اعتدال و میانہ روی، سیرت النبی ﷺ کا ایک اہم پہلو - اظہر‌‌‌ شاہ ستوریانی

سیرت النبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسا بحر بے کنار ہے جس کے اندر ہرقسم کے یکتا موتیوں کا ایک لامتناہی سلسلہ ہیں۔ محبوب کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ میں زندگی کے ہر پہلو کی راہنمائی موجود ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے بیش بہا پہلوؤں سے میں سے ایک پہلوں اعتدال و میانہ روی بھی ہے، اعتدال و میانہ روی دین اسلام کا طرہ امتیاز اور محبوب کبریا صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی کا نچوڑ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اٹھنا بیٹھنا، سونا جاگنا، تکلم وگفتگو کرنا، تجارت ومعاملات کرنا الغرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہر ادا اور ہر قضی اعتدال و میانہ روی کی نمایاں عکاسی کرتی ہے۔

اعتدال و میانہ روی امت محمدیہ کی بنیادی خصوصیت ہے، اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں، ترجمہ:" ایسی طرح ہم نے تمہیں معتدل امت بنایا تاکہ تم لوگوں پر گواہ ہوجاؤ اور رسول تم گواہ ہوجائے" (البقرہ: 143)۔ امام طبری رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس امت کو امتا وسطا کا خطاب اس لیے دیا کہ دین کے معاملے میں اعتدال و میانہ روی اختیار کرتے ہیں نہ تو ان کے یہاں نصارٰی جیسا غلو جنہوں نے رہبانیت کی دعوت دی اور نہ یہودیوں جیسی کوتاہیوں اور مجرمانہ حرکتوں کا تصور کہ اللہ کی کتاب میں تبدیلی پیدا کرڈالی۔ اس کے علاؤہ متعدد مقامات پر اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں افراط و تفریط سے بچنے اور اعتدال و میانہ روی اختیار کرنے کا درس دیتے نظر آتے ہیں، کہی ارشاد فرماتے ہیں،ترجمہ:

"اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ اسراف کرتے ہیں اور نہ کنجوسی بلکہ ان دونوں کے درمیان اعتدال سے کام لیتے ہیں"(الفرقان:67)۔ اور کہی اللہ تعالیٰ کھانے پینے میں اعتدال و میانہ روی اختیار کرنے کا حکم دیتے ہیں،ترجمہ:"کھاؤ پیو اور فضول خرچی نہ کرو"(الاعراف:31)۔

یہ بھی پڑھیں:   تعمیر سیرت میں مطالعہ سیرت کی اہمیت - راحیلہ چوہدری

آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعدد احادیثِ مبارکہ اور کئی ایسے واقعات مروی ہے جس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم افراط و تفریط سے بچنے اور اعتدال و میانہ روی اختیار کرنے کا درس دیتے ہیں۔ ایک مرتبہ تین صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان میں سے ایک نے کہا کہ میں ہمیشہ ہر رات جاگ کر نماز پڑھتا رہوں گا کبھی سویا نہیں کروں گا، دوسرے نے کہا میں ہمیشہ روزہ رکھوں گا کسی دن افطار نہیں کرونگا، تیسرے نے کہا میں کبھی شادی نہیں کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا جس کا مفہوم ہے، میں تم لوگوں میں سے سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا اور اللہ کے (ناراضگی اور عذاب سے) بچنے (کےلیے محنت کرنے) والا ہوں۔ لیکن میں کبھی روزہ رکھتا ہوں اور کبھی افطار کرتا ہوں، (راتوں میں) نماز بھی پڑھتا ہوں اور سوتا بھی ہوں، اور شادیاں بھی کرتا ہوں، لہٰذا جس نے میری سنت سے منہ پھیرا وہ مجھ میں سے نہیں۔ اس حدیثِ مبارکہ سے واضح ہوتا ہے اللہ تعالیٰ نے تمام امور میں غلو و تقصیر سے منع فرمایا ہے یہاں تک کہ دینی عبادات و تعلیمات میں بھی غلو و تقصیر سے کام لینا جائز نہیں۔

اس وقت اگر ہم اپنے معاشرے کا جائزہ لیں تو اجتماعی طور پر ہمارا پورا معاشرہ بےپناہ خامیوں، خرابیوں کے ساتھ ساتھ اعتدال و میانہ روی سے کوسوں دور افراط و تفریط اور غلو و تقصیر کا شکار ہے۔ زندگی کے ہر شعبہ میں افراط و تفریط، غلو و تقصیر کا راج ہے۔ بچے کی پیدائش سے لیکر شادی، خوشی غمی، فوتگی تک ہر چیز میں غلو و تقصیر سے کام لیا جاتا ہے، اعتدال و میانہ روی کا نام تک مفقود ہے۔ شادی کے موقع پر بےپناہ فضول خرچی کا نہ ختم ہونے والا رواج عروج پر ہیں۔ جس کی وجہ سے غریب استطاعت نہ رکھنے کے باوجود قرض لیکر شادی بیاہ میں فضول خرچی کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اور صاحب استطاعت ایک دوسرے سے سبقت لے جانے اور نام بڑا کرنے کی چکر میں فضول خرچیوں کی انتہا کردیتے ہیں۔ شادی ہالوں میں کئی قسم کے ڈشز جن میں سے آدھےیبھی نہیں کھائی جاتیں، باقی سب ویسے ضائع ہوجاتی ہیں۔ اسلام اسراف اور فضول خرچی کا قطعاً اجازت نہیں دیتا بلکہ اسراف اور فضول خرچی کرنے والے کو شیطان کا بھائی قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   حُبِّ رسول ﷺ کا معیار اور تقاضے - مفتی منیب الرحمن

آج کل ہم جتنی پریشانیوں کے شکار ہیں ان کی سب سے بڑی وجہ اعتدال و میانہ روی کا فقدان ہے۔ بےاعتدالی، اسراف اور فضول خرچی ہمارے نسوں میں رچ بس چکی ہے۔ ہم اگر بیمار ہوتے ہیں یہ بیماری اکثر کھانے پینے میں اعتدال و میانہ روی سے نہیں بلکہ بے اعتدالی کی وجہ سے ہوتی ہے۔ پیٹ بھر کر مکس چیزیں کھا لیتے ہیں جو اکثر بیماری کا سبب بن جاتی ہیں۔ ہم اگر مالی لحاظ سے پریشانی کا شکار ہے یہ بھی اعتدال و میانہ روی اختیار نہ کرنے کی وجہ ہے۔ جب پیسے آتے ہیں تو فضول خرچیوں میں اڑا دیتے ہیں اور پھر ضرورت پڑنے پر قرض لینا پڑتا ہے۔

ایک خوشحال اور پرسکون زندگی گزارنے کے لیے زندگی کے ہر شعبہ میں اعتدال و میانہ روی کی اشد ضرورت ہے کیونکہ کامیاب اور خوشحال زندگی گزارنے میں اعتدال و میانہ روی بڑا اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کے اس اہم پہلو پر عمل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین