ماں! - حنا نرجس

سبق اک اور سکھا دو ماں

کہانی پھر سنا دو ماں

اندھیرا آ نہ لے مجھ کو

دیا اک اور جلا دو ماں

ہوا ہے تیز میں تنہا

حفاظت کی دعا دو ماں

قدم میرے پھسلتے ہیں

انھیں پھر سے جما دو ماں

بنے ہیں رت جگے ساتھی

تھپک کر تم سلا دو ماں

کہاں سے موڑ مڑنا ہے

مجھے رستہ بتا دو ماں

محبت کی مہر میری

جبیں پر پھر لگا دو ماں

ٹیگز

Comments

حنا نرجس

حنا نرجس

اللّٰہ رب العزت سے شدید محبت کرتی ہیں. ہر ایک کے ساتھ مخلص ہیں. مسلسل پڑھنے پڑھانے اور سیکھنے سکھانے پر یقین رکھتی ہیں. سائنس، ٹیکنالوجی، ادب، طب اور گھر داری میں دلچسپی ہے. ذہین اور با حیا لوگوں سے بہت جلد متاثر ہوتی ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

  • واہ ۔ بہت خوبصورت ، بہت ہی عمدہ
    ماں پر اپنی اولاد کی تربیت و حفاظت کی بہت بڑی ذمہ داری ہے ۔ اور گمراہی و نفسا نفسی کے اس دور میں یہ ذمہ داری بہت بڑھ گئی ہے ۔

    ماں اے ماں ۔ تو اپنے بچوں کی ذمہ دار ہے یہ معصوم پھول تیری محبت اور دیکھ بھال سے ہی دنیا کی آندھیوں کا سامنا کر پائیں گے ۔
    ماں اے ماں ان کو جڑوں کو مضبوط کر ، اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر ۔
    ماں اے ماں ۔