مصیبت اور نعمت کی آزمائش - حافظ محمد زبیر

دوست کا سوال ہے کہ اللہ عزوجل بعض لوگوں کو فتنے، مصائب اور تکالیف کے ذریعے آزماتے ہیں جبکہ بعض کو نعمت، آسائش اور آسانی دے کر آزماتے ہیں جیسا کہ حضرت سلیمان علیہ السلام کو نعمت اور حضرت ایوب علیہ السلام کو مصیبت کے ساتھ آزمایا۔ تو جب اللہ کا مقصود آزمائش ہی ہے تو اللہ عزوجل نے نعمت اور آسانی کے ساتھ سب کو کیوں نہیں آزمایا؟ جبکہ مصیبت کی آزمائش میں عموما لوگ فتنے کا شکار ہو کر ایمان سے بھی جاتے رہتے ہیں۔

اللہ عزوجل ہر انسان کو مصیبت اور نعمت دونوں سے آزماتے ہیں، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے کہ ہم تمہاری آزمائش خیر اور شر دونوں کے ساتھ کرتے رہتے ہیں۔ البتہ یہ بات درست ہے کہ کسی پر نعمت کی آزمائش زیادہ ہوتی ہے اور کسی پر مصیبت کی لیکن مصیبت کی آزمائش سب پر آ کر رہتی ہے کہ کسی کی جسمانی ہو گی تو کسی کی ذہنی، کسی کی مالی ہو گی تو کسی کی بدنی جیسا کہ قرآن مجید میں ہے کہ ہم لازما تمہاری آزمائش ڈر، بھوک، مال ودولت، جان اور فصلوں کے نقصان سے کر کے رہیں گے۔ اب بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری نئی نسل موجودہ آسائشی ماحول کے سبب اس آزمائش کے لیے ذہنا تیار نہیں ہے اور کفر کا اندیشہ بہت بڑھ گیا ہے۔

علماء میں اس بات میں اختلاف ہے کہ صبر کی آزمائش بڑی ہے یا شکر کی۔ یعنی اس کی آزمائش بڑی ہے کہ جسے اللہ نے دے کر آزمایا ہے یا اس کی آزمائش بڑی ہے کہ جسے اللہ نے لے کر آزمایا ہے۔ میری رائے میں ان علماء کی رائے راجح ہے کہ جو یہ کہتے ہیں کہ شکر کی آزمائش بڑی ہے کہ مصیبت میں اکثر کو صبر تو آ ہی جاتا ہے لیکن نعمت میں شکر ادا کرنا بہت مشکل کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن مجید نے کہا ہے کہ میرے بندوں میں بہت ہی کم لوگ شکر گزار ہیں۔

پھر نعمت کی آزمائش ایسی ہے کہ اس کے بارے قیامت والے دن بھی حساب کتاب ہو گا جیسا کہ قرآن مجید میں ہے کہ تم سے قیامت والے دن دنیا کی نعمتوں کے بارے لازما پوچھا جائے گا جبکہ مصیبت کی آزمائش پر حساب نہیں بلکہ اجر ہے جیسا کہ سنن الترمذی کی روایت میں ہے کہ قیامت والے دن سب سے بڑا اجر اس کا ہو گا کہ جس کی آزمائش بڑی تھی۔

بلکہ مصیبت کی آزمائش کا اجر تو دنیا میں ہی ملنا شروع ہو جاتا ہے جیسا کہ صحیح مسلم کی روایت ہے کہ اگر مسلمان کو کانٹا بھی چبھے تو اللہ عزوجل اس کا ایک درجہ بلند کر دیتے ہیں یا اس کا ایک گناہ معاف کر دیتے ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ اللہ عزوجل بندہ مومن کو اس کی جان، مال اور اولاد میں مسلسل آزماتے رہتے ہیں یہاں تک کہ اس کے تمام گناہ معاف ہو جائیں۔ اور قرآن مجید میں ہے کہ اللہ عزوجل اہل ایمان کو مصیبت سے آزمائے بغیر نہیں چھوڑیں گے۔

پھر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فقر وفاقہ کی نسبت آسائش کو بڑی آزمائش کہا ہے جیسا کہ صحیح بخاری کی روایت میں ہے کہ مجھے تمہارے بارے فقر وفاقہ کا اندیشہ نہیں ہے بلکہ اس کا ڈر ہے کہ دنیا تم پر کھول دی جائے اور تم اس میں مقابلے کر کے پچھلی قوموں کی طرح ہلاک ہو جاؤ۔ اور آزمائش کی نعمت میں کامیابی چار طرح سے ممکن ہے؛ صبر کے ذریعے کہ جس میں آزمائش ختم تو نہیں ہوتی لیکن اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی بے چینی سکون میں بدل جاتی ہے۔

دوسرا نماز اور دعا کے ذریعے کہ جس سے آزمائش ٹل جاتی ہے یا کم ہو جاتی ہے۔ تیسرا اپنے سے زیادہ آزمائش والوں میں نظر کے ذریعے کہ اپنے سے کم تر کو دیکھے۔ اگر نئی گاڑی کو اسکریچ آ گیا تو اس کو دیکھے کہ کتنوں کے ڈنٹ پڑ گئے ہیں۔ اور اگر ڈنٹ پڑ گیا ہے تو یہ دیکھے کہ کتنوں کی گاڑی ہی تباہ ہو گئی ہے۔ اور اگر گاڑی تباہ ہو گئی تو یہ دیکھے کہ کتنوں کی جان بھی ضائع ہو گئی اور اس کی بچ گئی وغیرہ۔ شیخ احمد دیدات رحمہ اللہ کو ایسی بیماری لاحق ہوئی کہ جسم حرکت نہیں کر سکتا تھا لیکن انہوں نے دس سال اس بیماری میں کاٹے اور صرف آنکھ کے پپوٹوں سے تبلیغ کرتے تھے۔

اور چوتھا رستہ اہل ایمان کے تعاون کا ہے۔ صحیح مسلم کی روایت ہے کہ جو شخص کسی مسلمان بھائی کی تنگی دور کرے گا تو اللہ تعالی قیامت والے دن اس کی تنگی دور کریں گے تو اگر کوئی مسلمان بھائی کسی آزمائش میں ہے مثلا مالی تنگی ہے تو اس کو دور کرنے میں دوسرے بھائی تعاون کریں۔ اگر وہ مظلوم ہے تو ظالم کے خلاف اس کا ساتھ دیں۔ بہرحال انسان آزمائش کو طبعا ناپسند کرتا ہے، اس میں شک نہیں لیکن اس کو درج بالا ذرائع سے دور یا کم کیا جا سکتا ہے۔

Comments

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر

حافظ محمد زبیر نے پنجاب یونیورسٹی سے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ کامسیٹس میں اسسٹنٹ پروفیسر اور مجلس تحقیق اسلامی میں ریسرچ فیلو ہیں۔ متعدد کتب کے مصنف ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں