امریکا کی سلامتی پالیسی سے کس کی سلامتی کو خطرہ – یاسر محمود آرائیں

وائٹ ہاؤس کی جانب سے 80 صفحات پر مشتمل نئی قومی سلامتی پالیسی جاری کردی گئی ہے جس کے مطابق روس اور چین کو امریکا کے لیے حریف قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس پالیسی میں امریکا کی سلامتی کو اولین ترجیح، امریکی معیشت کی بہتری کے لیے ہنگامی اقدامات، افغانستان اور باقی دنیا میں طاقت کے استعمال سے امن کے قیام کی کوشش، امریکا کے عالمی اثرورسوخ میں اضافے کے اقدامات اور سائبر حملوں سے امریکا کے بچاؤ کی تدبیر جیسے نکات شامل ہیں جبکہ اس کے ساتھ ساتھ امریکا کی جانب سے بھارت کو اس خطے میں غیرمعمولی درجہ دینے کا بھی اعلان کیا گیا ہے۔

دوسری جانب چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہواجن ینگ نے امریکا کی اس پالیسی پر چین کا ردعمل دیتے ہوئے اسے یکسر مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ واشنگٹن کی نئی سلامتی پالیسی سرد جنگ کی ذہنیت کی عکاس ہے، جس سے واشنگٹن کو گریز کرنا ہونا ورنہ دونوں ممالک کے باہم تعلقات خراب ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہوں نے مزید کہا کہ چین اپنے مفادات کا ہر صورت تحفظ کرے گا۔

اسی طرح روس نے بھی اس امریکی پالیسی کو کھلے عام تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس قسم کے غیر ذمہ دارانہ اقدامات سے دنیا کے امن کو سنگین خطرات لاحق ہونے کا خدشہ ہے جبکہ روسی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ روس دنیا میں کسی بھی جگہ طاقت کے استعمال کو اچھی نظر سے نہیں دیکھتا اور امریکا کی جانب سے طاقت کے ذریعے امن لانے کی کوشش سے معاملات میں سدھار کے بجائے مزید ابتری کا اندیشہ ہے۔

اس نئی امریکی پالیسی کو اگر غور سے دیکھا جائے تو اس میں دنیا پر بلاشرکت غیرے حکمرانی کی دیرینہ امریکی خواہش صاف نظر آتی ہے۔ یاد رہے کہ سوویت یونین کی تحلیل کے بعد تقریبا دودہائیوں تک امریکا عملاً پوری دنیا پر مسلط رہا تھا۔ گزشتہ چند سالوں سے مگر دنیا میں طاقت کے بہت سے نئے مراکز نے سر ابھارنا شروع کردیا ہے اور صاف نظر آرہا ہے کہ دنیا بڑی تیزی کے ساتھ یک قطبی نظام سے کثیرالقطبی نظام کی جانب جارہی ہے اور ان نئے ابھرنے والے طاقت کے مراکز میں روس اور چین دو ایسی طاقتیں ہیں جنہیں امریکا اپنے لیے حقیقی خطرہ محسوس کرتا ہے۔

روس کے ساتھ امریکا کی مخاصمت کوئی نئی بات نہیں ہے اور یہ سرد جنگ کی صورت میں ایک طویل عرصہ تک چلتی رہی ہے۔ جیسے کہ پہلے عرض کرچکا ہوں کہ امریکا ہمیشہ سے دنیا پر بغیر کسی شراکت کے چودراہٹ کا خواہشمند ہے اور سوویت یونین کی تحلیل کے بعد وہ طویل عرصہ اس میں کامیاب بھی رہا تھا۔ اس تمام عرصہ میں روس خاموشی سے اپنی طاقت مجتمع اور معیشت مستحکم کرنے کی کوشش کرتا رہا تھا اور اس میں کامیابی کے بعد وہ ایک بار پھر امریکا کے لیے خطرہ بن کر سامنے آیا ہے۔ گزشتہ کچھ عرصہ میں کریمیا، جارجیا، مشرقی یوکرائن، شام اور عراق میں روس نے امریکی مفادات کے برخلاف اپنے اہداف کے حصول میں نمایاں کامیابی حاصل کرکے امریکا کو ایک بار پھر اپنے بارے میں سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ روس کی ان کامیابیوں کو امریکا اپنے عالمی اثرورسوخ میں کمی تصور کررہا ہے اور واشنگٹن کی جانب سے نئی قومی سلامتی پالیسی میں ایک بار پھر عالمی سیاست میں اپنا اثر بڑھانے کا اعادہ اسی خاطر کیا گیا ہے۔

اسی طرح چین اس وقت دنیا کی بہت بڑی معاشی طاقت ہے۔ گو کہ چین کسی بھی دوسرے ملک کے ساتھ کشیدگی پر یقین نہیں رکھتا لیکن ٹیکنالوجی کی بے پناہ ترقی اور ہلاکت خیز ایجادات کے بعد مگر گمان یہی ہے کہ آنے والے دور میں مخالف کو زیر کرنے کے لیے معاشی طاقت سے کام لیا جائے گا اور فی الوقت امریکا اور چین کے درمیان معاشی توازن پوری طرح چین کے حق میں ہے۔ امریکا کے لیے چین کی برآمدات، چین کو امریکا کی برآمدات سے کئی گنا زائد ہیں۔ اس کے علاوہ امریکا اس وقت چینی حکومت کے کئی ٹریلین ڈالرز کا مقروض ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کچھ عرصہ پہلے اس پر اپنی تشویش کا اظہار بھی کرچکے ہیں اور اب اس نئی پالیسی کی بدولت امریکی حکومت کی بھی چین کے ساتھ بگڑتے ہوئے معاشی توازن پر تشویش سامنے آگئی ہے۔

