کاش ہم مل جائیں سب نامِ محمد ﷺکے سبب - نوید احمد

پیدائشی طور پر دنیا کا ہر فرد مسلم ہے۔ جی! پھر کہے دیتا ہوں کہ پیدائشی طور پر دنیا کا ہر فرد مسلم ہے۔ یہ میں نہیں کہہ رہا یہ فرمان ہے میری اور آپ کی محبوب ترین ہستی جناب محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کا۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ﷺنے فرمایا: ہر بچہ (اسلامی) فطرت پر ہی پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی، یا مجوسی بنا لیتے ہیں جس طرح جانور صحیح سالم عضو والا بچہ جنتا ہے، کیا تم اس میں سے کوئی عضو کٹا ہوا دیکھتے ہو؟ پھر ابوہریرہ رضی اللہ عنہ یہ آیت آخر تک تلاوت کرتےہیں: اللہ تعالیٰ کی فطرت وہ ہے جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیاہے (صحیح بخاری )۔

دنیا کے کسی بھی خطہ میں رہنا والا فرد دین اسلام پر پیدا ہوتا ہے وہ توحید پرست ہوتا ہے، لیکن جس ماحول میں وہ پلتا بڑھتا ہے، جن خطوط پر اس کے والدین اس کی تربیت کرتے ہیں وہ انہی کو اختیار کر لیتا ہےاور وہی اس کی پہچان بن جاتے ہیں پھر وہ یہودی، نصرانی، ہندو، سکھ، مسلمان، پارسی وغیرہ وغیرہ مذہب سے جانا پہچانا جاتا ہے۔ والدین کی نسبت سے اختیار کی جانے والی یہ پہچان اتنی مضبوط ہوتی ہے کہ اس سے جان چھڑانا بہت مشکل ہو جاتا ہے اگر وہ زندگی کے کسی موڑ پر یہ فیصلہ کر لے کہ مجھے اپنی یہ پہچان بدلنی ہے تو سارا زمانہ اس کا دشمن بن جاتا ہے یہاں تک کہ اس کے والدین بھی۔

مجھے اس پہچان سے کوئی خلش نہیں جو مذہب کے حوالے سے بن جایا کرتی ہے۔ مجھے جس چیز پر سخت کڑھن ہوتی ہے وہ ہے دین اسلام کے پیروکاروں کا فرقوں کی بنیاد پر تقسیم در تقسیم ہوتے چلےجانا۔ یہ تقسیم اختلاف رائے تک محدود رہتی تو یہ معاشرے کے لیے خیر ہی لے کر آتی لیکن مصیبت یہ ہے کہ اس اختلاف رائے نے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دلوں اور رویوں میں اتنی دوریاں پیدا کر دی ہیں کہ اب اگر کوئی آپ کی بات سے اختلاف رکھتا ہے تو وہ آپ کو کافر سمجھتا ہے، آپ سے دنیا کا کوئی معاملہ نہیں کرنا چاہتا۔ ہر گروہ نے اپنی پہچان الگ بنا لی ہے کوئی ہری پگڑی پہنتا ہے، کوئی سفید کوئی سیاہ اور کوئی پگڑی وغیرہ سے آزاد! ہر ایک نے اپنے معبد خانہ کے باہر اپنی پہچان کا بورڈ لگا دیا ہے۔ کہنے کو تو یہ مساجد ہی کہلاتی ہیں لیکن یہ اہل سنت والجماعت دیوبندی مسجد ہے، وہ اہل سنت والجماعت بریلوی مسجد ہے، ساتھ فاصلے پر مسجد اہلحدیث ہے، شہر کے بیچ اہل تشیع کی امام بارگاہ ہے۔ کوئی کسی دوسرے فرقہ کے فرد کو اپنی مسجد میں نماز پڑھتے دیکھتا خوش نہیں ہوتا، وہ چاہتا ہے کہ آپ اس کے رنگ میں رنگ جائیں ورنہ ادھر کا رخ بھی نہ کریں۔ اسلام کسی خاص دن کو، سوائے عیدین کے، منانے کی تعلیم نہیں دیتا لیکن اب یہاں ہر فرقہ دین کی اپنی تشریح کے مطابق مختلف ایام مناتا بھی ہے اور معاشرے کے ہر فرد سے امید رکھتا ہے کہ وہ اس کے ساتھ یہ ایام منائے، اس شوق کی خاطر راستوں کی بندش، عوام کے روزمرہ معمولات و کاروبار کی تباہی سب روا رکھی جاتی ہے لیکن مجال ہے کوئی ان کو روک سکے اور اگر کوئی روکنا چاہے تو اس پر فتوے ہر وقت تیار!

