"وہ قرض بھی نہیں اتارے جو واجب الادا تھے" - اسماعیل احمد

اردو شعراء کو ہمارے ایک طرزِ عمل پر خاصاسیخ پا ہونا چاہیے کہ ہم ضرورت پڑھنے پر ان کے لاجواب شعروں کو ایسی ایسی جگہوں پر چسپاں کر دیتے ہیں کہ سبحان تیری قدرت۔ ایک بار ایک چھوٹے سے گاؤں کے کسان کونسلر کے امیدوار نے اپنے انتخابی پوسٹر میں عرش ملسیانی کا یہ مشہور زمانہ شعر ٹانک رکھا تھا

وہ مرد نہیں جو ڈر جائے ماحول کے خونی منظر سے

اس حال میں جینا لازم ہے جس حال میں جینا مشکل ہے

اب نجانے ایک چھوٹے سے ہزار پندرہ سو نفوس پر مشتمل گاؤں میں کون سا گھمسان کا رن چل رہا تھا کہ ماحول کے خونی منظر نے امیدوار برائے کونسلر کو اس حال میں جینا لازمی ٹھہرا دیا اور اس پر شومئی قسمت کہ اس نے کونسلری کے حصول کوہی اس صورتِ حال میں جینا گردانا۔

خیر، اس کے علاوہ ہماری قومی سیاست بھی ایسے لطیفوں سے بھری رہتی ہےجیسے اکثر میاں شہباز شریف اپنی پارٹی کے اراکین اور ان کی پرزو ر محنت پر اکھٹے کیے گئے ووٹروں سپورٹروں کے جلسوں میں اپنے ہی دورِوزارتِ عالیہ میں حبیب جالب کی نظم کا یہ مصرع سناتے پائے جاتے تھے کہ

ایسے دستور کو، صبحِ بے نور کو

میں نہیں مانتا، میں نہیں مانتا

حالانکہ اگر آپ کو اس دستور سے اتنا ہی خدا واسطے کا بیر ہے تو وزارتِ اعلیٰ کی کرسی کو خیر باد کہیے اور اپوزیشن میں بیٹھ جائیے اللہ اللہ خیر صلّا۔

اکثر و بیشتر اسکول، کالج اور یونیورسٹیز میں کھیلوں کے مقابلوں میں جب کوئی طالبِعلم کھلاڑی لڑکھڑا کے یا کسی اور وجہ سے بھی گر پڑے اور اردو کمنٹری چل رہی ہو تو یہ شعر ہر جگہ کمنٹیٹرز کی زبان پر ہوتا ہے

گرتے ہیں شہسوار ہی میدان ِ جنگ میں

وہ طفل کیا گرے گا جو گھٹنوں کے بل چلے

حالانکہ موجودہ طفلان و نوجوانان ِ مکتب نے میدان جنگ میں شہسواریاں کیا کرنیں؟ یہ سارے تو بس temple run میں دوڑتے رہتے ہیں بغیر مقصد کے اور انجانی منزلوں کی طرف، لڑکھڑا کے گرنے کی صورت میں جہاں ایک بلا اُچک کےلے جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ورکشاپ کا چھوٹا - سید طلعت حسین

ایک بار بی اے اردو کے پیپر میں فیض احمد فیض کی نظم کے ایک مصرع کی ایک طالبعلم نے جو کلاس لی وہ بھی اپنی مثال آپ تھا۔ شعر تھا

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا

راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا

تشریح کرنے والےنے تشریح کچھ یوں کی۔" چونکہ اس شعر کے شاعر کا محبوب شاعر کو ذرا لفٹ نہیں کراتا اس لیے شاعر بزبان شاعری اپنے آپ سے کہہ رہاہے" انگور کھٹے ہیں، کسی اور درخت پر لٹکیے"۔

اسی طرح امجد اسلام امجد نے ایک واقعہ لکھا تھا کہ ایک باراردو کے پیپر میں سوال آیا کہ "کلنک کا ٹکہ لگنا" کو جملے میں استعمال کریں تو ایک "اردودان" نے جملہ لکھاَ " کل ہمارے محلےمیں کلنک کے ٹیکے لگانے والے آئے تھے۔ میرے سارے گھروالوں نے ٹیکے لگوائے میں گھر پر نہیں تھا اس لیے میں نے ٹیکہ نہیں لگوایا۔"

یہ تمام مثالیں از سرِ نوتروتازہ کرنے کا مقصد ہمارے ایک محبو ب سیاستدان کا تکیہ کلام کی حد تک افتخار عارف کی غزل کا یہ خوبصورت شعر گنگنانے کی عادت ہے

مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے

وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے

کبھی سنتے تھے نذیر ناجی جنابِ نواز شریف کو تقاریر لکھ کر دیا کرتے تھے، آج کل یہ فرائض منصبی سر انجام دینے کی ذمہ داری غالباً عرفان صدیقی اور عطا الحق قاسمی کے سرپر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شریف و آلِ شریف کی گفتگو میں ان کے لبوں، آنکھوں اور ہاتھوں کی جنبش کچھ اور طرح ہوتی ہے جبکہ ادا ہونے والے لفظ کسی اور سمت کا پتہ دے رہے ہوتے ہیں۔ حسین نواز اور حسین شہید سہروردی کا موازنہ ہویا مریم نواز کی "روک سکوتو روک لو!" والی پرفارمنس، میاں صاحب کی بطور وزیرِاعظم " حضور ! یہ ہیں وہ ذرائع" سے لیکر بعد ِ وزیراعظم " مجھے کیوں نکالا؟" کا رٹّا۔ یہ سب انہی اتالیق ِ ادب و دانش کی ذہنی کاوش معلوم ہوتے ہیں جو میاں صاحب کے پاکستان کو قرض کی بھٹی میں جھونک دینے والی صورتِ حال کے بعد بھی قرض سے وابستہ شعر سنا دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   اک اور سیاہ باب - نسیمہ ابوبکر

1999 میں جو ملک کو ڈیفالٹر کرواتے کرواتے رہ گئے اپنے موجودہ دورِ حکومت میں بھی معاشی سنگِ میل صرف اشتہاروں میں ہی عبور کروا پائے۔ صرف بانڈز کی مد میں چھ سو ملین ڈالر کے قرضے پر ساڑھے چار سو ملین ڈالر کا سود پاکستان نے ادا کرنا ہے۔اس کے علاوہ حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے حالیہ دور میں ملکی قرضوں میں 35 فیصد اضافہ ہواہے جس کے بعد اس وقت ملک کا مجموعی قرضہ 182 کھرب 80 ارب روپے تک جاپہنچا ہے۔اب تو فوج نے بھی اس جانب اشارہ کر دیا ہے کہ غیر ملکی قرضوں کا دباؤ ملکی سلامتی پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ توحضور! یہ ہیں وہ قرضے جو واجب الادا تھے مگر کسی آشفتہ سر کو توفیق نہ ہوئی کہ مٹی کی محبت میں ان کا بوجھ بھی دھرتی کے اوپر سے ہٹا جاتا۔ غیرملکی قرضوں میں ڈوبا ہونااور اہلِ سیاست کا پاناموں، اقاموں، سرِ محلوں کی بھول بھلیوں میں گم رہنا پیارے وطن کے ماتھے پر ایسا کلنک کا ٹیکہ ہے جو تب تک ہماری رسوائیوں کا ضامن رہے گا جب تک یہ قرض صفر نہیں ہو جاتااوراس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے وہ تمام لکھاری اور دانشور جنہیں آج کل شاہوں کی مصاحبی سے فرصت نہیں مل رہی قوم ان کی طرف دیکھ رہی ہے اور زبانِ حال سے یہ کہہ رہی ہے

اور بھی دکھ ہیں زمانے میں میاں صاحب کی محبت کے سوا

Comments

اسماعیل احمد

اسماعیل احمد

کمپیوٹر سائنس میں بیچلرز کرنے والے اسماعیل احمد گورنمنٹ کالج آف ٹیکنالوجی ٹیکسلا میں بطور انسٹرکٹر کمپیوٹر فرائض سر انجام دے رہے ہیں۔ ساتھ ہی یونیورسٹی آف سرگودھا سے انگلش لٹریچر میں ماسٹرز کر رہے ہیں۔ سیاست، ادب، مذہب اور سماجیات ان کی دلچسپی کے موضوعات ہیں مطالعے کا شوق بچپن سے ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.