹھہریے، انہیں نکال دیں یا سمندر پار بھیج دیں یا گھروں میں بٹھا دیں، یہ عبوری حکومت کا اختیار ہوگا آپ کا نہیں، آپ عدلیہ ہیں مقننہ اور انتظامیہ نہیں، اپنی اپنی حد میں رہنا ہی ملک کی بقا ہے ورنہ یہاں تماشہ بنتے کون سی دیر لگتی ہے۔ آپ کے پرانے چیف نے پریزائڈنگ افسروں سے اپنی حد سے نکل کر ایک خطاب فرمایا تھا، آج تک انہیں زرداری اور نیازی صاحب اس پر برا بھلا کہتے ہیں کہ انہوں نے انتخابی نتائج چوری کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ بھلا کون سی عقل مندی ہوگی کہ 2018ء کا الیکشن جیتے کوئی اور الزام کوئی اور سہے۔ ہم نے تو یہی دیکھا ہے کہ دیوار پر صاف لکھا ہوتا ہے مگر نادان دوست ایسا سوچنے بھی نہیں دیتے

Comments

اختر عباس

اختر عباس

اختر عباس مصنف، افسانہ نگار اور تربیت کار ہیں۔ پھول میگزین، قومی ڈائجسٹ اور اردو ڈائجسٹ کے ایڈیٹر رہے۔ نئی نسل کے لیے 25 کتابوں کے مصنف اور ممتاز تربیتی ادارے ہائی پوٹینشل آئیڈیاز کے سربراہ ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.