اختلافِ امت کا یہ وہ تکلیف دہ پہلو ہے جس سے امت میں افتراق اور انتشار بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے۔ ہمارے دشمن ہماری اس کمزوری سے بخوبی واقف ہیں اس لیے انہوں نے اس اختلاف کو برقرار رکھنے کے لیے تمام گروہوں کو ہمیشہ ایک دوسرے سے دور رکھا ہے۔ مسلمان دنیا کی واحد ملت ہے جسے اس وقت کفار گاجر اور مولی کی طرح کاٹ رہے ہیں لیکن امت خواب غفلت سے بیدار ہونے کے لیے تیار نہیں ہو رہی۔ سوال یہ ہے کہ یہ اختلاف کیسے ختم ہو؟ اس اختلاف کے خاتمے کا واحد حل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کے ساتھ جڑ جانا ہے، آپ کے ارشادات کی روشنی میں اختلاف رائے کو ختم یا کم کیا جا سکتا ہے۔ آئیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند ارشادات سنیں اور پھر زندگی کا مقصد طے کریں:

آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک قول ہم بچپن سے خطبہ جمعہ میں سنتے ہیں جس کا ایک ٹکڑا کچھ ایسا ہے "سب سے اچھا دور میرا دور ہے پھر اس کے بعد کا پھر اس کے بعد کا"۔ اس قول نبی سے ہمیں جو پیغام ملتا ہے وہ بڑا واضح ہے، اگر کسی کو حق کی طرف پلٹنا ہے اور دیکھنا ہے کہ مسلمانوں کے معاشرے میں بھائی چارہ، اخلاص، اختلاف و نزاع وغیرہ کے معاملات کیسے طے پانے چاہئیں تو اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں اٹھنے والے اسلامی انقلاب کے خدوخال کو دیکھنا ہو گا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کا مطالعہ، آپ کی سیرت و کردار سے آگاہی، آپ کے اقوال کو پڑھنے، سمجھنے اور عمل کرنے سے ہی معاشرہ بدلے گا… لیکن وہ دور دوبارہ نہیں پلٹے گا۔

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: میری اور تمہاری مثال اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی تو پتنگے اور پروانے اس میں گرنے لگے اور وہ ان کو آگ سے ہٹانے لگا۔ میں بھی تمہاری کمروں سے پکڑ پکڑ کر تمہیں جہنم کی آگ سے بچا رہا ہوں لیکن تم میرے ہاتھوں سے نکلے چلے جارہے ہو یعنی جہنم کی آگ میں گرے جارہے ہو۔ یہ حدیث توجہ دلاتی ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تو روشنی کا پیغام لے کر آئے تھے، ہمیں اندھیروں سے، گمراہیوں سے، شرک و بدعات سے دور کرنے آئے تھے لیکن ہم نے مسلکوں اور فرقوں کی جنگ میں ساری امت کو دوبارہ گمراہی میں دھکیل دیا ہے۔ نتیجہ کیا ہے اور کیا ہونے والا ہے؟ سب کے سامنے ہے!

میں نہایت ادب سے تمام مکاتب فکر کے علمائے کرام اور ان کے متبعین کی خدمت میں ہاتھ جوڑ کر یہ درخواست کرتا ہوں کہ خدارا! اب اس سلسلے کو روک دیجیے، ہم نے اپنا بہت نقصان کر لیا، کافروں نے ہمارے ملک کے ملک ادھیڑ ڈالے، ہمارے بچے اور خواتین در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہو گئے، کافر مسجد اقصیٰ اور بیت الحرام کے درپے اور ہمیں اپنی ڈیڑھ انچ کی مسجد عزیز، کفار ہمارے نبی کے کارٹون بنائیں اور ہم رسمی احتجاج تک محدود۔ خدارا! خدارا! اس انتشار کو مزید ہوا نہ دیں۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمودات سے لوگوں کی زندگیاں بدل دیجیے، لوگوں میں اسلام اور جہاد کی محبت پیدا کیجیے۔ یقین کیجیے ایک اللہ، ایک رسول، ایک کتاب اور ایک قبلہ کی طرف جھکنے والے ایسی سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوں گے کہ دشمن ان کی طرف میلی آنکھ بھی ڈالنے سے پہلے سو بار سوچے گا۔ خدارا! ربیع الاول کے اس مبارک ماہ ہی سے آغاز کر دیجیے

جس طرح ملتے ہیں لب نامِ محمد کے سبب

کاش ہم مل جائیں سب نامِ محمد کے سبب

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com