ھے مگر دریائے دل تیری کشش سے موجزن - مریم زیبا

ستر فیصد زمین زیر آب ہے اور اس میں زندگی ہم سے کروڑوں میل دور موجود چاند کی کشش کے سبب پیدا ہونے والے مدوجزر کی وجہ سے ممکن ہے۔ اللہ رب العزت نے اس طاقتور کشش کو ایک مناسب فیصلہ دے کر چاند اور زمین کو اپنے مدار میں مقید کر کے زندگی کا ذریعہ بنایا۔ کل قیامت کو جب یہ اپنے مداروں کی قید سے آزاد ہوں گے تو یہ کشش اپنی تمام تر طاقت کے ساتھ روبہ عمل ہوگی۔ اور تب یہی کشش زندگی کی تمام علامات کو ختم کرنے کا سبب ہوگی۔

مقناطیس کے دو پولز کے درمیان موجود طاقتور کشش کو مناسب فاصلے کے ساتھ استعمال کے ذریعے ہم کروڑوں میگاواٹ بجلی پیدا کرتے ہیں۔ دو صنفوں کے درمیان اللہ رب العزت نے اپنی کامل حکمت کے تحت ایک نہایت مضبوط اور طاقتور کشش رکھی ہے۔ اپنا بچپن یاد کیجیے، وہ وقت جب کسی وجہ سے اما بابا کے درمیان ان بن ہوئی ہوتی تھی تو ہمیں ایسا لگتا تھا کہ دنیا ختم ہوگئی۔ یہ کشش اللہ کے مقرر کردہ حدود کے اندر نسلوں کی تربیت کے لیے قیمتی ترین ضرورت "احساس تحفظ" کی فراہمی اور نسل انسانی کی بقا کے لیے نہایت اہم ہے۔ اگر یہ کشش اپنے خالق و مالک کے مقرر کردہ حدود سے ناآشنا ہوجائے تو ایسی قیامت لے کر آتی ہے جو سماج کے تانے بانے کو برباد کر دیتا ہے۔ جو بگاڑ، بحران اور قیامت خیز واقعات ہم اپنے اردگرد دیکھتے ہیں، وہ اسی کشش کے اپنے فطری حدود سے بے پروائی کے سبب ہے۔

بلوغت کے بعد بچے ایک بھرپور جنسی زندگی گزارنے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ یہ کشش ایک صحت مند انسان کی علامت ہے۔ اس کو نظرانداز کرنا، غیر تعمیری انداز میں دبانا، اور اس کے وجود سے انکار کرنا اتنا ہی غیر مناسب ہے جتنا کہ اس طاقتور توانائی کو حدود کے ذریعے چینلائز نہ کرنا۔ ہمارے نظام تعلیم کی وجہ سے ایک مکمل بالغ انسان بھی نکاح کے لیے سماجی طور پر تیار ہونے میں کئی قیمتی سال ضائع کر دیتا ہے۔ مادیت پرستی، تصنع اور غیر حقیقی توقعات کی وجہ سے نکاح مزید التوا کا شکار ہوجاتا ہے۔ ان حالات میں فطری طریقہ سے اس توانائی کو چینلائز کرنا نہایت اہم ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   اسلامی نظریاتی کونسل کا مسئلہ - ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

روزہ کا اہتمام، غص بصر، طیب اور سادہ غذا، مناسب فزیکل ایکٹیوٹی، بلند تر مقصد کا واضح ہونا اور تعمیری انداز میں زندگی کے چیلینجز کا سامنا کرنے کی تربیت نہایت اہم ہے۔

حدود ہماری حفاظت اور خیرخواہی کے لیے ہیں۔ ایک بچے کی تربیت میں احساس تحفظ کی موجودگی کو یقینی بنانے کے لیے ماہرین حدود کو واضح کرنے پر زور دیتے ہیں۔ اگر حدود نہ متعین ہوں تو بچے کے اندر حقیقت پسندی کے بجائے خودغرضی اور خودپسندی پروان چڑھتی ہے۔ اللہ رب العزت کے مخلوق کو رب کے بنائے ہوئے حدود ہی راس آتے ہیں۔
ربنا ماخلقت ھذا باطلا سبحنک فقنا عذاب النار (191 ال عمران)