اس کے علاوہ حالیہ دنوں میں بھارت کے ساتھ بڑھتی ہوئی امریکی پینگوں کی وجہ یہ ہے کہ امریکا کو ایشیا پیسیفک میں چین اور روس کو کاؤنٹر کرنے کے لیے ایک مظبوط پارٹنر کی ضرورت تھی اور بھارت اپنے توسیع پسندانہ عزائم اور چین کے ساتھ اپنے دیرینہ جذبہ رقابت کی وجہ سے اس مقصد کی تکمیل میں بھرپور مدد فراہم کرنے پر آمادگی ظاہر کرچکا ہے۔ چونکہ بھارت اور پاکستان کی دشمنی بھی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے لہٰذا نئی دہلی کی خوشنودی کی خاطر اب امریکا نے پاکستان کو کھلے عام دھمکیاں دینا شروع کردی ہیں۔

یہ بھی یاد رہے کہ امریکا کو چین اور روس سے نمٹنے کے لیے افغانستان میں لازماً موجود رہنا ہوگا اور وہ اس بیس کیمپ میں اپنی موجودگی کی ہرممکن کوشش کرے گا۔ واضح رہے کہ افغان طالبان بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ ایک بھی امریکی فوجی کی افغان سرزمین پر موجودگی میں کسی صورت مذاکرات پر تیار نہیں ہوں گے۔ اب حالیہ پالیسی میں امریکا نے طاقت کے ذریعے امن لانے کا اعلان کرکے عملاً افغان مسئلہ کے حل کی کوئی امید بالکل ختم کردی ہے۔ اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ واشنگٹن براہ راست روس، چین یا پاکستان کے ساتھ کسی بھی قسم کا کوئی تصادم کبھی مول لینے کی کوشش نہیں کرے گا۔ امریکی پالیسی بیانات کے بعد مگر یہ بات ظاہر ہورہی ہے کہ وہ افغانستان میں بیٹھ کر ان ممالک کو دہشت گردی اور دیگر ہتھکنڈوں کے ذریعے ڈی اسٹیبلائزڈ کرنے اور دباؤ میں لینے کی کوشش مزید تیز کردے گا۔ اسی مقصد کے لیے امریکا شام اور عراق سے فرار ہوتے ہوئے داعش کے دہشت گردوں کو افغان سرزمین پر منظم کررہا ہے اور پچھلے چند دنوں کے درمیان کچھ ایسے واقعات رونما ہوئے ہیں جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ داعش کا خطرہ اب روسی سرزمین تک پہنچ چکا ہے۔ اسی طرح چین اس وقت دنیا کے ان چند گنے چنے ممالک میں شامل ہے جن کی اندرونی سکیورٹی کی صورتحال کو آئیڈیل قرار دیا جاسکتا ہے۔ گزشتہ امریکی تاریخ اور اس نئی سلامتی پالیسی کو مگر دیکھا جائے تو یہ خطرہ واضح نظر آرہا ہے کہ امریکہ چین کے پڑوس میں بیٹھ کر اس کی معاشی ترقی کو بریک لگانے کے لیے اس کی سرزمین پر بھی شورش برپا کرنے کی ہرممکن کوشش کرے گا۔

موجودہ حالات میں نظر یہ آرہا ہے کہ روس، چین اور پاکستان کی سلامتی کے لیے امریکا کی نئی سلامتی پالیسی براہ راست خطرات کا باعث اور سکیورٹی رسک ثابت ہوگی۔ اس نئی پالیسی میں قرار دیے گئے حریفوں کے خلاف کوئی کاروائی مگر اس وقت تک ہی عمل میں آسکتی ہے جب تک امریکی افواج افغانستان میں موجود ہیں۔ لہٰذا اس امریکی پالیسی سے نمٹنے کے لیے تینوں ممالک کو افغانستان کے تمام حقیقی اسٹیک ہولڈرز کو جلدازجلد مذاکرات پر قائل کرکے کسی ایک فارمولے پر متفق کرنے کی کوشش کرنی ہوگی مگر اس تمام مذاکراتی عمل سے امریکہ کو ہر صورت دور رکھنا ہوگا ورنہ امریکا کسی صورت ان مذاکرات کو کامیابی سے ہرگز ہمکنار نہیں ہونے دے گا۔ وہیں اس کے ساتھ تینوں ممالک کو ترکی اور ایران کی مدد سے دباؤ ڈال کر افغان حکومت کو مجبور کرنا ہوگا کہ وہ امریکی افواج کی موجودگی کے معاہدے کی مزید توسیع سے انکار کردے۔ کیونکہ جب تک امریکا افغان سرزمین پر بیٹھا رہے گا تمام خطہ غیر مستحکم رہے گا اور تمام ممالک کی سکیورٹی کے لیے خدشات موجود رہیں گے۔